سندھ میں فیسٹولا مراکز ‘اعلانات نہیں اقدامات کی ضرورت

پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے سابق جنرل سیکریٹری اور نیشنل فورم فار ویمن ہیلتھ کے روح رواں ڈاکٹر شیر شاہ سید نے عدالت عالیہ سندھ سے رجوع کیا ہے کہ سندھ میں فیسٹولا کا شکار خواتین کے علاج معالجے کی صورتحال نہ گفتہ بہ ہے ہائی کورٹ نے درخواست سماعت کے لئے منظور کی صحت حکام کو طلب کیا اور مزید تفصیلات مانگی ہیں جس کے بعد امید کی جانی چاہئے کہ اس مرض کی شکار خواتین کے لئے سہولتیں اسپتالوں میں دستیاب ہو جائیں گی ویسے تودنیا بھرمیں ہر سال مئی میں فسٹیولا کا عالمی دن منایا جاتا ہے‘ یہ مرض کیا ہے اور سرجری کے جدید طریقے آنے کے بعد کیا اس پر قابو پایا جاسکتا ہے؟ یہ کئی سوالات ہیں جو باالعموم اٹھائے جاتے ہیں کہ آج بھی پاکستان میں عوام کی اکثریت کو اس مرض سے آگاہی نہیں۔

فسٹیولا کیا ہے؟ دراصل حمل اور زچگی کے دوران ماں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی و جہ سے عورتوں کے جسم میں کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں اوراس کے نتیجے میں بعض ایسے عوارض بھی سامنے آتے ہیں جو اسے زندگی بھر کیلئے معذور بنا دیتے ہیں۔ ان بیماریوں اور معذوریوں میں سے ایک فسٹیولا بھی ہے جو ایک ماہرڈاکٹر کے الفاظ میں ’’ نہ صرف جسمانی اذیت کا باعث ہوتاہے بلکہ اس کے شدید نفسیاتی ا ور سماجی منفی اثرات بھی ہوتے ہیں جو عورت کو معاشرے میں تضیحک کا نشانہ بناتے ہیں۔‘‘
فسٹیولا کیوں ہوتا ہے اس کا ایک ہی جواب ہے کہ اگر زچگی کا عمل تربیت یافتہ مڈ وائف یا کسی تجربہ کار طبی ماہر کی بجائے دائی یا نا تجربہ کار کی نگرانی میں خاصی دیر تک جاری ر ہے اور زچگی کے دوران بچے (فیٹس) کا سر پیڑو (پیلوس) میں پھنس جائے تو اس کی وجہ سے مثانے کے پٹھے( عضلات) سر کی مسلسل رگڑ سے کمزور ہوجاتے ہیں اور ان میں سوراخ ہوجاتا ہے جس کے باعث یہ سوراخ پیشاب کے مسلسل بہنے کا سبب بنتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پیشاب نالی کے راستے باہر آنے کی بجائے مسلسل بہنے لگتا ہے کیونکہ یہ کنٹرول سے باہر ہوجاتا ہے اور جب ارادے کے ذریعے کنٹرول کرنے کا نظام کام نہ کرے تو یہ بیماری ویساٹکو جائنل فسٹیولا (VVF) کہلاتی ہے۔
ڈاکٹر شیر شاہ سید ایک مرتبہ طبی سیمینار میں بتا رہے تھے کہ فسٹیولا کی بیماری میں عورت کا پیشاب ہر وقت بہتا رہتا ہے جس کی و جہ سے اکثر شوہر یا سسرال والے اسے گھرسے نکال دیتے ہیں ا ور میکے میں بھی وہ تضحیک کا نشانہ بنتی ہے پھر یہ بھی کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک بیماری ہے جس میں اس خاتون کا کوئی قصور نہیں معاشرہ بھی اسے شرمندہ کرتا رہتا ہے۔
یہ سوال بھی طبی ماہرین اٹھاتے ہیں کہ صرف فسٹیولا ہی کیوں ؟ کبھی کبھی بڑی آنت کے آخری حصے و جائنا کے درمیان کے عضلات میں سوراخ ہوجاتا ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو پاخانہ بھی وجائنا سے باہر آنے لگتا ہے یہ بیماری ریکٹو وجائنل فسٹیولا (RVF) کہلاتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد فسٹیولا ٹھیک نہیں ہوتا اور عورت کی وجائنا سے ہر وقت پیشاب بہتا رہتا ہے‘ جسے روکنے کے ایسے انتظامات کئے جاتے ہیں کہ پیشاب جذب ہوتا رہے۔
