بھارت کے ساتھ دوستی آخر کن اصولوں پر؟

کالم نگار  |  خالد ایچ لودھی

بھارت کی جانب سے پاکستان کے تاجروں کو بھارت میں سرمایہ کاری کیلئے مواقع فراہم کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان کے دو مختلف پارلیمانی وفود بھارت کے دورے پر روانہ ہوئے‘ جن میں پہلا پارلیمانی وفد جہانگیر بدر کی قیادت میں ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماﺅں پر مشتمل تھا اور بعد میں ایک اور پارلیمان وفد جن میں ممبران قومی اسمبلی کے علاوہ ممبران سینٹ اور صحافیوں پر مشتمل وفد بھارت گیا ان دوروں کا مقصد پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے اور دونوں ممالک کے مابین دوستی اور اخوت کے رشتوں کو استوار کرنا تھا۔ سفارتی اور سیاسی سطح پر ہر ملک اپنے پڑوسی ممالک سے اچھے اور مضبوط تعلقات کا خواہاں ہوتا ہے۔ سفارتی وفود کا تبادلہ خوش آئند ہوا کرتا ہے ‘ لیکن یہاں بھارت کے ساتھ پاکستان کا معاملہ مکمل طور پر مختلف نوعیت کا ہے۔ طویل عرصے سے دونوں ممالک کے مابین اعتماد کی فضا کا فقدان ہے‘ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کے الزامات لگاتے رہے ہیں‘ جیسا کہ پاکستان گزشتہ چند سالوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور خاص طور پر 9/11 کے بعد خطے میں صورت حال نے نیا رخ اختیار کر رکھا ہے۔ افغانستان میں نیٹو افواج سمیت امریکہ وہاں موجود ہے اور بھارت کو بھی وہاں کسی نہ کسی حوالے سے کردار سونپ دیا گیا ہے۔ امریکہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاک بھارت تعلقات میں تناﺅ اور وجہ تنازع مسئلہ کشمیر اور پانی کی تقسیم کا مسئلہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے خوشگوار تعلقات ہونے میں پہلی رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے بلوچستان اور سندھ میں تخریبی کارروائیوں میں اپنی خفیہ ایجنسی ”را“ کو جس طرح استعمال کیا ہے اس کی شواہد اب منظر عام پر آ چکے ہیں۔ امریکہ کی پوری کوششیں ہے کہ پاکستان بھارت کی بالادستی قبول کر کے اپنے تعلقات معمول پر لے آئے‘ جبکہ بھارت پاکستان میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کے واقعات میں بدستور ملوث ہے اور بیرونِ مختلف ممالک میں ”را“ نے پاکستان کو بدنام کرنے اور پاکستان کے حساس معاملات میں بے جا مداخلت کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے یعنی اگر آزادی¿ کشمیر کی بات کی جائے تو بھارت اس ساری جدوجہد کو دہشت گردی سے نہ صرف تعبیر کرتا ہے بلکہ وادی¿ کشمیر میں اس جدوجہد کو کچلنے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت مانگنے کی سزا وہاں بھارتی فورسز کے مظالم کی شکل میں دیتا ہے۔ افغانستان میں امریکی پلان کے تحت بھارت کو بالادستی دلوانے اور خطے میں بھارت کا سکہ چلانے کیلئے بھارت کو ہر طرح کی سفارتی‘ سیاسی اور معاشی مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ امریکہ نے بھارت کو سویلین نیو کلیئر ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ بھی فراہم کرنا شروع کر دیا ہے‘ اس کے علاوہ بھارت اور اسرائیل کا ہر شعبے میں باہمی تعاون بھی جاری ہے۔ اس وقت بھارت اسرائیل اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ملک ہے۔ بھارت کی پاکستان کو دوستی کی پیشکش میں پس پردہ بھارت کے انتہائی اہم سٹریٹجک ساتھی اسرائیل کا بھرپور ہاتھ ہے جو کہ اپنے مفادات کی خاطر اس کھیل میں اپنا کردار بھی ادا کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کا خفیہ ایجنڈا ہی کشمیر کی تحریک جہاد کو ختم کرنا ہے۔ ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کو بھارت کے ساتھ روابط اور پارلیمانی وفود کے تبادلوں کے بارے میں دانشمندی کا ثبوت دینا چاہئے تھا۔ پاکستان کی تاجر برادری کا بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہو اور بھارتی معیشت مضبوط ہو جو کہ دراصل پاکستان کو مزید کمزور کرے گی۔ بھارت جس نے کہ کبھی بھی صدق دل سے پاکستان کو آزاد اور خود مختار مملکت تسلیم کیا ہی نہیں اور ہمیشہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہی کام کیا ہے۔ بھارتی فلموں میں پاکستان مخالف رویہ اختیار کر کے پاکستان کے دفاعی اداروں کو کمزور کرنے کی مکروہ کوشش کی ہے اور نوجوان نسل کو پاکستان کے تاریخی پس منظر سے گمراہ کرنے کی بارہا کوشش کی گئی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی بھارتی ثقافتی یلغار کے پاکستان میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں پھر بھی ”امن کی آشا“ کے نام پر بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے اور دونوں ملکوں کی ثقافت کو ایک ساتھ ملانے کی مذموم کوششیں جاری ہیں گزشتہ چار سالوں کے دوران کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر کوئی خاطر خواہ سیاسی یا سفارتی سطح پر کامیابی پاکستان کو حاصل نہیں ہوئی ہے‘ جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر مملکت کی سطح سے لے کر وزارتی سطح تک دونوں ممالک کے مابین مذاکرات کا عمل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس ضمن میں بیک ڈور ڈپلومیسی‘ شٹل ڈپلومیسی‘ کرکٹ ڈپلومیسی اور پھر مزاروں کی ڈپلومیسی مختلف اوقات میں ہوئی ہے‘ لیکن اس کا نتیجہ محض دونوں ممالک کے مابین سفارتی اور رسمی کلمات کا تبادلہ اور فوٹو سیشن کی حد تک ہی محدود رہا ہے جو لوگ بھارت کے ساتھ دوستی کیلئے بے چین نظر آتے ہیں کیا ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ کشمیر جس کو کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اس شہ رگ کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا اور پھر ہمارے اپنے حکمرانوں نے کیا سلوک کیا؟ پاکستان کو بنجر بنانے کے خوفناک منصوبے کی حکمت عملی خود بھارت میں طے ہو چکی ہے ان خوفناک منصوبوں کو بھارت کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے اور اپنی تاجر برادری کو بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کی کس طرح اجازت دے سکتا ہے۔ بھارت کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کے معاہدوں پر دستخط کرنے کا مطلب خود پاکستان کی تباہی کے پروانے پر دستخط کرنا ہو گا۔ کشمیر کے بارے میں بھارت‘ امریکہ اور برطانیہ کی پالیسی میں مکمل اتفاق اس نکتے پر ہے کہ یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے اور جہاد کشمیر کو دہشت گردی قرار دے دیا جائے۔ ماضی میں ممتاز برطانوی مصنف اور دانشور آلسٹرلیمب (Alster Lamb) نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت نے جس نام نہاد ”دستاویز الحاق“ کو بنیاد بنا کر 27 اکتوبر 1947ءکو کشمیر میں اپنی فوجیں اتاری تھیں‘ اس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ تھا۔ مہاراجہ کی طرف سے نہ تو ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کیلئے کوئی درخواست دی گئی تھی اور نہ ہی بھارتی فوجیں ریاست میں اتارنے کیلئے کہا گیا تھا بلکہ ساری کی ساری کارروائی جعلی تھی جس کا مقصد دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر مسلم اکثریت کی اس ریاست پر غاصبانہ تسلط جمانا تھا۔ اگر السٹرالیمب کی یہ بات درست ہے تو پھر کشمیر کے بھارت کے ساتھ جبری الحاق کے بے بنیاد ہونے کیلئے کسی دوسری دلیل کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے۔ ریاست کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس اس اس سے قبل 19 جولائی 1947ءکے اجلاس میں ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا متفقہ طور پر مطالبہ کر چکی تھی۔ اسی بنا پر 1946ءمیں ریاستی اسمبلی کے جو انتخابات ہوئے تھے ان میں مسلمانوں کیلئے مختص اکیس میں سولہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلم کانفرنس ریاستی مسلمانوں کی غیر سرکاری پارلیمنٹ کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ کشمیر کے بھارت کے ساتھ جبری الحاق کی اس سازش میں ہندو کانگریس کے ساتھ انگریز بھی پوری طرح شریک تھے‘ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ پاکستان نے دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہے تو پھر ماضی کو بھی مدنظر رکھے اور اصل مسائل کو حل کئے بغیر کسی بھی طرح ”امن کی آشا“ جیسے دلفریب جالوں میں نہ پھنسے‘ اسی میں پاکستان کی بقا ہے۔