افغانستان ایک چیستان

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

افغانستان کی تاریخ اُٹھا کر دیکھی جائے، تو یہ جہاں قدرتی وسائل اور حسن و جمال سے مالامال ہے، اُس کے ساتھ ہی یہ ایسا مردم خیز خطہ رہا ہے، کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے سائنسدانوں، علماءاور بہادر سورماﺅں نے یہیں جنم لیا، یہی وہ بنیادی بات ہے، جو مختلف حوالوں سے اغیار کو اس پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دیتی رہی ہیں، کیونکہ اس کو جہاں اس کی دولت لوٹنے کا شوق تھا، وہاں یہ ڈر بھی تھا کہ یہاں کے لوگ دانشور اور بہادر ہیں، اگر ملت اسلامیہ کی نشاة ثانیہ ہو گی تو یہیں سے ہو گی، یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور روس کے بعد اب امریکہ نے اس پر قبضہ جمایا ہوا ہے، وہ اس خطے سے مُلا کو نکالنا یا اُس کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے، یہی بات اقبال نے بھی کہی تھی، کہ اگر افغانستان کو مٹانا ہے تو اس سے مُلا کو نکال دو، مُلاہمارے یہاں شاید اور انداز کا سمجھا جاتا ہو، مگر افغانستان میں اس کی صورتحال مختلف ہے۔ مُلا وہ صاحب علم غیور اور ایماندار شخص ہے، جس کے ہونے سے افغانستان پورے عالم اسلام کو متاثر کر سکتا ہے، اور ایسا کرتا رہا ہے، اسلامی تاریخ کی بڑی شخصیات نے اس خطے میں جنم لیا، اور اس قدر علمی ورثہ چھوڑ گیا، جو آج بھی انقلاب کی صورت ظاہر ہوتا رہتا ہے، یہاں کے عام لوگوں پر تو ان قد آور شخصیتوں کے خاصے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ پاکستان جو ایران افغانستان اور شمالی اسلامی ریاستوں کو یکجا کرنے کے لئے ایک محرر کی حیثیت رکھتا تھا اور اب اُس کی یہ حیثیت ختم کر دی گئی ہے، بلکہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں نہ صرف افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، بلکہ پاکستان کی معیشت، برآمد اور سماجی و سیاسی ترقی کو بھی ملیامیٹ کر دیا، چونکہ ہمارے حکمران اپنی کرسی کے لئے امریکہ کے محتاج ہیں، اس عنصر نے بنیادی صنفی رول ادا کیا، اور سیاستِ پاکستان چوں چوں کا مربعہ بن کر رہ گئی، اب ہم اور افغانستان مکمل طور پر امریکہ کے خونیں پنجے میں ہیں، افغانستان میں تو بے گناہ مسلمانوں کو اس تعداد سے قتل کیا جا رہا ہے، کہ اگر عالمِ اسلام نے امریکہ کا ہاتھ نہ روکا، تو افغانیوں کی صرف زمین رہ جائے گی جسے امریکہ اپنا سب سے بڑا اڈا بنا کر چین روس کو بھی فکس اپ کر سکے گا، اور سپر پاور اپنی موجودہ قوت سے بھی کہیں آگے بڑھ جائے گی، پاکستان میں جب تک قیادت کی تبدیلی ہو گی اور کوئی انقلاب آئے گا، سانپ کا کاٹا مر چکا ہو گا۔
اگر پاکستان کے حکمران طالبان کے ہاتھ مضبوط کرتے، تو آج خود بھی امریکہ کی دستبرد سے محفوظ رہتے، افغانستان گیٹ وے تھا جسے پاکستان نے کھولا، اور ملا عمر کی ایک کامیاب حکومت کو ناکام بنا دیا، ہماری حکومت افغانستان کی تباہی میں برابر کی شریک ہے، اس لئے کہ فرنٹ لائن اتحادی بننے کا مطلب وہ طالبان جو ہمارا دست و بازو تھے آج ہمیں بھی امریکی قوت سمجھ کر ہمارے خلاف جہاد کو جائز سمجھتے ہےں، افغانستان کے مٹھی بھر طالبان تو اس نے امریکہ کو ناکوں چنے چبوائے، اگر ہم نے اُن کی حوصلہ شکنی نہ کی ہوتی اور امریکہ کو افغانستان کے خلاف سہولتیں فراہم نہ کی ہوتیں، تو بخدا، یہی طالبان آپ کو کشمیر فتح کر کے دکھا دیتے، مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق آج ہم عوامِ پاکستان ہاتھ مل رہے ہیں اور ہمارے حکمران فقط ڈالروں کی خاطر تالیاں بجا رہے ہیں، بے غیرتی اور اسلام و مسلمان کی دشمنی کی جو مثال ہمارے حکمرانوں نے قائم کی اس پر تو خود امریکہ اسرائیل اور بھارت بھی یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان بکاﺅ مال ہے اسے ڈالروں کے عوض خریدا جا سکتا ہے، افغانستان سے امریکہ کا انخلاءبھی ایک دھوکہ ہے، امریکہ ابھی یہاں سے نہیں جائے گا، اس لئے کہ امریکہ کو افغانستان کو جڑ سے اکھیڑنے کے لئے پاکستانی حکمرانوں کی عملی مدد حاصل ہے، دیر تو لگے گی مگر افغان مجاہدین، سپر پاور کو نکو بنا کر بھاگنے پر بالآخر مجبور کر دینگے مگر کب ابھی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