ذکر ڈاکٹر وزیر آغا کا

کالم نگار  |  ڈاکٹر انور سدید

اردو ادب کی ایک عہد ساز شخصیت، نامور شاعر، ممتاز نقاد اور جدید اردو انشائیہ کو ندرت آشنا کرنے والے تخلیق کار ڈاکٹر وزیر آغا کو ہم سے جدا ہوئے دو سال ہو گئے ہیں۔ 7 ستمبر 2012ءان کی دوسری برسی کا دن ہے لیکن ان دو برسوں میں پوری اردو دنیا میں ان کے افکار و نظریات اور ادبی خدمات کا تذکرہ اس تسلسل اور تواتر سے ہوتا رہا کہ میں انہیں ادبی دنیا سے غیر حاضر تصور نہیں کرتا اور شاید یہ کہنا بھی درست ہے کہ ادیب کا خاکی وجود تو زیرِ لحد چلا جاتا ہے لیکن اس کے خیالات و افکار جو کتابوں میں محفوظ ہوتے ہیں زندہ رہتے ہیں اور اہل خرد و دانش کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے اپنی زندگی فطرت کے اسرار کو کھولنے میں صرف کی اور ایسی کتابیں لکھیں جو ان کی فکری ریاضت کا قیمتی ثمر تھیں اور آج کے انسان کو اس عارفِ ادب سے فیض یاب ہونے کے مواقع فراوانی سے فراہم کرتی ہیں۔ڈاکٹر وزیر آغا کو ان کی دوسری برسی پر یاد کر رہا ہوں تو مجھے سب سے پہلے ان کی کتاب ”مسرت کی تلاش“ یاد آتی ہے جس میں انہوں نے فلسفیانہ سطح پر ثابت کیا کہ حقیقی مسرت روحانی طمانیت عطا کرتی ہے اور یہ عیش کوشی سے بالکل الگ کیفیت ہے۔ اس تصور کے مزید زاوئیے انہوں نے اپنی کتاب ”اردو ادب میں طنز و مزاح“ میں نکھارے اور اس موضوع کی فلسفیانہ بحث کا اطلاق اردو شاعری اور نثر کے قدیم و جدید مزاح نگاروں پر کیا اور ان کی انفرادیت دریافت کی۔ ان کی کتاب ”اردو شاعری کا مزاج“ ان کے عمرانی اور تہذیبی مطالعے کا بہترین ثمر ہے اور اس میں اردو ادب کی تین اہم اصناف گیت، غزل اور نظم کے تخلیقی مزاج کو برصغیر کی مخلوط ثقافت سے دریافت کرنے کی کاوش کی گئی ہے۔ اس کتاب نے ان کی سوچ کا رخ تخلیقی عمل کی طرف موڑ دیا اور انہوں نے تاریخ، فنون لطیفہ میں سے ادب، موسیقی، سنگ تراشی وغیرہ کا تجزیہ کرکے اپنا نظریہ تخلیق پیش کیا اور اسے ”جست“ سے تعبیر کیا جو فن پارے کو وجود میں لانے کا باعث بن جاتی ہے۔وزیر آغا نے روایت کے تسلسل کی کبھی نفی نہیں کی لیکن ”جدیدیت“ کو رواں زمانے کا عمل قرار دیا اور یہ ارتقا کی تشکیل پذیری کرتا ہے۔ اردو تنقید میں ان کی عطا یہ ہے کہ انہوں نے ”امتزاجی تنقید“ کو متعارف کرایا اور یوں فن پارے کی تعبیر کے لئے وسیع تر میدان فراہم کر دیا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی نظریاتی جہت کا یہ اجمال ہے جبکہ ان کا نثر میں تصنیفی کام وسیع الجہات ہے۔ ان کی ایک موضوعی کتابوں میں مسرت کی تلاش۔ اردو ادب میں طنز و مزاح، تخلیقی عمل، اردو شاعری کا مزاج، غالب کا ذوق تماشا اور تصورات عشق و خرد اقبال کی نظر میں شامل ہیں۔ ان کے موضوعات کا تنوع قاری کو متاثر کرتا ہے اور ایک سو سے زیادہ مقالات ان کی کتابوں ”تنقید اور احتساب“ نظم جدید کی کروٹیں ”معنی و تناظر“ ”ساختیات اور سائنس“ دستک اس دروازے پر وغیرہ میں شامل ہیں۔ ان کے انشائیوں کے تین مجموعے خیال پارے، چوری سے یاری تک اور ”سمندر اگر مرے اندر گرے“ اب کلیات کی صورت میں ان کی کتاب ”پگڈنڈی“ میں شامل ہیں۔ وزیر آغا نے اپنی سوانح حیات شاعری میں ”اک کتھا انوکھی“ اور نثر میں ”شام کی منڈیر“ کے عنوان سے لکھی ہے۔وزیر آغا کے دادا گھوڑوں کے سوداگر تھے۔ والد کو انگریزی حکومت نے گھوڑے پال سکیم میں اراضی الاٹ کی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس اراضی کو وزیر آغا نے کاشتکاری کے لئے استعمال کیا اور اپنے خاندان کی عسرت کا مداوا کر دیا۔ وہ بنیادی طور پر شاعر تھے۔ شام کے سائے سے لے کے ”کاسہ¿ شام“ تک ان کی شاعری کے ایک درجن سے زیادہ مجموعے چھپ چکے ہیں اور انہیں نظم جدید کا عہد ساز شاعر تسلیم کیا جاتا ہے جس نے رسالہ ”ادبی دنیا“ اور ”اوراق“ کے وسیلے سے سینکڑوں ادیبوں کی تربیت کی اور اردو ادب کی کہکشاں کو روشن کر دیا۔ وزیر آغا پر پاکستان اور ہندوستان میں پی ایچ ڈی کا کام ہو چکا ہے۔ راقم انور سدید کے علاوہ شاہد شیدائی، ہارون الرشید تبسم، مناظر عاشق ہرگانوی اور رفیق سندیلوی نے ان پر کتابیں لکھی ہیں۔ صدر پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز کے ایوارڈ سے نوازا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے تمام انداز کریمانہ تھے۔ وہ اردو ادب کے محسن بھی تھے اور خدمت گزار بھی۔ آج وہ دنیا میں موجود نہیں لیکن کتابوں کے وسیلے سے ان کا فیض عام جاری ہے اور انہیں مولانا الطاف حسین حالی کے بعد اردو کا اہم ترین نظریہ ساز نقاد تسلیم کیا جاتا ہے۔