نہرو سے نریندر تک مسلم کش عزائم

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد
نہرو سے نریندر تک مسلم کش عزائم

(جغرافیے نے، پہاڑوں نے اور سمندروں نے ہندوستان کو اس طرح واضح کیا ہے جیسے کہ وہ ہے اورکوئی انسانی عاملیت کی شکل کو نہیں بدل سکتی اور نہ اس کے آخری مقدر کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی سنجیدگی کے ساتھ یہ بھروسہ کرتی ہے کہ جب موجود ہ جذبات کا جوش و جذبہ فرو ہو جائے گا تو ہندوستان کے مسائل کو ان کے مناسب تناظر میں دیکھا جائے گا اور دو قوموں کا باطل اصول سب نظروں میں گر جائے گا اور ترک کر دیا جائے گا۔ یہ دعا آل انڈیا کانگریس 14 جون 1947ء کے اجلاس میں تب مانگی گئی جب ہندو اور انگریز محمد علی جناح کے فولادی مؤقف اور روشن دلائل کے سامنے بے بس ہو کر تقسیم ہند کے فارمولے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس موقع پر اب اکھنڈ بھارت کا خواب کرچی کرچی ہونے کے بعد کھسیانی بلی کی طرح ایک دوسرے سے منہ چھپاتے ہوئے کانگریسی شکست خوردہ قیادت مختلف تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے عظیم بھارت کی ایک ایکتا کو مستقبل کے چشمے سے دیکھنا شروع کر دیا۔ اجتماعی شکست کے زہریلے گھونٹ بھرتے ہوئے ابوالکلام آزاد نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس تقسیم کی زندگی بہت مختصر ہو گی۔ ہندو مہا سبھا نے زیادہ کھل کر بات کرتے ہوئے بیان داغا کہ ہندوستان ناقابل تقسیم ہے اور اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا جب تک علیحدہ ہونے والے علاقوں کو ہندوستان کے ساتھ دوبارہ جوڑ نہیں لیا جاتا۔ انہیں بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بنا لیا جاتا۔ مہاتما گاندھی نے 15 اگست کی تقریر میں کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ وقت ضرور آئے گا کہ تقسیم ختم کر دی جائے گی ہندوستان کے دوبارہ متحد ہونے کے حوالے سے ہر چھوٹا بڑا ہندو متفق تھا اور اور متفق ہے۔ بقول قبلہ مجید نظامی ہندو بہترین محکوم اور بدترین حاکم ثابت ہوا ہے۔ کشمیر سمیت پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف سابقہ 67 سال میں انسانیت سوز سلوک روا رکھا گیا۔1947ء میں ہجرت کے دوران قتل عام، 1948ء میں کشمیر پر قبضہ، 1965ء میں پاکستان پر حملہ۔ 1970ء میں بین الاقوامی بارڈر کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان میں فوج داخل کرکے دو لخت کر دیا۔ اپنے پرکھوں کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے 1984ء میں بھارت نے پاکستان کے علاقہ سیاچن پر اچانک حملہ کر کے پندرہ سو مربع میل رقبہ پر قبضہ کیا جہاں ستر کلو میٹر گلیشیئر ہے۔ سطح سمندر سے بیس ہزار فٹ بلند چوٹی کی حفاظت کیلئے ہزاروں جانیں قربان ہوئیں۔ رن آف کچھ کے قریب چھیانوے کلو میٹر طویل سرکریک کی پٹی بھارت نے ہتھیا رکھی ہے۔1947ء سے آج تک ظلم و بربریت ، تعصب ہندو بالادستی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو آج بننے والی حکومت کے دور میں فائنل رائونڈ میں داخل ہوتا نظر آتا ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں بھارت اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا تھا مگر اب انتہا پسند مودی حکومت نے اس عمل میں نئی راہیں اختیار کرتے ہوئے جدید اسلحہ ساز دنیا کو بھارت آنے کی دعوت دی کہ وہ آ کر اپنے کارخانے لگائے۔ اس دعوت میں خاص بات یہ ہے کہ اسلحہ ساز کمپنیوں کو مکمل ملکیت کا حق دیا گیا ہے۔ اس پُرکشش مواقع کو دیکھتے ہوئے امریکہ، فرانس، برطانیہ کے علاوہ دیگر اسلحہ ساز ممالک کے اہم ترین حکومتی عہدیدار بھارت پہنچنا شروع ہو گئے جو کثیر سرمایہ کاری کیلئے طویل مدت معاہدے کر رہے ہیں۔ بھارت پہلے روس پھر امریکہ کا سب سے بڑا اسلحہ کا خریدار تھا جو آگے چل کر بڑے اسلحہ ساز ممالک کی صف اول میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ سابقہ کانگریسی سیکولر حکومت نے چھ ارب ڈالر سے جنگی ساز و سامان خرید کر غریب عوام کی عظیم خوشحالی کا نعرہ بلند کیا مگر نئی حکومت کی حکمت عملی کے نتائج بھی صرف بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو بھگتنے ہیں۔ خطے میں دوسرا کوئی ملک بھارت سے ٹکرانے کی صلاحیت کا حامل ہے نہ کسی سے اتنے تنازعات دکھائی دیتے ہیں لہٰذا سابقہ 67 سالہ نہرو تا نریندر حکومتوں کی زیادہ کارکردگی مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے اور پاکستان کو ہر قیمت پر دوبارہ بھارت کا حصہ بنانے پر مربوط رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ فوج جو کلو میٹر کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ فوجی خطہ بن چکا ہے اس کے باوجود پندرہ اگست کو بھارتی یوم آزادی کے موقع پر کشمیر میں یوم سیاہ منایا جاتا ہے۔ عظیم تر کشمیری قوم اپنا یوم آزادی پاکستان کے ساتھ منا کر جبر کے منہ پر سیاہی مل دیتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے اپنے جارحانہ عزائم پر عمل کرنے کیلئے کشمیر کا دورہ کیا۔ غیور کشمیریوں میں جس نفرت و حقارت کا نظارہ دیکھنے میں آیا پورا مقبوضہ خطہ مجسمہ احتجاج نظر آ رہا تھا۔ سڑکیں بازار بند، حریت رہنما نظر بند، موبائل سروس جام ، ٹریفک معطل ، کاروبار ادارے ، سکول کالج ویران۔ یہ سب کچھ حریت قیادت کی اپیل پر ظہور پذیر ہوا۔ دوسری طرف پاکستان کے اندرونی خلفشار کی ہر کڑی بھارت سے جا ملتی ہے۔ پاکستان کے اندر ایک طبقہ بھارتی محبت کے گیت گاتا امن کی فاختہ اڑاتا نظریہ پاکستان کی نفی کر کے اندرونی محاذ پر کھوکھلا کر رہا ہے۔ پاکستان میں ہندو نواز ٹولہ پاک فوج اور آئی ایس آئی بھارتی الزامات کو درست ظاہر کرنے اہم قومی اداروں کو تنقید ہی نہیں ان پرکھلم کھلا الزامات کا نشانہ بناتے ہیں۔ ستم بالائے ستم حکمران بھی ایسے مذہب بیزار بھارتی یار لوگوں کی سرپرستی ہی نہیں کرتی بلکہ خود بھی بھارت کو پسندیدہ قوم قرار دینے کیلئے بیتاب دکھائی دیتے ہیں۔اپوزیشن میں بھی ایسی قوت نظر نہیں آتی جو بھارتی مسلمانوں کشمیریوں کے حقوق کیلئے واضح مؤقف رکھتے ہوں۔ ایسے حالات میں جب مودی نہرو کی پالیسی پر گامزن ہے تو کیوں نہیں ہم وہی راستہ اختیار کریں جس پر چل کر بانیان پاکستان نے ہندو بنئے سے چھٹکارا حاصل کیا تب ہی پاکستان اپنی منزل ایک فلاحی اسلامی جمہوری ریاست بن سکے گا۔