ہیرو سازی

سی پیک کے ثمرات سیمٹنے کا وقت آن لگا ہے ‘ اب کوئی غریب نہیں رہے گا ‘ خوش حالی ہو گی ، غریبی جائے گی ‘ امیری آئے گی، سی پیک گیم چینجر ہے ‘ چین پاکستان کی دوستی ہمالے سے اونچی اور بحیرہ عرب سے گہری ہے ۔ ہم بھی کیاکریں کہ ‘ ماضی پر ستی ہمارا شوق ہے جسے نسیم حجازی نے خوب تڑکا بھی لگادیا ہے ،اس پرستم یہ کہ ہمیں ہیروز کی بھی اشد کمی ہے‘ ،اسی لیے کبھی صدام حسین کے پوسٹر لگا تے ہیں اور کبھی اسامہ بن لادن کے اورکبھی کرنل معمر قدافی کے ۔ پہلی خلیج جنگ میں عراق نے کویت کو فتح کرلیاتھا ‘اس کے جواب میںجارج بش سینئر اقوام متحدہ کی چھتری تلے عراق پر حملہ آور ہوا تو ہمارئے کو ئٹہ ہوٹلو ں میں صدام حسین کے پوسٹر لگے ہوئے تھے ‘ پھر یہ ہیرو زیرو ہوا تو ہم نے نئے ہیرو کی تلاش شروع کر دی ، نظر انتخاب اسامہ بن لادن پر جا ٹھہر ی ‘ ایبٹ آباد کمپا ونڈ کے واقعے کے بعد اب نئے ہیرو کی تلا ش ہے ، در میان میں جسٹس چودھری اورکچھ اور لو گ بھی نمو دار ہوئے اور غائب ہوگئے ۔یہ ہمارا نصیب کہ خطہ پاک میں ہیرو سنتوش کمار تھے تو خطہ کفر میں دلیپ کمار ،اسلامی جمہوریہ والے سلطا ن راہی سے کام چلاتے رہے تو سیما کے اُس پار سیکولر ز کوشاہ رخ خان، سلمان خان ،امیتابھ بچن میسر آئے۔ ایک سروے کے مطا بق ‘ پاکستان میں لال مسجد کے سا نحے سے قبل خود کُش دھماکو ں کا وجو د نہیں تھا ‘ اور پانچ سال پہلے تک ہٹ دھرم تو بہت تھے لیکن کوئی ’’دھرنا‘‘ ٹیکنالو جی سے واقف نہ تھا۔اب کیا کریں کہ نصیب میں بالک ہَٹ ، تریاہَٹ ،راج ہَٹ دھرم دَھرمی ،اور ’’دھرنے ‘‘ہی آئے۔دھندہ زوروںپر ہے ۔ یہ دھندہ بند ہو نہیں سکتا، پیاس کے شہر میں بکتی ہیں سر ابی باتیں ۔جہالت خوب بِک رہی ہے مگر جب اہلِ قلم کی سیل لگی ہو تو جہالت کے بِکنے کا افسوس کو ن کرئے۔

مگر ان سب کے باوجودٹیکنالوجی میں امریکاسے ہرگز پیچھے نہیں ہیں ۔انہوں نے گوگل بنایا ‘ کریم نے گوگل نقشے سے کمائی کی،وہ فیس بک بناکر فارغ ہوئے ہم نے اس کتاب پر جعلی پر وفائلز اور دوستیوں کے ریکارڈ بنا ئے اور ایمان کی حرارت والوں نے تو شب بھر میں مسجد بناڈالی ‘وہ وٹسیپ ایجاد کر تے ہیں اور یہاں وٹسیپ پر ،عاشقان رسول ،دانش مندوںکی فصل،شعرائے مشرق و شمال اور مصنفین کی کھیپ تیار ہوگئی ۔ساوتھ افریقہ میں نیلسن مینڈیلا تو ہمارئے یہاں عائشہ گلالئی ہے ،۔۔کوئی کر لے مقابلہ ۔ہمارا ماضی بعید تو بہت برائٹ ہے لیکن مسئلہ تب آتا ہے جب ماضی قریب کی بات ہو‘ مگر اس میں ہمارا کیا قصور ہے ‘یہ تو نصیب نصیب کی بات ہے جیسی قسمت ،ویسی ٹینشن۔ جیسا منہ ویسی چپیٹر۔اگر اسٹیفن ہاکنگ ،تھامیس الواایڈیسن، آئن اسٹائن ، مارک زبرگ ، اسٹیو جابز، برٹینڈررسل، روسو، چیخوف، مارکس، گوگل، فیس بک، ٹویٹر نے مشرق میں جنم نہیں لیا تو ہم کیا کر یں ۔لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ تہی دامن ہیں یعنی با لکل کنگلے ہیں۔چاقو بازی ہے ‘ دھماکے ہیں ، دہشت گردی ہے ، افغان مہاجرین ہیں، ہمارے پاس عوام ہے اور ماں ہے ۔باقی رہے چوہے تو چوہے کا شکار کر نے والی بلّی کا رنگ سیاہ ہے کہ سفید ۔۔ چو ہے کو کیا فرق پڑتا ہے! ترقی پاکستان میں ایک نیا کلچر جنم لے چکاہے ‘اس کی مثال 12ربیع الاول کے دن بھر مختلف چینلز کے پر و گرامات سے ہوسکتی ہے ۔ مرد وزن پر مشتمل اجتماعات ‘ میک اپ سے مزین دل کش خواتین کا نعتیں پڑھنا ‘ کمرشل و پر وفیشنل اینکرز کا پر و گرامات کی میزبانی اور لیکچر ز ‘ سب سے پہلے عیدیں کمرشل ہوئیں اس کے بعد رمضان کمرشل ہوا ‘طاق راتیں اس مرض کا شکار ہوئیں اور اب ماہ ربیع الاول کے بارہ یوم بھی گئے‘سپریم کورٹ نے شہر کی فضا کو کچھ سنوار ا ہے اور بورڈز اتروادیے ہیں اسی کو اب سومو ٹو نوٹس لینا ہوگا ۔ لتا منگیشکر کی آواز میں ایک نعت ہے جو میری بھی آواز ہے۔
ائے میرے مشکل کُشا،فریا د ہے فریاد ہے
آپ کے ہوتے ہوئے میری دُنیا برباد ہے
بے کس پہ کرم کیجئے سر کار مدینہ
گردش میں ہے تقدیر، بھنور میں ہے سفینہ
کراچی کے رہنے والوںکا نوحہ بھی سنتے چلیں ۔میرتقی میر زندہ ہو تے اور کراچی کے رہائشی ہوتے تو یقینا کسی مشاعرے میں ضرور پڑھتے:
اک شہر ہے کراچی کہ عالم میں انتخاب
رہتے ہیں منتخب ہی یہاں روز گار کے
اپنو ں نے اسکو لوٹ کے ویراںکر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیا ر کے ۔
کبھی کراچی میںفضا میں بہار کے حسین رنگ ،رنگ بدلتا ہوا آسمان،بارش کے بعد مٹی کی سوندھی سوندھی خوش بوہوا کرتی تھی کبھی ہم بھی افق میں ڈوبتے سورج کے رنگ دیکھا کر تے تھے ، جابجا تالاب ،تالاب میں مینڈک ‘ اورمچھلیاں،کھجور کے در خت ،ناریل کے پیڑ ،رات کی رانی کی دھیمی دھیمی خوش بو،فرئر ہال سے کلفٹن تک شاہی تانگے کا سفر ،شفاف پانی پر عکس نظر آتا ،کراچی کے حقیقی باشندے کلفٹن کے سمندر کی لہروںکا مد وجذر کا مشاہدہ کر تے تھے۔ لیکن پھر پتانہیںکیاہو ا ۔ چودھری شجاعت کی زبان میں مٹی پاوجی ۔
ممکنہ طورپر 2030کا میٹرک بور ڈ پیپر‘تاریخ کا یہ ہوسکتا ہے ۔
امپائر کی انگلی کا کیا مطلب ہے ۔
سوشیالو جی ،عمرانیا لو جی ،بیالوجی ،کرمنالو جی اور دھر نالو جی میںکیا فرق ہے
تیسرے گول میز دھرنے میں ہونے والے معاہدے پر کو رٹ نے کیو ں اعتراض کیا ؟
سی پیک کے ثمرات سیمٹنے کا وقت آن لگا ہے، یہ باتیں ہمارے لیے نہیں بلکہ گراں خواب چینیو ںکے لیے ہیں جو آج کل پاکستانی بھائیوں کا کیش بذریعہ ATMبیجنگ میں سمیٹ رہے ہیں ۔ پاک چین دوستی زندہ باد ۔