بلوچستان میں انگارے کون بجھائے؟

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، جو پہلے صرف رقبے کے اعتبار سے دیکھا جاتا تھا، اب وقت نے ثابت کیا کہ اس کے مٹی پہاڑ اور سمندر کے نیچے اتنا کچھ پوشیدہ ہے، کہ اُس پر ہماری نظر ہو نہ ہو دشمن کی نظر ہے۔ اور اب تو اس صوبے کی سٹرٹیجک پوزیشن کی اہمیت بھی پاکستان دشمن قوتوں کے نرغے میں ہے، کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں اتنی خفیہ ایجنسیاں کام کر رہی ہیں، اور اس قدر بیرونی دولت کی ترسیل جاری ہے، کہ اگر حکومت پاکستان نے فی الفور اس تنور کو سرد نہ کیا تو اس کی لپٹیں پورے پاکستان تک پہنچ سکتی ہیں، پاکستان پہلے ہی مشرقی پاکستان کی جدائی کے صدمے سے ابھی تک جانبر نہیں ہو سکا اگر اب یہ اہم اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بھی دشمنوں کی دسترس میں آ گیا تو یہ ایک ایسا نقصان ہو گا جو ایک جگہ نہیں تھمے گا، عدالت عظمٰی، اور بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان نے خود جا کر بلوچستان کے حالات کی دگرگوںنی ملاحظہ کی اور سخت پریشانی و افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بلوچستان کو نہ سنبھالا گیا تو یہ خدانخواستہ ہاتھوں سے نکل سکتا ہے۔ یہ نقصان ابھی ہوا نہیں لیکن سیاسی جنون میں ڈوبے حکمران شاید اس کے منتظر ہیں، بلوچستان کے خلاف سازش کا آغاز پرویز مشرف نے کیا۔ اور ایک محبِ وطن پاکستانی لیڈر نواب اکبر بگٹی کو شہید کر دیا، یہ نقطہ¿ آغاز تھا۔ جسے انجام تک پہنچانے کے لئے، بھارت، امریکہ، اسرائیل سرگرم عمل ہیں، بلوچستان میں اسقدر محرومی اور غربت ہے کہ ڈالروں کی بارش مقامی مفلس و قلاش نوجوانوں کو بھی گمراہ کر سکتی ہے، کیونکہ محرومی اور کفر میں فاصلہ بہت کم ہوتا ہے۔ بلوچی محب وطن ہیں، وہاں کے لیڈر محب وطن ہیں، اور نواب اکبر بگٹی کی شہادت نے تو گویا بلوچستان سے متعلق خدشات کو اتنا نمایاں کر دیا ہے، کہ اب بہت زیادہ کوششوں ہی سے حالات میں سدھار پیدا ہو سکتا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کراچی میں تو تھی ہی کہ اب اس نے بلوچستان میں بھی زور پکڑ لیا ہے۔ حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے واضح کر دیا ہے کہ بلوچستان اب حکومت بلوچستان کے قابو میں نہیں رہا تو پھر کیا وفاق، آفاق کی سیر کرتا رہے گا، اور بلوچستان چیلیں اور گدھ لے اُڑیں گے، بلوچستان کے عوام سے یکجہتی کے لئے باقی تینوں صوبوں کے عوام بھی سامنے آئیں، سیاستدانوں کی کھیپ صرف اس لئے نہیں کہ صرف آمدہ انتخابات کی تیاریوں میں جُتی رہے، اُنہیں قومی فریضہ ادا کرنے میں پیش پیش ہونا چاہئے، بلوچستان میں اس وقت اپوزیشن کی موجودگی ضروری ہے، ہماری خفیہ ایجنسیوں کو بھی بیرونی پاکستان دشمن ایجنسیوں کے نیٹ ورک توڑنے ہونگے، جب تک پوری قوم تمام تر اختلافات بھلا کر بلوچستان بچانے کے لئے یکجا نہ ہوں گی، بات نہیں بنے گی، بلکہ اور بگڑے گی، اس ملک میں جو نئے صوبے بنانے کی آگ لگائی جا رہی ہے وہ بے جا ہے، ایک بڑا صوبہ ہاتھوں سے نکل رہا ہو اور طالع آزما نئے صوبوں کی راگنی الاپ رہے ہوں یہ قطعاً حب الوطنی نہیں۔ پاکستان کے چار صوبے ہیں، پاکستان ہنوز نامکمل ہے، کشمیر دشمن کے پنجے میں ہے، امریکہ نے نائن الیون کے بعد پاکستان کو بُری طرح استعمال کیا بلکہ یہ عمل ہنوز جاری ہے، اب یہ سلسلہ ہمیں خود ہی روکنا ہو گا۔ وقت کی دستک پر کان دھرنا ہوں گے اگر بغور دیکھا جائے تو ملک کو چھلنی کر دیا گیا ہے، اب حالت نازک ہے، ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ہماری امریکہ نوازی کا تحفہ ہے کہ آج افغانستان بھارت میں کوئی فرق نہیں۔ بھارت چاہے تو افغان سرحد سے بھی پاکستان کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ افغانستان میں موجود پاک افغان سرحد کے ساتھ 19 بھارتی قونصل خانے بارود خانے ہیں، جو ہمارے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں، ہماری بہادر بری افواج، اور اُن کے کماندار جاگ رہے ہیں، وہ بلوچستان سے بے خبر نہیں، 18 کروڑ عوام کو اُن کی پشت پر تھپکی دینی چاہئے، ایک سازش کے تحت ہماری افواج کے جذبے پست کرنے کی کوشش بھی جاری ہے، اب دونوں طرف نہیں بلکہ چاروں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔ قائد و اقبال کا پاکستان، خطرے سے باہر نہیں، اقتدار، سیاست، مذہب، سماج، عوام، شہروں کی رونق سبھی کچھ پاکستان سے ہے، پاکستان ہے تو سب کچھ ہے، اور اگر اپنا ملک ہی کھو بیٹھے اس کا کوئی صوبہ ضائع کر دیا، تو وقت ہمیں ضائع کر دے گا۔ سیاسی جوڑ توڑ، نفرتوں کے الاﺅ جلانے پر قلم گھسائے جا رہے ہیں، لیکن بلوچستان کے حالات سے باخبر رکھنے کے لئے اب قلم بھی کم پڑ گئے ہیں۔ یہ سیف و قلم، یہ سیاست و قیادت، یہ اقتدار و اختیار سب پاکستان کے دم قدم سے ہے۔ بہت زیادہ بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔ انتخابات اور اُن سے پہلے بلدیاتی انتخابات جمہوری تقاضے ہیں، لیکن ڈرامہ کتنا ہی حسین و دلکش کیوں نہ ہو اُسکے لئے ایک آراستہ و پیراستہ سٹیج کی ضرورت تو ہوتی ہے، اس لئے سب سے پہلے پاکستان اور اس کا مطلب ہے بلوچستان کو بچانا، کراچی کو بچانا، وگرنہ باقی رہ جائیں گی بندر کی آنیاں اور جانیاں۔