کشمیر ابھی ایجنڈے پر موجود ہے!

کالم نگار  |  جاوید صدیق

1965ءکو جنگ ستمبرکے غازیوں اور شہداءکے عزیزوں نے جی ایچ کیو آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی تقریب کا ماحول بے حد جذباتی بنا دیا تھا۔ میجر جنرل (ر) شفیق احمد نے چونڈہ کے محاذ پر پاک فوج کے جوانوں کے بھارتی سورما¶ں سے ہونے والے معرکے کی روئیداد سنائی اور بڑی داد سمیٹی‘میجر جنرل شفیق کو جنگ ستمبر میں بہادری اور جرات پر ستارہ جرات دیا گیا تھا کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں بعض معجزے رونما ہوئے تھے چونڈہ کے محاذ پر بھارت کے دو ما¶نٹین ڈویژنوں نے حملہ کیا تھا لیکن خدا کی قدرت تھی کہ 18 اور 19 ستمبر 1965ء کو چونڈہ پر حملہ کرنے والا ایک بھارتی بریگیڈئر 26 بریگیڈ راستہ بھول گیا اور پوری رات یہ بریگیڈ اندھیرے میں بھٹکتا رہا ۔ اس بریگیڈ کی ناکامی پر بھارتی فوج نے اس کے کمانڈر بریگیڈئر مہندر کور کو بطور سزا ڈیموٹ کر دیا تھا۔ میجر جنرل شفیق کا کہنا تھا اس محاذ پر انہوں نے ایک بھارتی بٹالین کمانڈر سے سٹین گن چھین کر اسے غیرمسلح کر دیا تھا۔ جنرل صاحب جو اب بہت عمررسیدہ ہوگئے ہیں بتا رہے تھے کہ اس وقت ان کے ساتھ کیپٹن وحید کاکڑ تھے جو بعد میں آرمی چیف بنے تھے۔ انہوں نے چونڈہ کے محاذ پر بہادری سے مادر وطن کا دفاع کیا تھا۔ پاک فضائیہ کے ائر وائس مارشل فاروق عمرجو پیرانہ سالی کے باوجود جوان نظر آ رہے تھے نے بتایا کہ ستمبر 1965 ءکی جنگ میں وہ امریکہ کی طرف سے دیئے گئے طیارہ ایف 104 سٹار فائٹر اڑا رہے تھے یہ طیارہ بھارتی فضائیہ کے لئے ایک دہشت تھا جنگ ستمبر کے ایک ہیرو ائر مارشل (ر) نور خان مرحوم نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ پٹھان کوٹ کے علاقہ میں نیچی پرواز کر کے بھارتی فضائیہ کو خوف زدہ کریں۔ انہوں نے دو مرتبہ یہ مشن مکمل کیا۔ ایئر وائس مارشل محمد فاروق کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں ایم ایم عالم نے ایک معرکے میں بھارت کے پانچ طیارے گرا کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
ستمبر 1965ءکی جنگ میں پاک بحریہ میں خدمات انجام دینے والے کموڈور (ر) سکندرحیات نے راج شاہی میں پاک بحریہ کی ایک گن بوٹ کے بھارتی بحریہ کے محاصرہ کو توڑ کر نکل آنے کے معرکہ کی روئیداد سنائی۔
جی ایچ کیو آڈیٹوریم میں یوم دفاع کی یہ تقریب اس لحاظ سے منفرد تھی کہ اس میں جہاں جنگ ستمبر کے غازیوں نے بھارتی افواج سے ہونے والے معرکوں کا ذکر کیا وہاں 1965ءکی جنگ کے ایک اور ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کی بیٹی اور بیٹا بھی موجود تھے۔ میجر عزیز بھٹی شہید جنہیں بی آر بی کے دفاع کے دوران جام شہادت نوش کرنے پر نشان حیدر دیا گیا ان کی بیٹی نے بتایا کہ ان کے والد نے محاذ جنگ سے والدہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی کہ اگر وہ شہید ہو گئے تو ان کے بچوں کی تعلیم کو ان کا مشن سمجھ کر پورا کرنا۔میجر عزیز بھٹی شہید اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا خواب لئے شہید ہوئے۔ یوم دفاع کی تقریب میں جہاں 1965 کی جنگ کے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کیا گیا وہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہادت پانے والوں کے کچھ عزیز و اقارب کو بھی اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ کیپٹن فصیح شہید کی والدہ نے بیٹے کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے ماحول کو سوگوار بنا دیا۔ اسی طرح سپاہی الیاس شہید کے والد کو جب اظہار خیال کے لئے بلایا گیا تو ہال میں موجود ہر ایک کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ تقریب میں بلوچستان میں برپا شورشوں کا ذکر بھی ہوا۔
اس تقریب کو ممتاز ٹی وی کمپیئر طارق عزیز اور کنول نصیر نے کنڈکٹ کیا۔ طارق عزیز نے بتایا کہ 1965 کی جنگ میں وہ اور کنول نصیر دونوں ٹی وی میں نیوز کاسٹرز تھے اور انہوں نے جنگ کے بارے میں خبریں پڑھی تھیں۔
تقریب میں نورجہاں کی بیٹی ظلّ ہما نے اپنی والدہ کا جنگ ستمبر کے ہیروز کے لئے گایا ہوا گیت:
”اے وطن کے سجیلو جوانو میرے نغمے تمہارے لئے ہیں“ گا کر 1965 کی جنگ کی یادوں کو تازہ کر دیا۔
اس تقریب کے آخر میں جو رنگا رنگ گیت پیش کیا گیا اس میں کشمیری حریت پسندوںکا گیت :
”میرے وطن تیری جنّت میں آئیں گے ایک دن“ بھی شامل کر کے جی ایچ کیو کی طرف سے پیغام دیا گیا کہ کشمیر کو فراموش نہیں کیا گیا بلکہ کشمیر ابھی ایجنڈے پر موجود ہے!!!