وزیراعظم کی J.I.T کے سامنے پیشی، تعجب کیوں؟

کالم نگار  |  سید روح الامین
وزیراعظم کی J.I.T کے سامنے پیشی، تعجب کیوں؟

پہلے تویہ کہ ہمیں اس قوم کے مستقبل پر ترس آتا ہے جس کے سیاستدان نعیم الحق فواد چودھری‘ نہال ہاشمی‘ طلال چودھری‘ دانیال عزیز اور رانا ثناء اللہ اور عابد شیر علی جیسے ہوں۔ ان کو رہنما کہنا تو اصل لیڈروں کی توہین ہوگی۔ ذاتی مفادات کی جنگ میں ایسی ایسی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں کہ سننے والے کو بھی شرم آجاتی ہے۔ 15جون کو وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو بعض ٹی وی چینلز پر اسے ’’تاریخی کارنامہ‘‘ اور بعض اس کو ہی ’’احتساب‘‘ قرار دے رہے تھے۔ یوں لگا جیسے کشمیر کو فتح کرلیا گیا ہو۔ اصل میں ہمارے ہاں صرف لوٹنے کی روایت ہے۔ احتساب 70سالہ تاریخ میں دیکھنے کو بھی نہیں ملتا‘ حالانکہ شریعت اسلامیہ احتساب کے بغیر معاشرے کو بے معنی قرار دیتی ہے۔ محبوب رب العالمین‘ خاتم النبین وجہ تخلیق کائنات حضورؐ نے خود اپنی ذات کو آخری خطبہ کے موقع پر پیش کیا کہ اگر میں نے کسی سے کوئی زیادتی کی ہو تو وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔ حضرت علیؓ اپنی خلافت کے دوران ایک مقدمے میں قاضی کے سامنے دوسرے فریق کے ساتھ جب پیش ہوئے تو قاضی اٹھ کر کھڑا ہوگیا تو حضرت علیؓ نے فرمایا یہ تم نے بے انصافی کی ہے۔ خلیفہ دوم عمر فاروق سے عام آدمی نے سوال کیا کہ آپ کو ایک کپڑا ملا تھا‘ سوٹ کیسے بن گیا؟ تو آپؓ کے بیٹے نے جواب دیا کہ میں نے اپنے حصے کا کپڑا بھی اپنے والد (عمر فاروقؓ)کو دے دیا تھا۔ وزیراعظم نے قانون کی پاسداری کی لیکن لگتا ہے ان کے پیروکار رانا ثناء اللہ‘ طلال چودھری‘ دانیال عزیز‘ نہال ہاشمی جیسے ’’جیالے‘‘ ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کو للکارنا‘ جے آئی ٹی کو دھمکیاں دینا یہ تو ’’دہشت گردی‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ کہنا کہ احتساب صرف وزیراعظم کے خاندان کا ہی کیوں؟ پانامہ میں تو 400 افراد کا ذکر ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف اقتدار کی ہوس میں نوازشریف کو سپریم کورٹ لے کر گئی ہے۔ عمران خان شاید وزارت عظمیٰ کا خواب دیکھ چکے تھے، پہلے دھاندلی کا واویلا کیا، جس کے اندر کے راز ایک بزرگ سیاسی جاسوس جاوید ہاشمی نے لیک کیے۔ جب دھاندلی کا ڈراما کامیاب نہ ہوا تو ’’پانامہ‘‘ پی ٹی آئی کے ہتھے چڑھ گیا اور پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم فیملی کو سپریم کورٹ لے گئی۔ دو جج صاحبان نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جبکہ مزید تحقیقات کیلئے J.I.T بنا دی گئی، جس کی آنیاں جانیاں جاری ہیں۔ اگر ہمارے ہاں احتساب کا عمل 70سال سے شروع ہوتا تو آج پانامہ میں کسی کا نام بھی نہ ہوتا، نہ ہی کروڑوں‘ اربوں کی جائیدادیں بنتی۔ اگر صرف شریعت کا ایک اہم رکن زکوٰۃ ہی باقاعدگی سے ادا ہوتی رہے تو اتنی رقم جمع ہی نہیں ہو پاتی۔ 70سال سے یہاں ایک سبزی فروش سے لے کر صدر پاکستان تک سبھی اس ملک کو لوٹ رہے ہیں، کسی نہ کسی حوالے سے کرپشن میں ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی جنہوں نے پانامہ کیس میں قوم کا ایک ماہ ضائع کر دیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ یہاں تھانہ کروڑوں میں بکتا ہے، یہ بات درست ہے مگر صرف تھانہ نہیں ہر ادارہ بکتا ہے۔ جو نہیں بکتے جو اپنی آخرت‘ اپنی خودداری وعزت کے سامنے دنیاوی دولت کو ٹھوکر مارتے ہیں ان کی عظمت کو سلام۔ چائنہ ہم سے ایک سال بعد آزاد ہوا‘ سی پیک ہمیں دیا۔ ہمارے کرپٹ ترین اور ’’باغیرت‘‘ سیاستدان سی پیک کا ذکر کرکے خوشی سے پھولے نہیں سماتے، اگر ہمارے ہاں کرپشن کا راج نہ ہوتا تو آج ہم سی پیک لینے سے انکار کر دیتے بلکہ ہم دوسروں کو دینے کے قابل ہوتے۔ اقبال نے کہا تھا:
؎گدائی میں بھی وہ اللہ والے غیور تھے اتنے
کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا تھا نہ یارا
مگر جہاں کرپشن ہی کا راج ہوتا ہے وہاں تو کبھی آئی ایم ایف سے قرض کبھی دیگر ممالک سے امداد کی صورت میں بھیک لی جاتی ہے، ساتھ ہی ہر روز ٹیکس کی مد میں قوم کو لوٹا جاتا ہے اور یہ سارا پیسہ اپنے بیوی بچوں کے نام اندرون وبیرون ملک منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اگر یہاں احتساب ہوتا اور کرپشن کو جرم سمجھا جاتا تو یقین کریں کوئی بھی ایم پی اے‘ ایم این اے بننے کی خواہش نہ کرتا، مگر یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ کروڑوں روپے لے کر ایک پارٹی ایک امیدوار کو ٹکٹ دیتی ہے تو پھر وہ امیدوار ایم پی اے، ایم این اے بن کر اپنی پارٹی کے قائد کی سرپرستی میں کروڑوں اربوں لوٹتا ہے‘ پھر ایسے اشرافیہ قانون کو اپنے پائوں کی نوک پر رکھتے ہیں اور اس سارے بے لگام سسٹم کو ’’جمہوریت‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ سوائے چند ایک کے چینلز‘ ٹاک شوز‘ تجزیے وغیرہ سب ’’مفاداتی‘‘ ہوتے ہیں۔ بعض کالم نگار حضرات بھی قصیدہ نگاری سے بڑے بڑے عہدے اپنے ضمیر کو بالائے طاق رکھ کر حاصل کرتے ہیں کیونکہ جس کا کھایا جاتا ہے پھر حق وانصاف کو پس پشت ڈال کر صرف اسی کے گن گائے جاتے ہیں۔ یہی اقتدار کی ہوس ہے کہ زرداری نے بینظیربھٹو کی شہادت پر اپنی حکومت میں رہ کر بھی ایف آئی آر درج نہیں کرائی بلکہ جمہوریت کو ہی بہترین انتظام گردانا۔ ذرا جانیئے اگر بینظیر قتل نہ ہوتیں تو کیا زرداری کو ’’صدارتی محل‘‘ دیکھنا نصیب ہوتا؟ بینظیربھٹو کو بے گناہ مار دیا گیا مگر زرداری نے بینظیر کی پارٹی کا بھی ستیاناس کر دیا۔ ہمارے ہاں جمہوریت میں مزے ہی مزے ہیں۔ چند گھرانوں کی یہاں جمہوریت ’’لونڈی‘‘ ہے۔
عمران خاں اگر لیڈر بننا چاہتا ہے تو پہلے اپنی زبان درست کرے ’’اوئے نوازشریف‘‘ جیسی گندی زبان کا استعمال کسی عام آدمی کو بھی یہ زیب نہیں دیتا۔ یوں لگتا ہے جیسے عمران خان کی نوازشریف سے کوئی ذاتی دشمنی ہے۔ بہرحال سب کچھ ہو رہا ہے مگر عوام کے مسائل کی کسی کو خبر تک نہیں۔ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ غربت‘ لاقانونیت، کرپشن کا ہر طرف راج ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باوجود عوام سے بھاری بل بٹورے جارہے ہیں۔ اب سپریم کورٹ ’’پانامہ‘‘ کا جو بھی فیصلے دے گی دونوں فریقین کو برداشت‘ تحمل سے قبول کرنا چاہیے۔ ہاں دیگر افراد جن کا پانامہ میں ذکر ہے ان کا کیس عدالت میں لے جایا جائے گا تو عدالت ان کیسز کو بھی سنے گی اور عدل پر مبنی فیصلے جاری کرے گی۔ J.I.T کے سامنے وزیراعظم کی پیشی کو ان کی تضحیک نہ سمجھا جائے، یہ ایک احسن روایت ڈالی گئی ہے۔