قارون کی حکمرانی یا قانون کا خزانہ

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
قارون کی حکمرانی یا قانون کا خزانہ

اس کے پاس بے شمار دولت تھی، جس کی مدد سے وہ فصلوں کو پیشگی سستاخرید لیتا اور بعد میں انہیں مہنگے داموں فروخت کرتا، معاملات میں کم تولتا، دھوکا دیتا ، بے اصولی اور بے انصافی کرتااور سود کھاتا، اس طرح اس سے جو بن پڑا، اس نے کیا اور یوں لوگوں پر ظلم کرکرکے اس نے اپنے خزانے دولت سے لبالب بھر لیے، جس کی کنجیاں اٹھانے کیلئے اس نے طاقتور پہلوان مقرر کررکھے تھے۔وہ اس خزانے کوہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا تھا اوریہ دولت صرف اپنی عیش و عشرت اور نمودونمائش پر خرچ کرتا تھا، اس نے بہت عمدہ اور شاندار محل بنارکھا تھا جس کی دنیا بھر میں کوئی نظیر نہ ملتی تھی۔ اس محل کے درودیوار سونے اور ہیروں سے منقش اور قیمتی جواہرات سے مزین تھے۔ اس نے اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کی سمیں تک سونے اور ہیروں سے جڑوا رکھی تھیں، اس کے سینکڑوں غلام اور کنیزیں تھیں، جنہیں وہ سونے کی موٹی زنجیروں سے باندھ کر بازار میں چلتا تھا۔دنیا کا یہ امیر ترین شخص کوئی اور نہیں بلکہ نبی کلیم اللہ ؑکا رشتے دار قارون تھا، جس نے بظاہر آپ کا دین بھی قبول کرلیا تھا !وہ نماز پڑھتا تھا اور تورات کی تلاوت بھی کرتا تھا، وہ اتنا خوش آواز تھاکہ تورات پڑھتا تو اس کی خوش الحالی سے متاثر ہوکر سننے والے لوگ اسے منور کہتے تھے۔ ایک دن قارون نے بہت عمدہ لباس پہنا اور بہت عمدہ گھوڑے پر سوار ہوکر اپنے محل سے باہر نکلا، بہت زیادہ نوکر چاکر بھی اس کے ساتھ باہر آئے، لوگ قارون کے عظمت اور شکوہ کو دیکھنے کے لئے راستے میں کھڑے تھے اور اس قدر سونے اور جواہرات دیکھ کر حسرت کررہے تھے۔ بعض نادان اس کے سامنے جھکتے اور زمین پرگر پڑتے اور کہتے’’ توکتناخوش نصیب ہے قارون ! کتنی ثروت کا مالک اور کتنی سعادت رکھتا ہے ! خوش الحال قارون کتنی اچھی زندگی گزارتا ہے اور کتنا خوش بخت ہے، کاش ! ہم بھی قارون کی طرح ہوتے ؟‘‘لیکن عقلمند مومن قارون کو نصیحت کرتے ’’ اے قارون! یہ تمام باغ اور ثروت کس لئے ؟یہ سب دولت اور مال کس لئے ذخیرہ کررکھا ہے ؟ کیوں لوگوں پر اتنے ظلم ڈھاتے ہو ؟ خداکو کیا جواب دو گے ؟ لوگوں کا حق کیوں پامال کرتے ہو؟ غریبوں اورناداروں کی کیوں مدد نہیں کرتے ؟ نیک کاموں میں کیوں قدم نہیں بڑھاتے؟‘‘ قارون غرور و تکبر سے جواب دیتا ’’ میں دوسروں کی طرح نہیں ! میں محنتی ہوں، میں نے کام کیا ہے اور دولت مند ہواہوں دوسرے بھی جائیں کام کریں اور زحمت اٹھائیں تاکہ وہ بھی دولت مند ہوجائیں ۔کسی کو ان باتوں کا حق نہیں پہنچتا، کیونکہ یہ میری دولت ہے، میں جہاں چاہوں، اسے خرچ کروں اور چاہوں تو خرچ نہ کروں، کسی کی مرضی سے میں اپنے خزانوں میں تبدیلی کیوں کروں؟‘‘ہزاروں سال پہلے تو صرف ایک قارون تھا، لیکن آج اس دنیا میں لاکھوں قارون ہیں۔ دنیا کو چھوڑیں! اپنے پیارے وطن میں قارونوں کی کیا کوئی کمی ہے؟ یہ قارون دولت پر سانپ بن کر بیٹھیں ہیں اور اپنے خزانوں میں کمی لانے کیلئے بالکل بھی تیار نہیں۔ یہ قارون سرکاری بھی ہیں اور غیرسرکاری بھی ہیں۔ سرکاری قارونوں نے ایک محنت کش کی کم از کم اجرت گیارہ یا بارہ ہزار روپے تو مقرر کردی، لیکن حقیقت میں ایک عام ملازم اور مزدور کو آج بھی چھ سات ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں ملتے۔ اس کا سبب وہ ادارہ جاتی اختیارات بھی ہیں، جن میں مختلف ’’مقدس‘‘ اداروں کے حکام بالا اپنی اور اپنے ملازمین کی تنخواہیں اپنی مرضی سے جب چاہے اور جتنی چاہیں، بڑھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ہم محنت کرتے ہیں، جائیں اور دوسرے بھی محنت کریں اور زحمت اُٹھائیںتاکہ امیر ہوسکیں‘‘۔ اپنی تنخواہیں اپنی مرضی سے بڑھانے کے یہ قارونی اختیارات پارلیمنٹ سے لے کر عدلیہ اور فوج سے لے کر دیگر مختلف ایسے اداروں کے پاس ہیں، جو کسی نہ کسی حوالے سے ہاتھ ’’ڈنڈا‘‘ رکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی جب مرضی ہوتی ہے تو اپنے ارکان کی تنخواہیں بڑھا لیتی ہے، لوگوں کو انصاف فراہم کرنے پر متعین عدلیہ اپنے عملے کی تنخواہیں بڑھانے سے پہلے کسی کو پوچھنے کا تردد بھی نہیں کرتی اور فوج تو اپنے بجٹ میں جھانکنے والے کو بھی گناہ گار سمجھتی ہے۔ ڈاکٹر تنخواہیں بڑھانا چاہتے ہیں تو اسپتال بند کردیتے ہیں اور اساتذہ قلم چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، لیکن چھوٹے گریڈ کا ایک عام سرکاری ملازم اور مزدور روٹی کے دو نوالوں کیلئے دوسروں کو منہ تکتا رہتا ہے۔یہاں قارون کے خزانے کی بات تو سبھی کرتے ہیں، لیکن قارون کا انجام بہت کم لوگوں کو پتہ ہے؟ حضرت موسیٰؑ کی قوم پر زکواۃ فرض ہوئی تو قارون بگڑ گیا اور سخت لہجے میں کہا ’’اے موسیٰؑ! یہ کیسی بات ہے جو تم کہہ رہے ہو؟ ہم نے برا کام کیا کہ تم پرا یمان لے آئے ہیں؟ کیا ہم نے گناہ کیا ہے کہ نماز پڑھتے ہیں اور اب آپ کو خراج بھی دیں؟ زکوٰۃ کیا ہے؟ میں کس دلیل سے اپنی دولت دوسروں کو دوں، دوسرے بھی جائیں ، محنت کریں اور زحمت اٹھائیں تاکہ دولت کماسکیں اور امیر ہوسکیں‘‘۔حضرت موسیٰؑ نے اللہ سے دعا کی، جس کے بعد قارون، اسکے ’’پجاری‘‘ اور اس کے سارے خزانے اور محلات ایک ایک کرکے زمین میں دھنس کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نشانِ عبرت بن گئے۔قارئین کرام! اس وقت سبھی ملک میں تبدیلی کی بات کررہے ہیں۔ یہ بات اپنے اپنے انداز میں سیاستدان بھی کررہے ہیں اور فوجی بھی کررہے ہیں، تبدیلی کی بات بیوروکریٹ بھی کررہے ہیں اور جج بھی یہی کہہ رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوںاپنے اعزاز میں دیے گئے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہاکہ’’ایسی جمہوریت نہیں چل سکتی، جس سے مثبت تبدیلی نہ آئے‘‘۔ سابق چیف جسٹس کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے، لیکن جان کی امان پاؤں تو عرض کروں!جب تک اس ملک میں معاشی انصاف نہیں آئے گا، جب تک مالیاتی مساوات قائم نہیں ہوگی، جب تک دولت کا ارتکاز ختم نہیں ہوگا، جب تک خالی پیٹ کوسیر ہوکر کھانا اور ننگے جسم کو پورا لباس نہیں ملے گا، اس ملک میں جمہوریت تو کیا آمریت بھی نہیں چل سکتی۔ جسٹس تصدق جیلانی نے کہا کہ ’’صرف مقدمات کی سماعت نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی سپریم کورٹ کا کام ہے‘‘۔ بالکل یہ بھی بجا ہے، لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر سابق چیف جسٹس اپنے دور میں ججوں اور عدالتی عملے کی تنخواہوں کو قارونی کی بجائے قانونی تنخواہوں کے دائرے میں لے آتے تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ کی پہلی اینٹ رکھی جاتی اور دوسرے ’’ڈنڈا بردار‘‘ اداروں کو بھی احساس دلایا جاسکتاکہ ’’قانون کا خزانہ قارون کی حکمرانی میں نہیں بلکہ قارون کا خزانہ قانون کی حکمرانی میں ہے‘‘۔