سےاست کی نےرنگےاں

صحافی  |  جاوید قریشی

2008کے انتخابات کے بعد جب قومی مفاہمت کی بات چلی اور ملک کی سب سے بڑی جماعت پےپلز پارٹی نے عندےہ دےا کہ وہ تمام سےاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔ ان جگہوں پر بھی جہاں اسے عددی برتری حاصل ہے چنانچہ ملک کی دو بڑی سےاسی جماعتےں پےپلز پارٹی اور مسلم لےگ (ن) وفاق کی لولےشن گورنمنٹ مےں شرےک نظر آئےں۔ اس کولےشن مےں ان دو جماعتوں کے علاوہ اے۔اےن۔پی، متحدہ قومی موومنٹ،جے۔ےو۔آئی۔اےف بھی شرےک تھےں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب مےں مسلم لےگ (ن) کی نمائندگی سب سے زےادہ تھی لےکن ےہاں بھی اگر پےپلز پارٹی چاہتی تو دوسری جماعتوں اور آزاد ارکان کی شراکت سے اپنی حکومت قائم کر سکتی تھی۔ لےکن پےپلز پارٹی کی قےادت نے چارٹر آف ڈےموکرےسی (مےثاق جمہورےت) کا خےال رکھتے ہوئے مسلم لےگ (ن) سے حکومت بنانے کو کہا۔ غرض شروعات اس قدر اچھی تھی کہ ہر کوئی چاہتا تھا کہ معاملات ےونہی چلتے جائےں لےکن ےقےن کسی کو بھی نہ تھا کہ سانجھے کی ہنڈےا بغےر پھوٹے زےادہ نہےں چلے گی۔ وجہ ےہ تھی کہ مسلم لےگ (ن) اور پےپلز پارٹی ازل سے اےک دوسرے کی مخالف تھےں اور ماضی مےں مخالفت کرتے ہوئے بہت دور تک جا چکی تھےں۔ پےپلز پارٹی کی قےادت کے خلاف مقدمات بھی اسی پارٹی کے زمانے مےں بنائے گئے جن کا فےصلہ دس بارہ سال نہ ہو سکا۔ قصہ کوتاہ اختلافات پےدا ہونا شروع ہو گئے۔ مسلم لےگ (ن) وفاقی حکومت سے باہر ہو گئی۔ پنجاب کی کولےشن کے متعلق بھی شبہات پےدا ہونے لگے کہ اب گئی کہ اب گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے وزرا اور قائدےن کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دےتے تھے کہ اس خواہش کا اظہار کر دےں کہ انہےں پےپلز پارٹی کی ضرورت نہےں اور پےپلز پارٹی کے وزرا کو پنجاب کابےنہ سے الگ ہونا چاہئے۔ لےکن پی۔پی وزرا ہر چند کہ شکاےت کرتے رہے کہ ان کے پاس اختےارات نہےں ہےں، کسی ایشو پر ان سے مشاورت نہےں کی جاتی، کابےنہ کے اجلاس کئی کئی مہےنے نہےں ہوتے وغےرہ، ےہ لوگ کابےنہ سے علےحدہ نہ ہوئے۔ تنقےد ہوئی، تذلےل ہوئی لےکن وزارتےں برقرار رہےں اور پےپلز پارٹی کے وزرا غالب کے اس شعر کی تصوےر بنے بےٹھے رہے ....
