راہنما ئے صحافت ۔۔۔۔۔۔جنابِ مجےد نظامی....(۱)

پےر سےد محمد کبےر علی شاہ گےلانی مجددی (سجادہ نشین آستانہ عالیہ چورہ شریف)
صحافت مےں گنے چُنے افراد ہی تھے جنہو ں نے نظرےاتی صحافت کے پےٹرن پر کام کےا ہے وہ اور جنس کے لوگ تھے جو شعبہ صحافت کو ”اےثار پےشہ “سمجھتے تھے مگر مو جودہ دور کی صحافت مےں ”دےنار پےشہ “ لوگ کچھ زےادہ ہی داخل ہو گئے ہےں جو ہر بات کو درہم و دےنار کی ترازو سے تولنے لگے ہےں ،مو لانا محمد علی جوہر مرحوم کے ”کامریڈ“نے انگرےز حکومت کی پرےڈلگوانے میں اہم کردار ادا کیا اور کون نہیں جانتا کہ ان کے مایہ ناز اخبار ”ہمدرد“نے استعمار کے ایجنٹوں اور ایجنڈوں کی طرف سے اڑائی گئی ساری گرد بٹھا دی ،مولانا ظفرعلی خاں کے معروف اخبار ”زمیندار“ کو کون فراموش کر سکتاہے جس نے گورے سامراج کی قبائے زرکو سرِبازار تار تار کر دیا جناب حمید نظامی مرحوم کے ہاتھوں لگاےا گےا پودا ”نوائے وقت“جو اب ایک شجر ِسایہ دار کی حیثےت رکھتا ہے نے ہر دور میں اپنے آپ کو داغِ ندامت سے محفوظ رکھا ہے اور آج آپ کے برادر عزےز جناب مجیدنظامی نے بھی صحافت میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ”دیہاڑےوں“ا ور سیاست کی خاردار ”جھاڑےوں“ سے اپنے دامن کو بچا کر صاف ستھرا رکھا ہوا ہے جناب مجید نظامی بحمدللہ تعالیٰ جنسِ بازار نہیں بنے ،جناب مجید نظامی نے ادارہ نوائے وقت کو فکری غلاظتوں اور مالی کثافتوں سے ہمیشہ محفوظ رکھا،”امن کی آشا“ والو ں نے تو ہمیشہ غےروں کے حقوق کی پاسداری کی اور پرایوں کی ثقافت کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور بدیسی کلچر ”ویلنٹائین ڈے“کو کشور حسین ،پاک سر زمین میں متعارف کروانے کا سہرا بھی ”امن کی آشا “کے گُروں کے سر جاتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے اداراہ کی طرف سے ”ویلنٹائن ڈے“پر خصوصی رنگین اشاعت کا اجراءکر کے اس کی ”اہمیت“کو اجاگر کیا اور دو قومی نظرےہ کی حامل اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پاکیزہ ثقافت پر مغربی کثافت کا لیپ چڑھانے کی بھونڈی کوشش کی مگر صحافت کی تاریخ گواہ ہے کہ ادارہ نوائے وقت نے ہمیشہ اسلامی کلچر کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بدیسی کلچر کی شروع دن سے مخالفت کی ہے اور جنابِ مجید نظامی نے تو ہر پلیٹ فارم پر دو قومی نظریہ کی ڈٹ کر حماےت کی ہے اس پیرانہ سالی کے باوجود کھلم کھلا ہندو بنئے کی مخالفت کرتے ہیں ”امن کی آشا“والوں نے تو”امن کی بھاشا“نکال کے رکھ دی ہے اولیائے کاملین کے خوبصورت تذکرے اور سوانح حیات کو شائع کرنے میں اداراہ نوائے وقت ہمےشہ سر فہرست رہا ہے وطن عزےز کے جینوئن اورممتاز مشائخ عظام سے جناب ِمجید نظامی کی محبت ڈھکی چھپی نہیں ہے بالخصوص آستانہ عالیہ چورہ شرےف کے اکابرےن اور وابستگان سے جس عقےدت ومحبت کا اظہار جناب مجید نظامی فرماتے ہیں صحافتی تارےخ میں اس کی مثال نہیں ہے آستانہ عالیہ چورہ شرےف سے برملا محبت وعقےدت کی وجہ بھی دو قومی نظریہ ہی ہے ،محمد حسےن آزاد مرحوم ،مو لانا الطاف حسےن حالی مرحوم ، مولانا حسرت مو ہانی مرحوم، جنابِ حمےد نظامی مرحوم اےسے جےنوئن لوگ اب شعبہ صحافت مےں ناےاب ہےں جنہوں نے ہر آمر اور جابر کے سامنے کلمہ حق کہنے کی روش کو برقرا ررکھا اور جےل کی سلاخوں کے پےچھے جا کر اور چکی چلا کربھی نعرہ مستانہ بلند کےا ،آج جب ”سوےرے سوےرے “ کسی کالم نگار کی تحرےر پڑھ لےں تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ کل اِس نے کس کے دستر خواں سے اپنے ہاتھ صاف کےے ہےںپل بھر مےں آنکھ جھپکتے ہی اپنا موقف اور نظرےہ بدلنے والے اہل صحافت کی کمی نہےں ہے آج اُس کے دستر خواں پر تو کل کلاں کسی اور کی ڈائےننگ ٹےبل کے مہمان بنے نظر آتے ہےں ، صحافت کے بازار مےں گرگٹ کی طرح اپنی فکر اور نظرےہ بدلنے والے اہل قلم حضرات کی بھر مار ہے آج الا ماشا ءاللہ دےہاڑی پر کالم لکھے جا رہے ہےں بلکہ اگر اِسے کچھ ےوں کہا جائے تو بہتر ہو گا کہ لکھوائے جا رہے ہےں نظرےاتی و فکری صحافت کو اُوڑھنا ، بچھونا سمجھنے والے اکابرےن صحافت مےں اب صرف نوائے وقت گروپ کے چےف اےگزےکٹو ، آبروئے مسند صحافت ، ”اےثارپےشہ “ صحافت کے مردِ حُر جنابِ مجےد نظامی صاحب بقےتہ السلف ہےں جو صحافت کو اےک مقدس پےشہ اور نظرےاتی ادارہ سمجھ کر چلا رہے ہےں اور اےسی ہی فکری و نظرےاتی شخصےات کے بارے مےں کسی شاعر نے درست کہا تھا کہ....
