اب امریکہ نواز پالیسیاں نہیں چلیں گی

ڈاکٹر نبیلہ طارق
ریمنڈ ڈیوس کی جانب سے پاکستانیوں کے سفاکانہ قتل کے بعد اب پاکستانی قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ امریکی صدر باراک اوبامہ کا ریمنڈ ڈیوس کے لےے سفارتی استثنیٰ مانگنا ہے کہ امریکہ اپنے شہریوں کے لےے کسی اصول یا ضابطے کو پورا کرنے کے لےے تیار نہیں ہے۔ گو کہ اس سے قبل بھی امریکی پالیسیوں کے لےے عوامی سطح پر کسی پسندیدگی کا کوئی عنصر موجود نہیں ہے مگر اب اس اقدام نے تو انتہا کر دی ہے۔ اسے امریکی سینہ زوری کہیں یا ڈھٹائی قوم اسے اب تسلیم کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتی ہے، گزشتہ اتوار کے روز لاہور کے لیبرٹی چوک میں نوجوانوں نے امریکی پالیسیوں کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے لےے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان احتجاجیوں کی شناخت نہ تو کوئی سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی ان میں کوئی معروف سیاسی و سماجی چہرہ موجود ہے۔ ان کی اول و آخر پہچان پاکستانیت ہے، جس کے تحفظ کے لےے ان کے ارادوں کی پختگی ان کے پرعزم چہروں پر دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں لوگ اپنے دل کی آواز اس لےے بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ ہمارے حکمران طبقے قومی امنگوں کی بجائے بیرونی تقاضوں کو پورا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، اس میں کوئی ایسی تفریق بیان نہیں کی جا سکتی کہ فلاں پارٹی یالوگ اس کے لےے تیار نہیں ہےں۔ حکمران اشرافیہ کو اپنی پالیسیوں پر راضی رکھنے کے لےے امریکی سفارتخانہ اور دفتر خارجہ بلا امتیاز رابطے میں رکھتا ہے اور پھر تمام لوگ اس ہدف کے حصول کے لےے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ امریکی ظلم و ستم اور اپنے لیڈروں کی بے حسی نے ان نوجوانوں کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا ہے۔
امریکی نواز پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی یہ صدا اور لہر چونکہ نوجوانوں کے اندر پیدا ہوئی ہے تو اس بارے میں کچھ باتیں سوچنا اور دیکھنا ضروری ہیں، فکری طور پر مماثلت تلاش کےے بغیر بات یہ ہے کہ اس ہجوم کی قیادت کیا ہے؟ مکالمہ سیاست اور جمہوریت کی اولین شرط ہے، مگر اسے حقیقی مسائل پر شروع کوئی نہیں کرتا جس کی وجہ سے وقتی طور پر تلخیوں پر خوبصورت باتوں کا شیرہ ڈالا جاتا ہے اور یہ شیرینی دیرپا ثابت نہیں ہوتی تو قومی مسائل کے حل کے لےے اس احتجاج کی سمت کیا ہو گی اس پر بات کرنا اور سوچنا ابتدائے سفر پر ضروری ہے۔ اس طرح ملک توانائی کے شدید ترین بحران سے دوچار ہے اور نئے آبی ذخائر کی تعمیر نہ ہوسکتا اس کی وجہ ہے اس کے حل کے لےے تمام سٹیک ہولڈرز کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ اس پر بھی احتجاجیوں کو بہت واضع ہونا چاہےے۔ یہ اور اس کے ڈھیروں مسائل جو ہماری قومی زندگی میں ناسور کی شکل اختیار کر چکے ہیں، ان کے پس منظر میں امریکی مفادات کی خوفناک پرچھائیں موجود ہے کہ ہم قوم کے بجائے ہجوم بنے رہیں تو اس کا براہ راست فائدہ امریکہ ہی کو ہے۔ یہ احتجاج وقتی اشتعال پہچان یا جذباتیت نہ ہو تو اس کے دوررس نتائج نکل سکتے ہیں، میری معلومات کے مطابق ان احتجاجیوں نے فیس بک پر اس کی کال دی ہے اور یہ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اپنے مقصد اور ایجنڈے پر پہلے خود واضع ہوں اور پھر بے شک اس پر لکھی بحث کا سلسلہ فیس بک پر ہی شروع کر لیں۔ ابھی اس کی لیڈر شپ واضح نہیں ہے جسے یہ تبدیلی اور انقلاب کا سفر خود طے کر لے گا مگر ایجنڈہ ابتدائے سفر پر ہی بہت واضح ہونا چاہےے وگرنہ انجام کار یہ احتجاج تحریک نہیں بن پائے گا۔ اس سے انقلاب کی اگر امیدیں قائم کی جاسکتی ہیں تو وہ پوری نہیں ہوں گی۔
ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لےے بے بسی کا رونا روتے رہنے کی بجائے بے بسی کی جان لیوا خاموش کی مہر توڑنا ہو گی۔ نوجوانوں کا یہ احتجاج ایک اچھے مستقبل کی خواہش ہے میری دعا ہے کہ خدا ان کی یہ خواہش پوری کرے۔