ختم نبوت اورمسلم لیگ (ن)

مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف صاحب کے ا یمان پر چند سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ سابق نا اہل وزیراعظم اور ان کے رفقاء وزراء نے توہین رسالتؐ کے قانون میں ترامیم کرکے ایک عظیم گناہ کیا ہے۔ عذر گناہ بدتراز گناہ۔ گناہ کرنے کے بعد احسن اقبال صاحب اورزاہد حامد صاحب صفایاں پیش کرکے کس کودھوکہ دینے کی کوشش فرمارہے ہیں۔ پوری کابینہ‘ سینیٹ اوراسمبلی ماسوائے چند ممبر صاحبان کے اس جرم میں ملوث ہیں۔ حضور اکرمؐ کو ایذا دینا یا شان اقدس میں گستاخی کرنا ایساقبیح جرم ہے جوکبھی بھی معاف نہ ہوگا۔ احسن اقبال صاحب کا یہ کہہ دیناکہ اس کافیصلہ ر وزقیامت ہوگا‘صحیح نہیں۔ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے 1400 سال پہلے کردیا تھا۔ مجرم واجب القتل ٹھہرایاگیا تھا۔ مندرجہ ذیل واقعات سے یہ ثابت ہوجائے گا۔

مدینہ منورہ میں ایک یہودن حضور اکرمؐ کو ایذا دیتی اورشان اقدس میں گستاخیاں کرتی۔ ایک روز حضور اکرم ؐ نے فرمایا ’’کون ہے جو اس کوقتل کرے‘‘ ایک صحابی نے قتل کردیا۔ غزوہ حنین میں بہت مال غنیمت ملا تھا‘ حضور اکرمؐ نے شام سے پہلے سب تقسیم فرمادیا۔ حضور اکرمؐ کی اس ایک دن کی سخاوت بادشاہوں کی عمر بھر کی سخاوت سے بھی زیادہ تھی۔ ایک بدبخت بدو نے حضور اکرمؐ سے کہا کہ ’’میں آپؐ کی تقسیم میں عدل نہیںپاتا‘‘۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا ’’تیرا برا ہو‘ اگر میں عدل نہیںکروںگا تو کون کرے گا‘‘ بدو یہ کہہ کر حضور اکرمؐ کی طرف پشت کرکے چل پڑا۔ حضرت عمر فاروقؓ اٹھے تلوار نکال لی اور عرض کیا ’’میں اس کوقتل کروںگا؟‘‘ حضور اکرمؐ فرمایا اے عمر اس کوجانے دو‘ اسکی ایسی اولاد ہوگی جن کی نمازوں کے سامنے تم اپنی نمازیں حقیر جانو گے۔ قرآن پڑھیں گے مگر حلق سے نیچے نہیں اترے گا‘ نکتہ اس میں یہ ہے کہ قتل سے منع فرمایا‘ قتل کو غلط یا خلاف قانون نہ قرار دیا۔ حرم کعبہ شریف کی حرمت ایسی ہے کہ اس کی حدود میں قتل تو دورکی بات ہے درخت اورگھاس کاٹنے کی بھی اجازت نہیں۔ صحابہ کرامؓ حضوراکرمؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ گھاس کاٹنے کی اجازت مرحمت فرما دی جائے۔ چونکہ ہم اپنے جانوروں کو کھلاتے ہیں اور اپنے گھروں کی چھت پر ڈالتے ہیں۔ اجازت مرحمت فرما دی گئی۔
فتح مکہ پر اللہ تعالیٰ جل شانہ نے حرمت کعبہ اٹھالی‘ حضور اکرمؐ رحمت اللعالمین ہیں‘ عام معافی دے دی‘صرف دس آدمیوں کا حکم فرمایا کہ جہاں ملیں چاہے خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہو قتل کردئیے جائیں۔ یہ دس اشخاص حضور اکرمؐ کو ایذا دیا کرتے تھے‘ علامہ اقبال فرماتے ہیں حضوراکرمؐ کے لباس مبارک کے متعلق کہنا کہ میلا ہے‘ گندہ تودورکی بات‘ گناہ کبیرہ میں سے ہے۔
قرآن الحکیم میں ارشاد ربی ہے جب تم اپنے نفسوں پر ظلم کر بیٹھوں تو میرے حبیبؐ کی خدمت میں حاضر ہوجائو۔ اگر وہ تمہاری مغفرت چاہیں تو تم اللہ کو بخشنے والا مہربان پائو گے۔ اللہ تعالیٰ نے معافی کو حضور اکرمؐ کی سفارش سے مربوط فرمادیا مگر حضور اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والوں کیلئے فرمایا کہ میں انکو نہیں بخشوں گا چاہے آپؐ ان کے لئے ستر مرتبہ استغفارفرمائیں۔ اسی لئے حضور اکرمؐ نے عبداللہ ابن ابی منافق کیلئے استغفار نہ فرمایا نوازشریف کے کئی جرم ہیں۔ 1۔ ختم نبوتؐ کے اقرارنامے میں ترمیم جوکہ مغرب کے کہنے پر کی گئی‘ 2۔نوازشریف نے ایک دفعہ کہاکہ قادیانی میرے بھائی ہیں‘ (استغفراللہ) یہ اسلئے کہ مغرب نے کہا کہ قادیانیوں کے متعلق آئین کی شق کو ختم کریں تو ہم قرضے معاف کرنے کے متعلق سوچیں گے‘3۔ہندوئوںکے متعلق کہا کہ جوتم کھاتے ہو‘ وہ ہم کھاتے ہیں‘ جس کو تم پوجتے ہو‘اس کوہم پوجتے ہیں‘ یہ لکیر کہاں سے آئی‘ 4۔قائداعظم یونیورسٹی کا شعبہ فزکس پروفیسر سلام کے نام سے منسوب کردیا۔ (International Cotton Advisory Committee) ICAC کی ایک سالانہ میٹنگ 1950 یا 1951ء میں پاکستان میں ہوئی تھی۔ اس وقت اسرائیل اس کا ممبر نہ تھا۔ اس کے بعد ICAC نے کئی دفعہ کوشش کی کہ سالانہ میٹنگ پاکستان میں ہو‘ مگر حکومت نہ مانی‘ کیونکہ اگرمیٹنگ ہوتی تواسرائیل جو کہ ICAC کاممبربن چکا تھا‘ بلانا پڑتا۔ اسرائیل کی پاکستان میں کسی بین الاقوامی تقریب میںشرکت‘اسرائیل کو Recongize کے مترادف ہے۔ 2016ء میں ICAC کی میٹنگ پاکستان میں ہوئی‘ اسرائیل کودعوت نامہ دیاگیا اورشاید اس کا نمائندہ شریک بھی ہوا ہو‘ اس پر مذہبی جماعتوں خصوصاً جمعیت علماء اسلام (ف) جو کہ حکومت کی حامی ہے اور مولانا فضل الرحمن صاحب کی حیثیت ایک وزیر کی ہے‘ کیوں احتجاج نہ کیا؟ کیا تمام مذہبی جماعتیں خصوصاً جمعیت علماء اسلام (ف) ا س کا جواب دینا پسند فرمائیں گی؟ یا وہ بھی محترم وزراء کی طرح اس دن کا( جوکہ پچاس ہزاربرس کا ہوگا) کے انتظار میں ہیں؟