سفید زہر

سفید زہر

ایک نشئی جسے عام طور پر ’’جہاز‘‘ لکھا اور پکارا جاتا ہے، فلم کا آخری شو دیکھ کر گھر آیا تو اس سے تالا نہیں کھل رہا تھا۔ ہمسائے نے ازراہِ ہمدردی مسٹر جہاز سے پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو تالا میں کھول دوں۔ ’’جہاز‘‘ نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا پلیز آپ مکان کو تھام کر رکھیں کیونکہ یہ ڈول رہا ہے، لاک میں خود کھول لوں گا۔ یہ نشئی کی پہلی علامت ہے جوں جوں وہ نشہ کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے توں توں اُس کا آخری وقت قریب سے قریب آتا جاتا ہے۔ بالآخر ایک دن ’’جہاز‘‘ لمبی پرواز پر چلا جاتا ہے۔ایسی پرواز جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ اس کی موت صرف اس کی اپنی موت نہیں ہوتی، بلکہ اس کی خواہشات بھی اس کے ساتھ ہی دفن ہو جاتی ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ اس المیہ میں ہمارا کردار شامل تو نہیں ہے؟ ایک نارمل شخص اگر منشیات کا استعمال شروع کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ کوئی نہ کوئی واقعہ، سانحہ، تلخی، مایوسی یا محرومی اور ناکامی کا کوئی پہلو ضرور ہو گا۔ حدیث نبویؐ ہے کہ تم میں سے وہ مسلمان نہیں ہو سکتا جو اپنے بھائی کیلئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ اگر ہم صرف اس حدیث مبارکہ پر عمل پیرا ہوں تو یقین جانیے معاشرے سے برائیوں کاخاتمہ ہو جائے، عدل کا غیر متوازن ترازو توازن میں ڈھل جائے، حلال و حرام میں تمیز ہونے لگے اور ایک پُرامن معاشرہ تشکیل پا جائے۔ آجکل افیون، چرس اور شراب کے استعمال کے ساتھ ساتھ ہیروئن کا زہر بھی فضا کو مسموم کر رہا ہے۔ نشہ کے ڈیلر قوم سے رقم بٹور کر قوم کیلئے تباہی کے گڑھے کھود رہے ہیں۔ ایسے افراد جو قوم کو نشے کی لت لگاتے ہیں۔ ملک و ملت کے ہی نہیں انسانیت کے بھی دشمن ہیں۔ ایسے لوگوں کا وجود قوم کی ترقی کی راہ میں حائل ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ معاشرتی ناہمواریوں اور نامساعد حالات کی وجہ سے کوئی شخص احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے اور نشہ کو اپنے جسم کا مداوا سمجھ بیٹھتا ہے جو بوجہ کج فہمی تباہی پر منتج ہوتا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ نئی نسل کو اسلامی تعلیمات سے بہرہ ور کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں معاشرہ میںجائز مقام دلانے کیلئے ضروری سہولتیں بہم پہنچائیں، مساوات کا عملی مظاہرہ کریں اور بچوں کی مکمل نگہداشت کریں۔ عوام کو چاہیے کہ جہاں کہیںبھی منشیات کا اڈا ہو، اس کی نشاندہی کریں اور پولیس کے ساتھ مل کر اس کا صفایا کریں، گلی محلوں میں منشیات کے زہر کے خلاف انجمنیں معرض وجود میں آنی چاہیں جو منشیات فروشوں اور ’’جہازوں‘‘ کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کریں، نیز عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر گواہی دے کر ان کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں۔ پولیس اکیلی کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ عوام کا تعاون بہرطور ضروری ہے۔