پاکستان کی کہانی بیرسٹر ظہور بٹ کی زبانی…

کالم نگار  |  طاہر جمیل نورانی
پاکستان کی کہانی بیرسٹر ظہور بٹ کی زبانی…

لندن میں ایک طویل عرصہ سے مقیم ممتاز دانشور بیرسٹر ظہور بٹ کا شمار یہاں کے چند ان پاکستانیوں میں ہوتا ہے جو 1957ء کی دہائی میں یہاں آئے اور پھر ’’ولایت‘‘ کے ہی ہو کر رہ گئے؟ بٹ صاحب کا گھرانہ شروع سے ہی سیاسی تھا آپ کے والد جمال الدین بٹ (مرحوم) اپنے وقت کے بہت بڑے ’’احراری‘‘ تھے۔ مجلس احرار اسلام امر تسر کے وہ صدر رہے اس لئے بٹ صاحب کی انہوں نے اس انداز سے سیاسی تربیت کی کہ Lincon inn سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرتے ہی بٹ صاحب نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا مسلم لیگ‘ تحریک استقلال‘ عوامی لیگ اور کئی دیگر سیاسی پارٹیوں سے وابستگی کے بعد پاکستان کے سابق وزیر اعظم سید حسین شہید سہروردی کے اتنے قریب ہو گئے کہ بٹ صاحب کو انہوں نے اپنا مستقبل معاون وکیل مقرر کر لیا مگر افسوس کے سہروردی کی شہادت کے ساتھ ہی پاکستان کے سیاسی حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ بٹ صاحب کو آخر جرمنی اور انگلستان کا رخ کرنا پڑا جرمنی کو دوسرا وطن بنانے کی بنیادی وجہ ان کی زوجہ حیات ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ لندن میں دوران بیرسٹری ہی ان کی اس جرمن لڑکی سے ملاقات ہو گئی اور پھر پیار جب حد سے تجاوز کرنے لگا تو لندن میں ہی اس سے شادی کر لی اس شادی کا نیک شگون یہ کہ 1958ء میں شادی کی اور 1959ء میں بیرسٹری کا امتحان پاس کر لیا اور یوں ایک طویل عرصہ سے کی یہ شادی آج بھی انہیں حقیقی خوشیوں اور حسرتوں سے ہمکنار کئے ہوئے ہے۔ پڑھے لکھے گوروں کا کہنا ہے کہ بیرسٹر‘ کالم نگار‘ صحافی‘ ڈاکٹر‘ استاد اور عالم کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے یہی معاملہ اب بزرگوار محترم ظہور
 بٹ صاحب کا ہے نوائے وقت سے بیرسٹر ظہور بٹ صاحب کا قلمی تعلق چونکہ 1958ء سے جاری ہے اس لئے نوائے وقت کا نام آتے ہی وہ اپنے 1957ء کے لندن سے یار غار ڈاکٹر مجید نظامی کی محبتوں اور چاہتوں کو ضرور سلیوٹ کرتے ہیں ڈاکٹر مجید نظامی صحافت کی اعلیٰ تعلیم کی غرض سے لندن آئے جب کہ بٹ صاحب کا بنیادی مقصد بار ایٹ لاء کرنا تھا۔ نظامی صاحب اور ان کی دوستی کا آغاز اسی دور میں ہوا جو آج بھی بے لوث مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر جاری ہے۔ ’’نوائے وقت‘‘ میں ’’ولایت نامہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والا میرا کالم بٹ صاحب اور ان کے دوست جو کہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں اس لئے ہماری ملاقاتیں اکثر و بیشتر ہوتی رہتی ہیں۔