ہے غنےمت کہ جلتے ہےں ابھی چند چراغ
بند ہوتے ہوئے بازار سے اور کےا چاہتے ہو
جناب ِ حمےد نظامی مرحوم نے بھی ہمےشہ اےک مقصد کو سامنے رکھ کر صحافت کی اور ےہ آپ کی جُہد مسلسل ، پُر خلوص کاوش ، نےک نےتی ، پختہ عزم ، دےوانہ وار محنت ، منزل کے حصول کی لگن ،دو قومی نظرےے کی حفاظت کا جنون ہی تھا کہ جس نے آج نوائے وقت گروپ کو پاکستان کا سب بڑا گروپ آف نےوز پےپرز ڈےکلےئر کےا ہے اور فےملی بھر مےںاور دنےا بھر مےں سب سے زےادہ شوق و جذبے سے پڑھا جا نے والا گروپ آف نےوز پےپرز ہے آج اگر جنابِ مجےد نظامی مےں حق گوئی ، راست بازی ،پختہ عزم، آمر ےت کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحےت ، نےک نےتی اور بلند ارادے کی جھلک نظر آرہی ہے تو ےہ جنابِ حمےد نظامی کی تربےت اور صحبت ہی کا اثرہے کہ آج جنابِ مجےد نظامی بھی جابر و ظالم حکمرانوں کے خلاف کلمہ حق کہنے کی صلاحےت سے مالا مال ہےں اور اِس بات سے قطع نظر کہ حکمرانوں کو اگر سچ بات کہہ دی تو وہ ناراض ہو جائےں گے کےونکہ حکمرانوں کی ناراضی اداروں کی بندش کی طرف اشارہ کرتی ہے ، سرکاری اشتہارات کی ترسےل مےں رُکاوٹ کا سبب بنتی ہے مگر جنابِ مجےد نظامی نے اِس بات کی قطعاََ پرواہ نہےں کی کہ نوائے وقت گروپ کے سرکاری اشتہارات بند ہو جائےں گے ”ہتھ ذرا ہولا رکھا جائے“ اور حکمرانوں کو من مانی کر نے اور کُھل کھےلنے کا موقع دےا جائے مگر اکثر دےکھا گےا ہے کہ ےہ چٹائی توڑ،مےدانِ صحافت کا قلندر ،ظالم و جابرحکمرانوں کیلئے گردن توڑ بخار ثابت ہو ا ہے آپ نے ہمےشہ قلم سے تلوار کا کام لےا ہے اور قلم کی آبرو کو کبھی ”جنسِ فروختنی“ نہےں سمجھا ہے ۔ہر ظالم و جابر حکمران نے جنابِ مجےد نظامی کو خرےدنے کی کوشش کی مگر ےہ مردقلندر نہ کبھی جُھکا اور نہ ہی کبھی بِکا ،کےونکہ ....
جو بِک چُکا ہے بازارِ مصطفیٰ ﷺ مےں
وہ کسی اور بازار مےں اب بِکتا نہےں ہے
وقت کے جابر اور ظالم حکمرانوں کو غلط کاموں سے روکنا دراصل اےسا جرات مندانہ کام اُسی شخصےت کے حصے مےں آتا ہے جس کے روشن سےنے مےں عزےمت اور استقامت کا غےر متزلزل دل ہو ، جسے وقت کے حکمرانوں کا بڑے سے بڑا زلزلہ اور قہر بھی ان ارادوں مےں ڈگمگاہٹ پےدا نہ کر سکے ،ملوکےت کے پےکر مےں ڈھلے حکمرانوں کو ان کے اےوانوں سے جاری کی گئی رسوم ِ بد سے روکنا اور بڑھتے ہوئے گندگی و غلاظت کے سےلاب کا رخ موڑنے کے لےے اےسے مردان حُر ہی آگے بڑھ کر پاکےزگی و طہارت کا بندھ باندھتے ہےں اور اےسے مردان ِ حُر معاشرے کے ماتھے کا جھومراور وقار ہوتے ہےں
ےادرہے ہم نہ تو کسی کے مخالف اور نہ ہی کسی کے حاشےہ بردار اور خوشہ چےں ، ہم دراصل اُس سوچ اور ذہنےت کے طرفدار ہو تے ہےں جو ملک و قوم کے لےے مخلصانہ جذبوں سے لےس ہو کر سوچتی ہے اور ہر اُس فکر اور نظرےہ کی مخالفت کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہےں جو غلام ذہنےت کی پےداوار ہوتے ہےں اور غےروں کے اشاروں پر خود بھی ناچتے ہےں اور قوم کو بھی نچانے کی سعی لا حاصل کرتے رہتے ہےں ہم افراد کے نہےں بلکہ افراد کے ذہنوں مےں پرورش پانے والی غلےظ اور تعفن زدہ سوچ کے مخالف ہےں کےو نکہ ہماری دےنی تعلےمات ہمےں گناہگار سے نہےں بلکہ گناہ سے نفرت کا درس دےتی ہےں۔(جاری ہے)