ہماراہر دن ےومِ دفاع ہے

کالم نگار  |  نعیم احمد

جنگ ستمبر 1965ءہماری تارےخ کا اےک روشن باب ہے۔تب پاکستان کی فوج اور عوام ےکجان ہوکر جارح بھارتی افواج کے سامنے سےسہ پلائی دےوار بن گئی تھیں۔اُنہوں نے بے مثال قوت اےمانی اور جذبہ¿ حرےت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی جرنےلوں کی طرف سے لاہور کے جمخانہ کلب مےں دوپہر کا کھانا تناول فرمانے کی خواہش حسرت مےں بدل کر رکھ دی تھی۔ آزمائش کی اِس گھڑی مےں فوج اور قوم مےں اتحاد وےکجہتی کے جو مناظر دےکھنے کو ملے‘ اُن کےلئے آج بھی اکھےاں ترستی ہےں۔صدر پاکستان جنرل محمد اےوب خان نے 6ستمبر 1965ءکو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”مےرے عزےز ہم وطنو! السلام علےکم‘ دس کروڑ پاکستانےوں کے امتحان کا وقت آن پہنچا ہے۔صبح سوےرے ہندوستان کی فوجوں نے پاکستان کے علاقے پر لاہور کی جانب سے حملہ کےا اور بھارتی ہوائی بےڑے نے وزےرآباد سٹےشن پر ٹھہری ہوئی اےک مسافر گاڑی کو اپنے بزدلانہ حملے کا نشانہ بناےا۔بھارتی حکمران شروع سے پاکستان کے وجود سے نفرت کرتے رہے ہےں اور مسلمانوں کی علےحدہ آزاد مملکت کو اُنہوں نے دل سے کبھی تسلےم ہی نہےں کیا۔ اس لےے وہ اٹھارہ برس سے پاکستان کے خلاف جنگی تےارےاں کرتے رہے ہےں۔ پاکستان کے 10کروڑ عوام جن کے دل مےں ”لا الٰہ الا اللہ محمد الرسول اللہ“ کی صدا گونج رہی ہے‘ اُس وقت تک چےن سے نہےں بےٹھےں گے جب تک دشمن کی توپےں ہمےشہ کےلئے خاموش نہ ہوجائےں۔ بھارتی حکمران شائد ابھی نہےں جانتے کہ اُنہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ہمارے دلوں مےں اےمان اور ےقےن محکم ہے اور ہمےں ےہ معلوم ہے کہ ہم سچائی کی جنگ لڑ رہے ہےں۔ملک مےں آج ہنگامی صورتحال کا اعلان کردےا گےا ہے۔جنگ شروع ہوچکی ہے۔دشمن کو فنا کرنے کےلئے ہمارے بہادر فوجےوں کی پےش قدمی جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی مسلح فوجوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع عطا کےا ہے۔مےرے ہم وطنو! آگے بڑھو اور دشمن کا مقابلہ کرو۔ خدا تمہارا حامی و ناصر ہو۔آمےن۔“
اِس ولولہ انگےز خطاب نے پاکستانی فوج اور قوم کے خون کو گرما دےا تھا۔بس پھر کےا تھا۔پاکستانی شےروں نے نہ صرف بھارتی سورماﺅں کو پسپائی پر مجبور کردےا بلکہ اُنہےں عبرت ناک شکست دے کراُن کے 1200مربع مےل علاقے پر بھی قبضہ کرلےا۔زندہ اور غےور قومےں اپنی تارےخ کے اےسے شاندار لمحات کو ہمےشہ ےاد رکھتی ہےں۔ اس تناظر مےں نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ ہر سال 6ستمبر کو ےومِ دفاع پاکستان بڑے اہتمام و احتشام سے مناتا ہے۔گزشتہ روز بھی اِس حوالے سے اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان‘ لاہور مےں ممتاز صحافی اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن جناب مجےد نظامی کی زےرصدارت اےک خصوصی تقرےب کا انعقاد کےا گےا۔نشست کے مہمانِ خاص پاکستان نےوی وار کالج لاہور کے ڈائرےکٹر رےسرچ کموڈور(ر)نوےد احمد تھے۔اِس موقع پر نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چےئرمےن پروفےسر ڈاکٹر رفےق احمد‘ صوبائی پارلےمانی سےکرٹری رانا محمد ارشد‘ نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سےکرٹری شاہد رشےد اور تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سےکرٹری رفاقت رےاض بھی موجود تھے۔