اس بزم مےں مجھے نہےں بنتی حےا کئے
بےٹھا رہا اگرچہ اشارے ہو اکئے
بالآخر مسلم لیگ (ن) نے دل مےں فےصلہ کر لےا کہ پےپلز پارٹی اگر خود کابےنہ سے رخصت نہےں ہوتی تو اسے نکال دےا جائے۔ طرےقہ ےہ سوچا کہ پےپلز پارٹی حکومت کو اےک دس نکاتی رےفارم اےجنڈہ دے دےا کہ 45 دن کے اندر اندر اس اےجنڈے پر عمل کر کے دکھائےں ورنہ پنجاب کابےنہ سے پےپلز پارٹی کو خدا حافظ کہہ دےا جائے گا۔ ےہ دس نکات ےہ تھے: (1) پٹرولےم مصنوعات کی قےمتوں مےں اضافہ واپس لےا جائے اور اےک اےسا نظام وضع کےا جائے جس سے قےمتوں مےں اتار چڑھاﺅ کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔ (2) جن وزرا اور عہدے داروں پر کولےشن کے الزامات ہےں انہےں فوری طور پر برطرف کر کے ان کی جگہ قابل اور دےانت دار افراد کا تقرر شفاف طرےق سے کےا جائے۔ (3) سےاسی اثر رسوخ کی بنا پر معاف کئے جانے والے قرضے واپس کئے جائےں۔ (4) روزمرہ استعمال کی اشےاءکی قےمتےں اس طرح مقرر کی جائےں کہ عوام پر ان کا بوجھ نہ پڑے، قےمتےں کم کرنے کے لئے مناسب طرےقہ کار مقرر کےا جائے۔ (5) عدلےہ کے تمام احکامات بشمول N.R.O پر فوری عمل درآمد کےا جائے۔ (6) شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے آزاد الےکشن کمےشن قائم کےا جائے۔ (7) سرکاری اخراجات مےں 30 فےصد کمی کی جائے اور کابےنہ کا حجم کم کےا جائے۔ (8) سرکاری تحوےل مےں چلنے والے ادارے جےسے پی۔آئی۔اے ، سٹےل ملز، او جی ڈی سی، پی اےس او، اےن اےچ اے، سی ڈی اے کی تنظےم نو کی جائے تاکہ ان اداروں مےں ہونے والی کرپشن اور بدنظمی کا تدارکہو سکے۔ (9) حج سکےنڈل، اےن آئی اےلمےں اگوسٹا آبدوزوں کی خرےد، سٹےل ملز، بنک آف پنجاب، اےن اےل اےس سکےنڈلز مےں ملوث افراد پر مقدمے چلائے جائےں۔ (10) اےک احتساب کمےشن فوری طور پر قائم کےا جائے۔
مسلم لےگ (ن) کے قائد نواز شرےف نے بالآخر اسلام آباد مےں اپنی جماعت کے اجلاس مےں فےصلہ کےا کہ پےپلز پارٹی سے علےحدگی کا وقت آ گےا ہے۔ اس سے پہلے مٹھن کوٹ کے اےک سےاسی جلسہ مےں بھی نواز شرےف نے ذوالفقار علی بھٹو کے سٹائل مےں عوام سے پوچھا کہ انہےں پےپلز پارٹی سے علےحدہ ہو جانا چاہئے ےا نہےں۔ جواب اثبات مےں ملا تھا۔ چنانچہ اسلام آباد مےں اےک اخباری کانفرنس مےں مےاں نواز شرےف نے اعلان کےا کہ ن لےگ کے فراہم کردہ 10 نکاتی اےجنڈہ جس کی تکمےل کے لئے 45 دن کی مہلت حکومت کو دی گئی تھی اس مےں تکمےل کی رفتار ماےوس کن رہی ہے۔ لہٰذا مسلم لےگ (ن) کے پاس اب کوئی راستہ نہےں رہا ماسوائے اس کے کہ وہ پنجاب حکومت سے پےپلز پارٹی کے وزرا کو خدا حافظ کہیں۔
مےاں نواز شرےف کے اس بےان کے باوجود کہ ن لےگ کے حکومت کو دےئے گئے 10 نکاتی اےجنڈے پر خاطر خواہ پےش رفت نہےں ہوئی ۔ دونوں جماعتوں کی مذاکراتی ٹےمےںمزاکرات کی رفتار سے مطمئن نظر آتی ہےں۔ان کے خےال مےں قابل قدر کامےابی ہوئی اور آئندہ ہفتوں اور مہےنوں مےں مثبت نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔دونوں جماعتوں کا خےال ہے کہ مذاکرات مےں اہم نکات پر جو کامےابی اور اتفاق رائے حاصل کےا جا چکا اسے نظر انداز کرنا فرےقےن مےں سے کوئی نہےں چاہے گا۔ن لےگ کی کمےٹی کے سربراہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اہم اقتصادی اصلاحات پر ہم نے حکومت کی رضا مندی حاصل کر لی ہے جس سے انحراف اب حکومت کےلئے ممکن نہےں۔جب سےنےٹر اسحاق ڈار سے سوال کےا گےا کہ حکومتی ٹےم کے سربراہ وزےر خزانہ حفےظ شےخ کی موجودگی مےں کمےٹی کے اجلاس کے بارے مےں انہوں نے ہمےشہ اطمےنان کا اظہار کےا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے ایشوز پر تفصےل سے بحث کی ہے اور حکومت سے بہت سی باتےں منوا لی ہےں۔سرکاری ٹےم کے ارکان کا بھی ےہی کہنا تھا ان مےں سے اےک نے کہا کہ اب جو فےصلے ہو چکے انہےں ترک کرنا ےا ان سے انحراف ممکن نہےں۔