جناب عمران خان کا المیہ

کالم نگار  |  قیوم نظامی

تحریک انصاف کے رہنما جناب عمران خان بنیادی طور پر ایک کر کٹر اور کپتان ہیں جن کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں کرکٹ کے لیے بنائی گئی تھیں۔ وہ گیارہ رکنی ٹیم کے کپتان تھے جو ٹیم کو ڈسپلن کے اندر رکھنے اور ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب رہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ یہ سوچنے سے قاصر رہے کہ اس میدان میں انہیں گیارہ نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں سے ڈیل کرنا پڑے گا۔ان کی شخصیت کی ساخت کچھ اس طرح کی ہے کہ ان کے لیے موجودہ سیاسی کلچر کے مطابق ڈھل جانا ممکن ہی نہیں ہے اور یہی ان کا سب سے بڑا سیاسی المیہ ہے کہ وہ قدیم مضبوط اور فیوڈل سیاسی کلچر کو انتخابی سیاست کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جسے صرف اور صرف انقلابی سیاست کے ذریعے ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔جناب عمران خان ، جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے راستے پر چل نکلے ہیں اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔جناب عمران خان سچ اور انصاف کی سیاست کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ ایسے وعدے نہیں کرنا چاہتے جنہیں وہ پورا نہ کرسکیں جبکہ انتخابی سیاست میں بیک وقت کئی اُمیدواروں سے پارٹی ٹکٹ کے وعدے کرنے بلکہ لارے دینے پڑتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور جناب میاں نواز شریف نے معروضی انتخابی سیاست کو بڑی مہارت کے ساتھ سمجھا ، اس پر عمل کیا اور کامیابی حاصل کی۔ محترمہ کو ہر ضلع کی سیاسی شخصیتوں ، برادریوں اور ان کے مزاج کا بخوبی علم تھا۔ وہ منتخب ہونے کے اہل افراد کو عزت سے ملتی تھیں اور اپنی گفتگو سے مطمئن کرتی تھیں۔ ایک ہی انتخابی حلقہ کے تین سے چار اُمیدواروں کو یقین ہوتا تھا کہ پارٹی ٹکٹ ان کو ہی ملے گا۔ جب کوئی بڑا جاگیردار محترمہ سے ملاقات کے لیے آتا تو وہ اُٹھ کر ملتیں اور دروازے تک آکر اسے رخصت کرتیں۔ جناب عمران خان اپنے مزاج کے پیش نظر ایسے سیاسی کلچر کا مظاہرہ نہیں کرسکتے۔ ان کی روایتی سیاسی خامیوں کی وجہ سے سیاستدان ان کو چھوڑ جاتے ہیں۔ جناب معراج محمد خان، جناب راﺅ رشید مرحوم اور جناب میاں ساجد پرویز کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔لاہور کے تاریخی عوامی جلسے کے بعد تحریک انصاف نے سیاسی زلزلہ پیدا کیا جس سے متاثر ہوکر بہت سے انتخابی اُمیدوار جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ جناب عمران خان نے ”اصولی چھاننی“ کو ایک طرف کرکے اپنی پارٹی کے دروازے کھول دئیے۔ تحریک انصاف کے نوجوان جو روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہوکر پارٹی میں شامل ہوئے تھے پرانے چہروں کو دیکھ کر سخٹ مضطرب ہوئے۔ انتخابی سیاست کے ماہر کھلاڑی پارٹی لیڈر سے عزت اور پارٹی ٹکٹ کی توقع رکھتے ہیں۔ جناب عمران خان کے پاس یہ دونوں چیزیں نایاب ہیں۔ ڈی جی خان کے لغاری سابق نگران وزیراعظم جناب بلخ شیر مزاری کو جناب عمران خان کے پاس لے کر آئے انہوں نے کھڑے کھڑے بات کرکے انہیں فارغ کردیا۔ شنید ہے کہ لغاری خاندان بھی تحریک انصاف کو خدا حافظ کہنے کی تیاری کررہا ہے۔ معروضی سیاست کے مطابق وڈیروں کی عزت نفس کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔جناب عمران خان کے ایک قریبی ساتھی کا یہ کہنا درست ہے کہ ”عمران خان میں Capacity نہیں ہے“۔مسلم لیگ (ق) کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ایم این اے سردار طفیل احمد (قصور) ،ان کے بیٹے امجد طفیل ایم پی اے، مہر شاہد منظور گل ایم این اے (شیخوپورہ)، ایم پی اے جاوید گل جو چند ماہ پہلے تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے دوبارہ مسلم لیگ (ق) میں چلے گئے ہیں۔ ایک قابل اعتماد ذرائع نے بتایا کہ سابق اراکین اسمبلی نے گجرات کے چوہدریوں کو بتایا کہ وہ تحریک انصاف میں مطمئن نہیں ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی اصولی نہیں معروضی سیاست کرتے ہیں لہذا انہوں نے اپنے ساتھیوں کو نہ صرف دوبارہ قبول کرلیا بلکہ ان کو ٹکٹ دینے کا بھی اعلان کردیا۔ تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شفقت محمود کے مطابق تحریک انصاف اس مرحلے پر کسی اُمیدوار کو پارٹی ٹکٹ کی یقین دہانی نہیں کراسکتی کیونکہ ٹکٹ آلاٹ کرنے کا فیصلہ پارلیمانی بورڈ جمہوری اصولوں کے مطابق میرٹ پر کرے گا۔ جب سے پی پی پی اور مسلم لیگ (ق) کے انتخابی اتحاد کی خبریں سامنے آئی ہیں مسلم لیگ (ق) کے رہنماﺅں میں یقین پیدا ہوا ہے کہ وہ دونوں جماعتوں کے مشترکہ اُمیدوار کی حیثیت میں انتخابات جیت جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تحریک انصاف کو چھوڑ کر دوبارہ مسلم لیگ (ق) میں شامل ہورہے ہیں۔یہ ایک عارضی منظرنامہ ہے جو انتخابات کا اعلان ہوتے ہی تبدیل ہوجائے گا اور عوام کی اصل سوچ سامنے آئے گی۔ جناب عمران خان کی نیت نیک ہے اور ماضی بے داغ ہے۔ یہ دونوں خوبیاں موجودہ سیاست میں انمول سرمایہ ہیں۔ وہ اگر اصولی اور جمہوری سیاست پر ڈٹے رہے اور پرانے چہروں سے بلیک میل نہ ہوئے تو نوجوان سیاسی کایا پلٹ کر سکتے ہیں۔ البتہ روایتی سیاست کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جناب شاہ محمود قریشی بہت بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پنجاب میں ان کے سیاسی تجربے سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے تاکہ تحریک انصاف کے مقامی اور علاقائی رہنماﺅں کے ساتھ سردمہری کا نہیں گرم جوشی کا مظاہرہ کیا جاسکے۔ پارٹی کے لوگوں کے اعتماد پر پورا اُترنا ان کی عزت نفس کا خیال رکھنا ایک آرٹ ہے۔ شاہ محمود قریشی کے پاس یہ آرٹ موجود ہے وہ تحریک انصاف کو بکھرنے اور منتشر ہونے سے بچاسکتے ہیں بشرطیکہ جناب عمران خان ان پر مکمل اعتماد کریں اور شاہ صاحب بھی خود نمبرون بننے کے خواب نہ دیکھنے لگیں۔