مسلم اور مغربی تہذیب کی کشمکش

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مغربی دنیا میں جو سب سے پہلا نظریہ منظر عام پر آیا وہ جاپانی نژداد امریکی مفکر فرانس فو کو یاما کا پیش کردہ نظریہ ؛ تاریخ کی موت ؛ ( the end of the history) تھا، ان کا خیال تھا کہ کمیونزم یا سرد جنگ کے خاتمے کے بعد مختلف نظاموں کے درمیان نظریاتی کشمکش کے زمانے ختم ہوگئے ہیں، اس قسم کے نظریات کا اظہار اس سے قبل کارل مارکس اور ہیگل جیسی فلسفی بھی کرچکے تھے، لیکن فوکویاما کے نظریہ کو جتنی پذیرائی ملی اتنی ہی جلدی یہ نظریہ طاق نسیاں بھی گیا بعد ازاں امریکہ کی ہارڈ یونیورسٹی میں سائنس آف گورنمنٹ کے پروفیسر سمیوئل ھنٹنگٹن نے ؛ تہذیبوں کے تصادم ؛ ( the clash of civilizations ) کا نظریہ پیش کیا، امریکی جریدے فارن افیئرز میں شائع ہونے والے اپنے اس مضمون میں انہوں نے لکھا کی اشتراکی نظام اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا میں مختلف تہذیبوں کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے، سموئیل کا کہنا تھا کی دنیا ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے لیکن ایک بڑا تہذیبی تصادم رونما ہوگا، ھنتنگٹن نے بنیادی طور پر دنیاکو چھ تہذیبی دائرو ں میں تقسیم کیا جن میں مغربی تہذیب، مسلم تہذیب، ہندی تہذیب، جاپانی تہذیب، اور لاطینی امریکہ کی تہذیب شامل ہیں، اگر چہ انہوں نے چھ تہذیبوں کا تذکرہ کیا ہے، اور یہ چھ تہذیبیں اس وقت دنیا میں اپنی شناخت رکھتی ہیں، لیکن اس نے تسلیم کیا ہے کی تصادم کا اصل خطرہ اسلامی اور مغربی تہذیب کے درمیان ہے ۔ مغربی تہذیب جو یورپ اور امریکہ میں پھیلی ہوئی ہے ، یہ تہذیب تحریک احیائے علوم، اصلاح مذہب اور روشن خیالی کی تحریکوں کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے، اس نے جدید جمہوریت اور سرمایہ داری کو جنم دیا ہے، دوسری طرف اسلامی تہذیب ہے جو ایک جداگانہ تہذیب ہے ، تہذیبوں کے مقابلے میں اسلامی تہذیب کی خصوصیت یہ ہے کی اس کے اندر اثر پذیری کی قوت بہت ذیادہ ہے ، گزشتہ پچاس سال میں اپنی اصل بنیادوں کی طرف مسلمانوں کی واپسی کا سفر بڑی تیزی سے جاری ہے اور اس بات کی مغرب کو تشویش ہے، واپسی کے اس سفر کو مغرب آخری آ ئیڈیالوجی سے تعبیر کرہاہے، مغرب کے دل سے اسلامی تہذیب کی اثر پزری کا خوف کبھی ختم نہیں ہوسکا، عالمی شہریت یافتہ فلسفی اور اس کا بر ثرینڈرسل نے ایک مرتبہ اسلامی اور مغربی تہذیب کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کی چھٹی سے لے کر دسویں صدی عیسوی تک کا زمانہ یورپ کا ذہنی تاریکی، وحشیت اور تہذیبی وتمدن کا دور تاریک کہلاتا ہے، جبکہ ٹھیک اسی وقت ہندوستان سے لے کر اسپین تک اسلام کی عالیشان تہذیب دنیا کے تین براعظموں کو روحانی اور سماجی برکات سے نواز رہی تھی، مغربی تہذیب کے ذہن میں اسلامی تہذیب کے بارے میں جو خوف ہے اسی کے سائے وقت کے ساتھ ساتھ گہرے ہوتے جارہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ 9-11 کے بعد عالمی صہونی اور سامراجی ٹولے کے سر خیل یعنی بش نے افغانستان پر چڑھائی کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف جنگ کو ؛ کروسیڈ وار ؛ یعنی صلیبی جنگ سے تعبیر کیا تھا اور یورپ کے محدود ممالک کو چھو ڑ کر باقی سب شیطانی اتحاد کا حصہ ہیں جن کے کمان امریکہ کے ہاتھ میں ہے ، بعد ازاں جب افغانستان و عراق میں خون مسلم سے ہولی کھیلی گئی تو صورت حال مزید تشویشناک ہوگئی، کیونکہ بد قسمتی سے اکثر مسلم ممالک کے حکمران بھی سفارتی و سیاسی سطح پر تو امریکہ کے حلیف تھے یا پھر کھل کر مخالفت کی پوزیشن میں نہیں تھے، چناچہ امریکہ نے عراق کی ہنستی کھیلتی آبادی کو موت کے منہ میں دھکیل دیا، مسلم ممالک کے عوام کی طرف سے تو خاصا ردعمل ہو ا لیکن حکومت کی سطح پر حکمرانوں کی بے حسی نے مغربی سامراج کو مزید حوصلہ فراہم کیا ، اور انہوں نے مسلمانوں کے پیارے محبوب آقا سرور کائناتؐ کی شان اقدس میں تو ہین آمیز خاکہ شائع کرتے ہوئے ان کے ایمان کا امتحان لینا شروع کردیا، ابتداء میں تو مسلمانوں نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیالیکن جب یورپ نے یہ خاکے اپنے دیگر اخبارات میں شائع کرنے شروع کئے تو دنیا بھر میں مسلمانوں کا احتجاج عالمگیر تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کی شکل اختیار کر گیا، امید ہے کہ پاکستان اس وقت جس صورت حال سے دوچار ہے اسے نمٹنے کی صلاحیت سے اللہ نوازے کہ مستقبل میں پاکستانی کسی قسم کی شیعہ، سنی ، وہابی، دیوبندی ، لسانی یا صوبائی تعصب کی واردات کا شکار نہیں ہوںگے یہ پیغام ایک حقیقت ہے ، اسرائیل اور بھارت پاکستان میں کھلم کھلا دہشت گردی میں ملوث ہیں، امریکہ اور مغربی ممالک پس پردہ کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ہلارہی ہیں یہ سب اسلام دشمن قوتیں ہیں، اسلام دراصل سرمایہ داری اور سودی نظام کے خلاف تیغ بے نیام ہے پاکستان کے خلاف ہمیشہ مخالف قوتیں ساشیں کرتی چلی آرہی ہیں جو کہ اندورنی اور برورنی، سیاسی، مذہبی اور معاشی، عدم استحکام جیسے صورت حال سے دوچار رہتا ہے ضرورت اس امر کی ہے ، کہ پاکستان کو مغرب کی تہذیبی بالادستی کی خواہش کو دبانے کیلئے ٹھوس منصوبی بندی کی ضرورت ہے۔