انہوں نے کہا کہ ن لےگ کی قےادت نے اپنی کمےٹی کی سفارشات پرغور نہےں کےا کےونکہ پےپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ مسلم لےگ (ن) کے مطالبات پہ حکومت نے 70 فےصد پر عمل درآمد کر لےا تھا بقےہ 30 فےصدپر بھی عمل درآمد کا راستہ صاف ہو چکا تھا اور ےہ کام بھی چند دنوں مےں مکمل ہو جاتا۔مےاں نواز شرےف نے طوےل وعدہ خلافےوں کی تفصےل بھی اخباری کانفرنس مےں بےان کی جو آصف زرداری صاحب سے سر زد ہوئی تھےں اور جن کا دکھ مےاں صاحب کو تھا۔بات دراصل سےاسی تھی۔ مسلم لےگ (ن) سمجھتی ہے کہ جب کبھی بھی انتخابات ہوئے ان کا مقابلہ پےپلز پارٹی ہی سے ہو گا اور پھر ان انتخابات مےں دونوں جماعتےں اےک دوسرے کی مخالفت مےں اےڑی چوٹی کا زور لگا دےں گی۔نواز شرےف کے صلاح کاروں کی رائے مےں وقت آ گےا تھا کہ انتخابات کی تےاری شروع کی جائے ۔ اس سلسلہ مےں جو رابطے ضروری ہوں وہ رابطے دوسری سےاسی جماعتوں سے کئے جائےں۔ پےپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت مےں مزےد وقت ضائع کرنا بے سود ہے۔پےپلز پارٹی سے پنجاب مےں تعلقات ختم کرنے کی اصل وجہ یہ بنی کہ مسلم لیگ (ق) فارورڈ بلاک جسے unification group کا نام دے کر صوبائی اسمبلی مےں اس کی علےحدہ نشستوں کا اہتمام کرا لےا گےا تھا۔ حکومتی بنچوں پر آ گیا تھا۔
پنجاب اسمبلی مےں ق لےگ کے پارلےمانی لےڈر چوہدری ظہےر الدےن کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے پچھلا انتخاب ق لےگ کے ٹکٹ پر لڑا تھا اور اب ےہ لوگ اگر پارٹی لائن کے خلاف اسمبلی مےں کوئی اقدام کرتے ہےں تو دستور پاکستان کے آرٹےکل (63-A) کے تحت کاروائی ہو سکتی ہے۔ گوےا کہ ےہ لوگ پارٹی پالےسی کے خلاف ووٹ بھی نہےں دے سکتے۔ چوہدری ظہر الدےن کا کہنا ہے کہ وہ ان کے خلاف الےکشن کمےشن اور اگر ضرورت پڑی تو عدلےہ سے بھی رجوع کرےں گے۔ مسلم لےگ (ن) کو اےک اور دشواری کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ پنجاب کے گورنر اےک ماہر قانون دان ہےں ان کی آنکھوں مےں دھول جھونکنا آسان کام نہ ہو گا۔ حکومت پنجاب کو اس کا اندازہ اب تک ہو چکا ہو گا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے رےٹائر ہونے والے تےن وائس چانسلر صاحبا ن سے متعلق سمری گورنر کو ارسال کی گئی تھی۔ حالات و واقعات اور پس منظر اےک سا تھا لےکن حکومت کی جاب سے ان مےں سے اےک کی مدت ملازمت مےں توسےع ےا دوبارہ تقرری کی سفارش اور باقی دو کی ملازمت ختم کنے کی سفارش کی گئی تھی۔ گورنر پنجاب سردارلطےف کھوسہ نے بغےر معقول وجہ بتائے حکومت کی سفارشات کو آئےن اور قانون کے مطابق تسلےم کرنے سے انکار کر دےا۔ ےقےن ہے کہ گورنر پنجاب حکومت کی دےگر سفارشات کو اپنی عمر بھر کی رےاضت کے مطابق پرکھےں گے۔ عےن ممکن ہے اس سے Unification Block کی کابےنہ مےں شمولیت کے راستے مےں رکاوٹےں پےدا ہوں۔ بہر حال ےہ تو اےسی باتےں ہےن جن کا ادراک وقت گزرنے کے ساتھ ہی ہو گا۔
پنجاب کابےنہ سے پےپلز پارٹی وزرا کے نکالے جانے کے بعد بھی پےپلز پارٹی کی قےادت کا اصرار ہے کہ وہ مفاہمتی پالےسی پر گامزن رہے گی اور پنجاب اسمبلی مےں مسلم لےگ (ن) کی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو اسمبلی مےں حکومت کا دفاع کرے گی۔ پےپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ مسلم لےگ (ن) مےثاق جمہورےت پر دستخط کرنے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اےک بار پھر 90 کے عشرے کی \\\"چھانگا مانگا\\\" حکمت عملی پر گامزن ہے۔اس وقت داخلی اور خارجی حالات کا تقاضہ تھا کہ تمام سےاسی جماعتےں پارٹی مفاد سے آزاد ہو کر نےشنل اےجنڈے پر کام کرتےں لےکن ہمارے سےاسی رہنماﺅں کے مفادات قومی مفادات سے کب ہم آہنگ ہوئے تھے جو آج ہو جاتے ...