انتظام پنجاب اور سیاسیات ملکی

صحافی  |  عطاء الرحمن

ناشتے کی میز پر میاں شہباز شریف کی گفتگو حسب معمول قومی درد سے لبریز تھی .... کسی بھی محبّ وطن اور باشعور پاکستانی کی مانند پاکستان کے مستقبل کی فکر ان کے خیالات اور طرز بیان پر چھائی ہوئی تھی.... اس حقیقت کو انہوں نے بہت مدلل انداز میں واضح کیا کہ جب تک ہماری قوم اقتصادی لحاظ سے اپنے پاﺅں پر کھڑی نہیں ہو جاتی ملک کو معاشی لحاظ سے گرداب سے نکال کر داخلی وسائل کو پوری طرح بروئے کار نہیں لایا جاتا۔ امریکہ کی ڈکٹیشن جاری رہے گی.... ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اس نے اسی بنا پر ضرورت سے زیادہ غصے کا اظہار کیا ہے۔ دباﺅ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمیں تمام معاملات ہوشمندی سے طے کرنے چاہئیں۔ اپنی آزادی و خودمختاری پر حرف نہیں آنے دینا چاہئے اور کسی کے ساتھ بلاوجہ بگاڑ بھی پیدا نہیں کرنا چاہئے.... شہباز بھٹی کے افسوسناک قتل کے بعد پاکستان کے بارے میں بیرونی دنیا کے تاثر پر مزید منفی اثر پڑا ہے.... مشکلات میں اضافہ ہوا ہے.... تمام فیصلے پانچ فیصد اشرافیہ کرتی ہے.... گرد و پیش خاص طور پر مسلم دنیا میں انقلاب دستک دے رہا ہے اس کی لہریں ہمارے ساحلوں کو بھی چھونا چاہتی ہیں۔ بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ اگر قیادت نے مل کر پورے قومی اتحاد کے ساتھ بنیادی اور درست فیصلے نہ کئے تو آگے کیا ہو گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے خیالات کا مفہوم ہے یہی ہے کچھ باتوں کو انہوں نے آف دی ریکارڈ بھی قرار دیا تاکہ نازک آبگینوں کو ٹھیس نہ لگ جائے۔ میڈیا کے کردار کو سراہا کہ آزادی کے ساتھ حکمرانوں کی خبر لیتا اور انہیں آئینہ دکھاتا ہے البتہ شہباز شریف کے الفاظ میں پاکستان کے شمال اور جنوب میں دو قوتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میڈیا والے خاصی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہیں اس میں پنہاں طنز کا سب نے لطف اٹھایا۔ انہوں نے جو کچھ بھی کہا اس کی اثابت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
میرا سوال تھا۔ یونیفکیشن بلاک کی آئینی و قانونی حیثیت کے بارے میں آپ چاہے جو جواز پیش کریں اخلاقی لحاظ سے وہ بہرصورت وفاداریاں تبدیل کرنے والے لوگ ہیں.... 1997ءمیں میاں نوازشریف کی حکومت تھی تو آپ کی جماعت نے فلور کراسنگ کے خلاف آئینی ترمیم منظور کرائی تھی.... کیا یہ اس کی زد میں نہیں آتے.... پاس بیٹھے رانا ثناءاللہ نے قدرے وضاحت کے ساتھ اپنا آئینی موقف بیان کیا۔ جناب شہباز شریف نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا آپ نے اخلاقیات کی بات کی ہے اس بات کو ضرور سامنے رکھیں کہ یونیفکیشن بلاک کو ہم نے کسی وزارت کی پیشکش کی ہے نہ وہ طلبگار ہیں.... وہ ازخود ہماری حمایت پر آمادہ ہوئے ہیں۔
میں نے وزیراعلیٰ سے پوچھا انتخابات اگر وسط مدتی نہ بھی ہوں تو آئینی مدت پوری ہونے میں زیادہ سے زیادہ دو سال کا عرصہ رہ گیا ہے۔ پیپلز پارٹی اگر مرکز اور تین صوبوں میں حکمران ہے تو آپ کے پاس بھی پنجاب کی حکومت اتنے عرصے سے چلی آ رہی ہے۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل انتخابی اکھاڑے میں اتریں گی تو انہیں عوام کے سامنے اپنی اپنی کارکردگی پیش کرنا ہو گی۔ آپ جب تک پنجاب کی حکومت کو رول ماڈل نہیں بنائیں گے۔ ملکی سطح پر انتخابی مقابلہ آسان نہیں ہو گا۔ میں نے کہا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ گذشتہ تین سالوں میں بھی آپ کی کارکردگی اتنی معیاری تھی۔ کیا اسے سامنے رکھ کر انتخابی کامیابی حاصل کرنا آپ کے لئے آسان ہو گا.... شہباز شریف نے جواب دیا میں نے اپنے پچھلے دور میں جو کچھ کیا اسے مشرف کے آٹھ سالوں میں برباد کر کے رکھ دیا گیا.... مجھے دوبارہ آغاز کرنا پڑا۔ جو ظاہر ہے آسان کام نہیں.... اس پر مستزاد یہ کہ پرانے عہد کے برعکس اس بار وفاقی حکومت کا تعاون حاصل نہیں رہا۔ جس کی بنا پر مشکلات پیدا ہوئیں۔ تاہم میرے لئے اطمینان کی بات یہ ہے میرے ہی دونوں ادوار کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ میرے سامنے ہی میری کارکردگی کا نمونہ پیش کر کے سوال کئے جا رہے ہیں.... شہباز شریف کی گفتگو میں تحمل بردباری اور دلیل کی طاقت تھی تاہم آئندہ دو برسوں کے دوران انہیں اپنے موجودہ دور کو واقعی رول ماڈل بنانا ہو گا.... یہ امر ہی انتخابی کامیابی کا ضامن بنے گا۔