فسٹیولا کسی بھی قسم کا ہو‘ یہ شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ ہر وقت پیشاب اورپاخانہ خارج ہونے سے عورت کے جسم سے سخت بدبو آتی ہے۔ اکثر و بیشتر شوہر بیوی کو چھوڑ دیتے ہیں سسرال والے بھی گھر سے نکال دیتے ہیں۔ عام لوگ اسے ناپاک سمجھ کر اس سے دور رہتے ہیں اور جسمانی معذوری کا شکار یہ عورت اپنے والدین کے گھر آکر بھی کسی کونے میں محدود ہوجاتی ہے اور اسے نشانہ نفرت بنایا جاتا ہے۔
کیا فسٹیولا کا علاج ممکن ہے؟ یہ سوال ایک طبی ورکشاپ میں شریک سماجی کارکن نے اٹھایا جس نے بعد میں بتایا کہ اس کے گوٹھ میں اسی بیماری کی چار پانچ کیرئیر خواتین موجود ہیں لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ یہ عارضہ قابل علاج ہے حالانکہ پاکستان میںسیکڑوں ایسی خواتین ہیں جو آپریشن کے بعد صحت یاب ہو کر معمول کی زندگی گزار رہی ہیں ویسے بھی معاشرہ مدد کرے اور ایسی خواتین کی بحالی کیلئے سنجیدہ ہو تو مناسب رہنمائی کے ذریعے اسے ایک بار پھر صحت مند اور اپنے خاندان و بچوں کی دیکھ بھال کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد‘ کراچی‘ پشاور‘ لاڑکانہ‘ کوئٹہ‘ ملتان اور لاہور میں فسٹیولا مفت علاج کے مراکز موجود ہیں جن سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
ہمارے مردانہ معاشرے کی بدنصیبی ہے کہ خواتین کو تحقیرسے دیکھنے کارویہ عام ہے اسے کمتر درجہ دے کر ا یک ایسی مخلوق گردانا جاتا ہے جس پررحم کھایا جائے یا جسے برابرکا درجہ یا مساوی حیثیت دینے پر ہماری مردانگی چیلنج ہو یہی سبب ہے کہ عورتوںکے مسائل کو اہمیت نہیں دی جاتی‘ چونکہ فسٹیولا غریب عورتوں کی بیماری ہے یہ امیروں‘ وزیروں‘ سفیروں‘ ارکان اسمبلی کی بیویوں‘ بیٹیوں یا بہنوں کولاحق نہیں ہوتی‘ اس لئے اس کے اعدادوشمار بھی دستیاب نہیں نہ ہی ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں اس بیماری کا تناسب کیا ہے‘ نہ ہی اس کے علاج معالجے پر وہ توجہ دی گئی ہے جسکی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہزاروں خواتین کی زندگیاں اس بیماری کے باعث تباہ ہوچکی ہیں حالانکہ یہ قابل علاج مرض ہے اور آپریشن کے ذریعے 95 فیصد مریضوں کوٹھیک کیا جاسکتا ہے۔
فسٹیولا کی شکار عورت یا لڑکی کو روز مرہ زندگی میں بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا بھرمیں طبی تحقیق کو آگے بڑھایا جارہا ہے بیماریوں کے علاج پر حکومتیں اور ادارے خطیررقوم خرچ کرکے اپنے عوام کوصحت کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں لیکن ہمارے یہاں یہ چلن نہیں ۔ یہی سبب ہے کہ عوام بھی بیماریوں‘ محرومیوں اورمشکلات کو مقدر کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں حالانکہ ذراسی جستجو محنت اور توجہ کا یا پلٹ سکتی ہے۔ ایسا ہی معاملہ فسٹیولا کا شکار خواتین کا ہے جنہیں علاج کی سہولت مہیا کردی جائے تو وہ صحت یابی کے بعد معمول کی زندگی گزارسکتی ہے۔ فسٹیولا کے عالمی دن پر پاکستان کا ہر شہری اس مرض کی شکار خواتین کے حوالے سے شعوری بیداری کی مہم کو آگے بڑھائے تاکہ صحت مند پاکستان کا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے جو ہمارے اکابرین نے آزادی کی جدوجہد میں دیکھا تھا۔ دعا کی جانی چاہئے کہ نیشنل فورم فار ویمن ہیلتھ اور ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہونگی۔