ایس ایم ای سیکٹر کا ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار

ایس ایم ای (اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز)چھوٹے اور درمیانی درجے کے وہ ادارے ہیں، جو کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے ادارے عام طور پر خانگی ملکیت ہوتے ہیں جو اکیلے، کارپوریشنز یا شراکت داری میں چلائے جاتے ہیں۔ یہ ماحولیاتی استحکام اور ترقی کے حصول کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ 

ایس ایم ای سیکٹر ملکی ترقی میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے، یہ شعبہ ملازمت میں ساٹھ فیصد جبکہ ابھرتی ہوئی معیشت میں قومی آمدنی جی ڈی پی کا چالیس فیصد حصہ شامل کرتے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانی درجے کے اداروں نے کئی کامیاب معیشتوں میں ترقی کے انجن کے طور پر خود کو منوایا ہے ۔ پیداوار، روزگار کے مواقع، برآمدات میں حصہ لینے اور آمدنی کی برابر تقسیم کی سہولت میں ان کا کردار بہت اہم ہے۔ ایس ایم ای سیکٹر وسیع طور پر روایتی کاٹیج اور گھریلو صنعت ‘ دستکاری وغیرہ پر کام کرتا ہے۔ معاشرے کے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو روزگار فراہم کرنا اور نئی مارکیٹس کی شروعات اور ان کی توسیع میں ان کا اہم کردار ہے۔ برآمدکے فروغ کے ذریعہ ادائیگی کے اکائونٹس کے توازن میں عدم توازن کی دشواری کو کم کرنے میںبھی ایس ایم ای کاکردار اہم ہے۔ چھوٹے یونٹس بغیر کسی نقصان کے مکمل صلاحیت کے ساتھ وسائل کو موثر طریقے سے استعمال کرسکتے ہیں ، ایس ایم ایز میںنقصان کا عنصر کم ہوتا ہے۔
دیگر اہم ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت نے بڑے پیمانے پر اس شعبے کو نظرانداز کیا ہے اگرچہ ملک میں ایس ایم ای کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے بہت مضبوط رائے موجود ہے۔ وہ معاشرے کی مختلف اقتصادی سطحوں پر ترقی کے پھل کو منتقل کرنے کے لئے موثر ذریعہ ہیں، یہ ادارے عام آدمی کی معیار زندگی بہتر بنانے ، روزگار پیدا کرنے، اور ملک میں عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ برآمداتی سامان فراہم کرتے ہیں اور ملک کے تجارتی توازن اور موجودہ اکائونٹس کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان فوائد کے باوجود گذشتہ ستر اسی سالوں میں پالیسی سازوں کی طرف سے اس معاشی طبقے کو بڑے پیمانے پر نظرانداز کیا گیا ہے، حال ہی میں اسٹیٹ بنک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایس ایم ای بینک کریڈٹ میں صرف 6 فیصد آرہے ہیں جبکہ 66فیصد کا بڑا حصہ بڑی کارپوریشنز پر جاتا ہے، چھوٹے کاروبار والوں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان میں بینکس عام طور پر چھوٹے کاروباری اداروں کو قرض دینے سے گریز کرتے ہیں، ان اداروں کو اپنے وسائل کے ذریعے یا غیر رسمی کریڈٹ کے ذریعے مالی امداد فراہم ہوتی ہے جو بہت مہنگا ہے، ایس ایم ایز کے لئے بینکس کے پاس سخت قوانین ہیں، ان کو فکسڈ اثاثے رکھنے سے زیادہ قرضہ حاصل ہوتا ہے، اس کے علاوہ ان کے پاس بنیادی ڈھانچے کا انتظام کرنے کے لئے کافی وسائل نہیں ہوتے، اور اپنے چھوٹے سیٹ اپ کے لئے ان کو ٹھوس ریگیولیٹری دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے جس مقصدکے لئے مہنگے کنسلٹنٹس مقرر کرنے کے لئے ان کے پاس کافی وسائل نہیں ہوتے۔ افسر شاہی کے ساتھ معاملات کو دیکھنا بھی ایک مشکل کام ہے۔ بد قسمتی سے یہ صورتحال چھوٹے اداروں کی کھلی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان کا مستقبل روشن ہے، ترقی کا یہ خواب سب سے بہتر احساس ہوسکتا ہے اگر نوجوانوں کو اپنے خیالات کو حقیقت میں بدلنے کا موقع فراہم ہو اور مضبوط ایس ایم ای پالیسی کے فریم ورک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے جس سے کامیابی ملے گی، چھوٹے اداروں کو دودھ، مویشی، باغبانی اور دیگر کام اپنے علاقوں میں شروع کرنے کے لئے ان کی مدد کی جائے اس لئے کہ اس میں نوجوان نسل کے کاروباری مواقع موجود ہیں، اس سے نوجوانوں کی ملازمتوں کی تلاش میں شہری علاقوں میں منتقلی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
عالمی مارکیٹس اور نیٹ ورکس تک بہتر رسائی ایس ایم ایز کی حصہ داری کو مضبوط بناسکتی ہے لیکن تجارتی اور سرمایہ کاری خامیوں نے ان کی شرکت کو کمزور کردیا ہے ۔ اہم سوال یہ نہیں کہ ایس ایم ای نے کیا Produce کیا ہے، جواب یہ ہے کہ اگر وہ اپنی پوری صلاحیت سے کچھ پیدا کرتے ہیں تو پاکستان دنیا کی اقتصادی دوڑ میں آگے نکل جائے گا۔مختلف رکاوٹوں کے باوجود، ایس ایم ایز کا مستقبل روشن نظر آتا ہے کیونکہ حکومت کے علاوہ فنڈز کی دستیابی کے اور بھی ذرائع ہیں، اب وقت مزید کسی تشخیص یا تجویزوں کا نہیں بلکہ کسی عملی اقدامات کا ہے۔
پاکستانی اور چائنیز ایس ایم ایز کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے لئے وسیع امکانات موجود ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تعاون ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی یقینی بنائے گا جس سے ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کوفائدہ ہوگا۔ ایس ایم ای شعبے کو فروغ دیئے بغیر ہم منصفانہ اور مجموعی اقتصادی ترقی نہیں کرسکتے۔سی پیک دنیا کا بڑا اقتصادی منصوبہ ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے ایس ایم ایز کو تیار ہونا چاہئے اور حکومت بھی ا ن کی حوصلہ افزائی کرکے اس اہم منصوبے میں شامل کرے۔ کیونکہ ایس ایم ای سیکٹرکی خواہش ہے کہ دو دوست ممالک کا یہ اہم منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو جو دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اہم ہے۔ حکومت نے حال ہی میں اس سلسلے میں کچھ فیصلے ضرور کئے ہیں، لیکن اس پر ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ایس ایم ایز کی ترقی میں ابھی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیںجن میں مساوات، تحقیقات کی کمی، مارکیٹ تک محدود رسائی وغیرہ۔سرکاری سطح پر ایس ایم ایز کی سرپرستی وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے ملک کی معیشت مضبوط ہوگی اور ساتھ ساتھ نوجوانوں کی اس عمل میں رہنمائی اور حوصلہ افزائی بھی کرنی ہوگی۔ جن کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے اور سرکاری و نجی اداروں میں نوکریوں کی کمی کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہیں۔ ان کو اپنے طور پر چھوٹے کاروبار شروع کرنے اور ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی جائے اور ان کے لئے بہتر مواقع پیدا کئے جائیں، درمیانی درجے کے ادارے بے روزگاری اور ناخواندگی کے خاتمے کے لئے اپنے طور پر کافی کام کر رہے ہیں، اگر بروقت عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو معاشی حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ اور ایس ایم ای سیکٹر مزید فعال نہیں ہو سکے گا۔