جناب مجےد نظامی نے عہد رفتہ کو آواز دےتے ہوئے بتاےا کہ جن دنوں دوسری عالمی جنگ زوروں پر تھی‘ تب مےں طالبعلم تھا۔ ہمارے اےک جاننے والے فوجی بھرتی کے دفتر مےں خدمات انجام دے رہے تھے۔اُنہوں نے مجھ سے درےافت کےا کہ برخودار! کےا تم فوج مےں بھرتی ہونا چاہتے ہو؟ مےں نے کہا کہ مےں تو ابھی پڑھنا چاہتاہوں لےکن فوج مےں بھرتی ہونے مےں بھی کوئی حرج نہےں لےکن اِس صورت مےں مَےں نےوی مےں شمولےت کو ترجےح دوں گا۔ اُنہوں نے پوچھا کےا تم تےراکی جانتے ہو؟ مےں نے کہا کہ وہ تو مےں نہےں جانتا۔اُنہوں نے کہا پھر تم کےسے نےوی مےں بھرتی ہوسکتے ہو۔میں نے انہیں پیشکش کی کہ اگر آپ کسی ایسے شخص کو بھرتی کرسکتے ہیں جو تیرنا نہ جانتا ہوتو بندہ حاضر ہے۔بہرحال تےراکی نہ جاننے کے باعث مےں نےوی مےں بھرتی نہ ہوسکا۔ جناب مجید نظامی نے کہاکہ میں ایک پاکستانی کے طور پرپوری ایمانداری سے ہردن کو پاکستان کا یوم دفاع سمجھتاہوں کےونکہ بھارت جیسے متعصب اوردشمن ہمسائے کی موجودگی میں ہمارا ہردن یوم دفاع کی مانند ہے۔ہم نے اقلیت میں ہونے کے باوجود ہندوستان پر ایک ہزار سال تک حکومت کی اور یہی وہ حقےقت ہے جسے ہندوآج تک ہضم نہیں کرپائے۔مسلمان دشمنی کی بنا پر ہی ہندوﺅں نے انگریزوں کو برصغیر پر قبضہ کرنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔آل انڈیا کانگریس کے لیڈر پنڈت نہرو کی اپنی اہلیہ مرچکی تھی اوراس کا ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی بیوی سے معاشقہ چل رہا تھا۔وائسرائے کی طرف سے کانگرےسی رہنماﺅں کی طرفداری کی جارہی تھی اور ہندوﺅں نے بھی آخری وقت تک انگریزوں کا ساتھ نبھایا۔اسی بنا پر انگریزوں نے مسلمان اکثریت کے متعدد علاقے ناجائز طور پربھارت میں شامل کردیے۔گورداسپور کا علاقہ تو بطورخاص بھارت کو دیاگیاتاکہ اسے کشمیر تک رسائی حاصل ہوسکے۔ قائداعظم محمدعلی جناحؒنے کشمیر کوہماری شہ رگ قراردیاتھامگرافسوس کہ یہ شہ رگ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے قبضہ میں ہے۔ہمارے سارے درےا مقبوضہ کشمےر سے پاکستان مےں داخل ہوتے ہےں اور کشمےر پر قبضہ کے باعث بھارت جب چاہے‘ ہمارا پانی بند کرکے ہماری زراعت کو تباہ کرسکتا ہے۔ اس لےے مےں کہتا ہوں کہ ہمےں اپنی شہ رگ ہر قےمت پر بھارتی قبضے سے آزاد کروانی چاہےے‘چاہے اِس کی خاطر ہمےں اےٹمی جنگ ہی کےوں نہ کرنی پڑے۔بھارت ہمارے وجود کے در پے ہے۔ ہمارے اےٹم بم اور مےزائل بھارت سے کہےں زےادہ ترقی ےافتہ ہےں۔قرآنی زبان مےں ےہ دورِ جدےد کے گھوڑے ہےں۔ ہم پر لازم ہے کہ انہےں ہمہ وقت تےار رکھےں۔ مےرا اےمان ہے کہ جب بھی پاکستان اور بھارت مےں جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ پاکستان کو فتح نصےب فرمائے گا۔تقرےب کے دوران کموڈور (ر)نوےد احمد نے ملٹی مےڈےا کی مدد سے 1965ءکی پاک بھارت جنگ مےں پاکستان کی برّی‘ بحری اور فضائی افواج کے کارناموں پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے جناب مجےد نظامی کو اپنے ادارے کا امتےازی نشان بھی پےش کےا۔تقرےب مےں واہگہ بارڈر پر سرشام پرچم اُتارنے کی تقرےب مےں عوام کو فلک شگاف نعروں سے سرشار کرنے والے محمد عمران پاکستان‘ محمد شفےق اور محمد امجد (ڈھول والا) نے بطور خاص شرکت کی اور تقرےب کے ماحول کو ”پاکستان زندہ باد“ اور ”جےوے جےوے پاکستان“ کے نعروں سے گرمائے رکھا۔