سنجیاں ہو جان گلیاں

صحافی  |  سعد اللہ شاہ

سعد اللہ شاہ
جب آنکھوں پر حرص ہوس کی پٹی بندھتی ہے تو نہ کچھ دکھائی دیتا ہے اور نہ کچھ سجھائی، ایسے میں عزت نفس اور ضمیر رہن رکھ دیا جاتا ہے۔ جو اپنا نہیں رہتا، وہ ملک کا بھی نہیں ہوتا اور وہ غیرملکی آقاﺅں کے ایجنڈے پر عمل پیرا رہتے ہوئے تمام حدود پار کر جاتا ہے۔ اس کے ذہن کی کیمسٹری بدل جاتی ہے۔ زیب جعفری نے رحمن ملک کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے غیر ذمہ دارانہ بیان انہیں بھارت کے وزیر داخلہ ثابت کرتے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے ان کا بیان ہوش اور حقیقت سے عاری ہے۔ اس سے پہلے شہباز شریف زیادہ سختی سے کہہ چکے ہیں کہ رحمن ملک پنجابی طالبان کی بات کر کے ملک توڑنے کی سازش کی ہے۔
رحمن ملک کی پھرتیاں بہت عرصے سے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں۔ انہیں ان چند لوگوں میں متصور کیا جاتا ہے جنہیں نافذ کیا جاتا ہے۔ صدر وزیراعظم بھی ان کے مشورے سے پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں۔ رحمن ملک کسی اور کی بساط پر کھیل رہے ہیں۔ وہ وزیر داخلہ ہیں مگر وہ کوئی خارجہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں جب سے وہ آئے ہیں پورے ملک میں قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے بے نظیر کی شہادت سے لے کر شہباز بھٹی کے قتل تک کتنے لوگ پیوند خاک ہو چکے ہیں۔ اب مولانا اعظم طارق کے بھائی مولانا احمد مدنی کو ان کے بیٹے سمیت شہید کر دیا گیا ہے۔ رحمن ملک ایک مرتبہ پھر سکرین پر آ کر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا دیں گے۔ یہ صورتحال ریمنڈ کیس کی روشنی میں دیکھی جائے تو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی امریکہ مزید دھمکیاں دے رہا ہے۔ جس کے
جواب میں زرداری صاحب نے کہا ہے کہ امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ زرداری جمع خرچ رکھیں کہ عوام اس حوالے سے دو ٹوک فیصلہ کر چکے ہیں کہ جو ہونا ہے ہو رہے امریکی اثر سے نکل کر رہنا ہے۔ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ زرداری صاحب رحمن ملک سے جان چھڑائیں کہ تمام اپوزیشن کے لوگ بھی دہائی دے رہے ہیں کہ رحمن ملک کو اپنی آستین سے نکالیں اور لنکا بچائیں۔ بات جمشید دستی کی دانشمندانہ بات پر ختم کرنا ہو گی کہ رحمن ملک ہرگز عوامی نمائندہ نہیں ہےں انہیں وزیر داخلہ بنانا کسی بھی صورت صائب نہیں۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک منچلے نے تو شہباز بھٹی کے قتل پر یہاں تک کہہ دیا کہ چاہے پوری کابینہ قتل ہو جائے رحمن ملک استعفی نہیں دیں گے۔ شاید رحمن ملک کے دل میں بھی یہی ہو کہ ”سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے“