خلائ....

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے جرمنی کے شہر برلن میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ تعلقات ٹریک پر آ گئے ہیں۔ ڈرون حملے صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان میں ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں جس سے صورتحال پیچیدہ ہو رہی ہے۔ وزیرخارجہ حنا ربانی کھر اور حکومتی اکابرین اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ڈرون حملوں کے بارے میں ایسے گھسے پٹے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں مگر افسوس تاحال غیرت ایمانی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا جا رہا۔ یہاں تک کہ گذشتہ دنوں جب شمالی وزیرستان میں امریکہ نے آپریشن کی تمام آپشنز میں ناکامی پر ڈرون حملوں کی بارش شروع کر دی جو اب تک کسی نہ کسی صورت میں وقفے وقفے سے جاری ہے تو پاکستان نے امریکی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا تو امریکی سفیر کی طلبی کے اگلے روز ہی امریکہ نے ایک ساتھ تین ڈرون حملے کئے۔ اس موقع پر ہمارے حکمرانوں کا کیا موقف تھا اس نے ساروں کے سر شرم سے جھکا دیئے جب دفترخارجہ کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ ڈرون حملوں پر اقوام متحدہ میں جانے کے علاوہ کوئی اور قابل عمل حل تلاش کریں گے۔ اب تک کون سا قابل عمل حل تلاش کیا گیا ہے اس سوال کا جواب ساڑھے چار سالوں سے عوام حکمرانوں سے پوچھ رہی ہے مگر ابھی تک اس کا جواب نہیں ملا۔ ڈرون حملے سب جانتے ہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ہمارے سے اچھے تو ایران کے صدر احمدی نژاد ہیں جنہوں نے متعدد مرتبہ پاکستان میں ڈرون حملوں کی بھرپور مذمت کی ہے اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف اقدامات کرکے دو ماہ قبل کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈرون حملوں میں 31سو سے زائد افراد اپنی زندگیوں کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد جتنے ڈرون حملے ہوئے ہیں ان حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد یقینا تجاوز کرتی چلی جا رہی ہے لیکن ڈرون حملوں کا آخر کیا جواز ہے۔ یہ ڈرون حملے کس قدر خطرناک ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ امریکی جرنیل جس نے اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے کتاب لکھی ہے اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کمانڈوز کو جو ایبٹ آباد آپریشن میں حصہ لے رہے تھے ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ اگر وہ گرفت میں آ جائےں تو کہا جائے کہ ڈرون گم گیا تھا جس کو تلاش کرنے آئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ڈرون حملوں کی آڑ میں کیا کیا کر سکتا ہے۔ امریکہ کے ایجنٹ دہشت گردوں کی صورت میں ہماری ایٹمی تنصیبات کی تلاش میں ہےں اور ڈرون حملوں کو کل کلاں جواز بنا کر ہماری ایٹمی تنصیبات کو بھی خدانخواستہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ان ڈرون حملوں کا خاتمہ وقت کی اصل پکار ہے۔ ڈرون حملوں کے ذریعے قبائلی علاقہ کی عوام اپنے ہی ملک کے خلاف ہو رہی ہے وہاں سیکورٹی ایجنسیز کو شدید دشواریاں پیش آ رہی ہیں کیونکہ امریکہ وہاں کے محب وطن عوام کو اپنے ڈرون میزائلوں کے ذریعے مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ ایسی خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ شمالی وزیرستان کے متعدد علاقوں میں ڈرون طیارے ہروقت پروازیں کرتے رہتے ہیں جس سے علاقہ میں شدید خوف و ہراس اور بے چینی پائی جاتی ہے لوگ پاکستان آرمی تک کے وجود کو شمالی وزیرستان میں دیکھنے کے لئے تیار نہیں رہے کیونکہ امریکی میڈیا خود افواہیں پھیلاتا رہا ہے کہ پاکستان آرمی نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لئے گرین سگنل دے دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی گذشتہ ساڑھے چار سالوں سے حکومت ہے مگر پیپلزپارٹی بھی مشرف کی کاربن کاپی کی سی حکومت ثابت ہوئی ہے۔ اس نے نہ صرف مشرف حکومت کے اقدامات کو سپورٹ کیا بلکہ ان سے بھی دوقدم آگے نکل گئے اور آج ڈرون حملوں پر سیاست گری کا ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس میں عملیت پسندی اور غیرت ایمانی کا فقدان ہے۔ وزیرخارجہ حنا ربانی کھر اگر جانتی ہیں ڈرون حملوں سے صورتحال پیچیدہ ہو رہی ہے اور یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ ڈرون حملوں کے اس معاملے کو اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی عدالتوں میں نہیں لے جایا جاتا۔ سلامتی کونسل میں یہ معاملہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا۔ کیوں دنیا پر باور نہیں کروایا جاتا کہ امریکہ دہشت گردی کی جنگ کی آڑ میں پاکستان میں دہشت گردی کر رہا ہے کیوں امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اسے ڈرون حملے نہ کرنے کے لئے نہیں کہا جاتا اور کیوں اس پر واضح نہیں کیا گیا کہ اگر اس نے ڈرون حملے کئے اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو پاکستان بھی ڈرون طیارے مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پھر یہ ڈرون طیارے مار گرائے جائیں گے یہ کام زیادہ مشکل نہیں اس کے لئے حکمرانوں کو صرف عوام کے تعاون کی ضرورت ہے مگر سوچ حکمرانوں نے اپنی پالیسیوں اور اقدامات سے خود عوام اور اپنے درمیان بہت زیادہ خلا پیدا کر رکھی ہے۔