عام آدمی اور کاروباری حضرات میں اس سلسلے یں بیداری پیدا کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے، اس لئے کہ ایس ایم ای سیکٹر کی مضبوطی ملکی معاشی ترقی کے لئے بہت اہم ہے۔
کاروبار کے لئے سازگار ماحول پہلی ترجیح ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے اس وقت امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے۔ جس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا حوصلہ اور اعتماد بڑھا ہے۔خاص طور پر محدود آمدنی میں چھوٹے اور ددرمیانی درجے کے کارروبار شروع کرنے والوں کے لئے یہ حوصلہ افزا صورتحال ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے ان اداروں کے کاروباری معاملات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کچھ ایسے ادارے موجود ہیں جو ان کو بہتر طور اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے مشاورتی خدمات کے علاوہ عملی طور پر بھی ان کو مدد فراہم کرتے ہیں، ایسے اداروں میںSME بزنس سلوشنز لمیٹڈ سرفہرست ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے کاروباری طبقے کے لئے برسرپیکار ہے، اور بہتر کارکردگی دکھانے پر ان کی حوصلہ افزائی کا عمل بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ ایس ایم ای بی ایس ایل ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور چھوٹے تاجروں کے لئے ون ونڈوآپریشن سمیت کئی خدمات مہیا کررہا ہے۔ ادارہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے اقتصادی پالیسی تیار کرنے کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔ ادارہ ایک چھت تلے کاروباری برادری کو تمام خدمات فراہم کررہا ہے جو تاجروں کی بڑی اور دیرینہ خواہش تھی، اور کاروباری حضرات کی ایک بڑی تعداد ایس ایم ای بی ایس ایل کے مشاورتی عمل سے استفادہ حاصل کرکے اپنا کاروبار شروع کرنے اور اس کو مزید وسعت دینے کے لئے ادارہ سے ہمہ وقت رابطے میں ہیں ، جس کی ہر سطح پر تعریف کی جارہی ہے۔ ادارہ اپنی ان خدمات کو موجودہ حالات اور ٹیکنالوجیر کے مطابق مزید اورر بہتر بنا کر کراچی کی علاوہ اب ملک کے دیگر شہروں تک پھیلانے کے لئے کام کررہا ہے۔
ایس ایم ایز سیکٹر فلاحی کاموں میں بھی دنیا میں مصروف عمل ہے۔ اس سلسلے میں ایس ایم ای فائونڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو ضرورت مند لوگوں کے لئے کام کر رہی ہے ۔ خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبوں میںنمایاں خدمات انجام دے رہی ہے، اس کے علاوہ سماجی تبدیلی کے لئے بچوں، مزدوروں، خواتین اور کمیونٹی کو با اختیار بنانا بھی اس کا مقصد ہے، غربت کو کم کرنے ،روزگار پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے ان اداروںکی ترقی اس کا مشن ہے۔ ایس ایم ای فائونڈیشن، ایس ایم ای بی ایس ایل کے تعاون سے مختلف ٹیکنالوجیزمیں فنی تعلیم دینے ،خواندگی اور بے روزگاری میں کمی کی سلسلے میں بھی کام کر رہا ہے۔
تمام کا روبار کو چلانے کے لئے کارپوریٹ قانون موجود ہے ،۳۳ سالہ پرانہ کمپنیز آرڈیننس ۴۸۹۱ء کو پارلیمینٹ آف پاکستان نے منسوخ کردیا۔اور اس کی جگہ نیا کمپنیز ایکٹ ۷۱۰۲ء منظور کرلیا ہے۔جو ایک رائے کے مطابق بہت زیادہ بہتر، سادہ، جدید اور بین الاقوامی بہترین پریکٹس کے عین مطابق ہے اس نئے ایکٹ کے مطابق مبہم شقوں کو زیادہ واضح، شفاف اور clarity والی شقوں سے بدل دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ منیجرز کے کام کو بہت آسان بنا دیا گیا ہے۔