اپنی عمر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی انہوں نے ایک سماجی اور نیم سیاسی تنظیم Friday Club بھی قائم کر رکھی ہے بالعموم ہر جمعہ کو اس کلب میں بزرگ دانشور‘ کالم نگار‘ صحافی‘ سیاسی رہنما و اراکین اور سماجی شخصیات کی رات گئے تک محفل جاری بٹ صاحب نے چند ماہ قبل یہ خوشخبری دی کہ پاکستان کی کہانی کو اپنی زبانی اب وہ ایک ضحیم کتاب کی صورت میں پیش کرنے کے آخری مراحل سے گزر رہے ہیں اور فروری 2014ء میں لاہور میں وہ اس تاریخی کتاب کی رونمائی کرنے جا رہے ہیں لاہور میں تقریب رونمائی کے بنیادی مقصد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ اس کتاب کی رونمائی ان کے لندن کے دیرینہ دوست روزنامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر مجید نظامی کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی جائے چنانچہ بٹ صاحب کی اس خواہش کی تکمیل فروری میں ہوئی۔ نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی صاحب، کارکنان تحریک پاکستان اور مقامی سیاسی و سماجی شخصیات نے اس تقریب میں شرکت کی لندن میں ’’پاکستان کی کہانی میری زبانی‘‘ کی تقریب رونمائی کے لئے پاکستان کمیونٹی سنٹر میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ سنٹر کے چیئرمین طارق ڈار کا شمار بھی چونکہ بٹ صاحب کے چاہنے والوں میں ہوتا ہے اس
 لئے ان کی خواہش کا بھی احترام کیا گیا۔ حنفی صاحب کی تلاوت قرآن پاک سے اس تقریب کا آغاز ہوا مقررین میں پروفیسر امین مغل‘ بیرسٹر افتخار‘ سالیٹر احسان ملک‘ پیپلز پارٹی کے اشرف چغتائی‘ محترم بنگش‘ قیصر امام‘ صحافی محمد سرور اور راقم الحروف شامل تھے جب کہ فرائیڈے کلب کے اراکین مسلم لیگ پیپلز پارٹی اور تحریک استقلال کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ بیرسٹر ظہور بٹ کی اس تحقیقی کاوش کو سراہتے ہوئے مقررین نے انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔قیام پاکستان کے حوالہ سے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات کی روشنی میں بٹ صاحب لکھتے ہیں کہ قائد اعظم اکثر خود یہ کہا کرتے تھے۔ کہ پاکستان میں ملائیت کی قطعی گنجائش نہیں ان کا استدلال تھا کہ پاکستان ایک لبرل‘ جمہوری‘ فلاحی اور ماڈرن ملک ہو گا 1946ء میں رائٹر کے نمائندے ڈان کیمبل سے ایک انٹرویو کے دوران کیمبل کے اس سوال پر کہ پاکستان میں کیا آپ اسلام نافذ کریں گے؟ قائد اعظم کا برجستہ یہ جواب تھا کہ تم نے میری 25 سالہ محنت پر پانی پھیر دیا؟ قائد اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اگر اسلام نافذ کیا گیا تو اس میں کون سی فقہ نافذ ہو گی۔ حنفی‘ شافعی‘ حنبلی‘ مالکی اور فقہ جعفریہ میں سے کوئی بھی فقہ اگر نافذ کر دیا گیا تو پھر دیگر فقہ کے پیروکاروں کی تنقید کو کیسے روکا جا سکے گا؟ بٹ صاحب نے قائد اعظمؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ہمیشہ ناپ تول کر لفظوں کا استعمال کرتے تھے وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ پاکستان میں اسلامی کے بنیادی اصولوں کے مطابق ایک معاشرہ تشکیل دیا جائے گا جو انصاف کے تقاضے پورے کرے گا؟بٹ صاحب کے دیئے اس حوالے سے نئی نسل کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں جب اسلامی شریعت نافذ ہی نہیں ہونی تھی تو پھر ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا بنیادی مقصد کیا تھا؟ نئی نسل سوال یہ بھی پوچھے گی کہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ کی اساس پر قائم پاکستان کا پھر مطلب کیا ہے؟انہیں نوجوان نسل کو ایسے کئی سوالات کا جواب دینا ہو گا ۔