رمضان اور آئی ڈی پیز

کالم نگار  |  عتیق انور راجا
رمضان اور آئی ڈی پیز

رمضان المبارک کا مہینہ صرف عبادت کا مہینہ نہیں بلکہ یہ ربّ سے سچی محبت کے اقرار کے ساتھ ساتھ خدمتِ خلق اور انسانیت کے درد کو محسوس کرنے کا مہینہ ہے۔ کھانے پینے کی انواع و اقسام کی اشیاء کے ہوتے ہوئے صرف اپنے ربّ کے خوشنودی کیلئے اُن سے پرہیز کرنا دراصل محبت کا امتحان ہے اِس امتحان سے بہت سے نتائج اخذ ہوتے ہیں۔ پہلا نتیجہ تو یہ ہے کہ روزہ دار جب خود بھوک اور پیاس کے مراحل سے گزرتا ہے تو اُس کے دل میں دوسروں کے دُکھ درد کا احساس شدت سے جنم لیتا ہے۔ روزہ اُسے نعمتوں کی تقسیم کی روش پر چلنے کی تلقین کرتا ہے پھر اپنے ربّ کے سامنے ہر لمحہ حاضری انسانی دل میں کئی سوالات کو ابھارتی ہے اُسے اپنے فرائض سے روشناس کرتی ہے اور وہ اپنا محاسبۂ خود کرنے کے عمل سے گزرتا ہے۔ چیزوں کا اچھا اور بُرا پن اُس واضع ہونا شروع ہو جاتا ہے سماجی زندگی میں ہونے والی کوتاہیاں اُسے راہِ راست کی طرف ترغیب دیتی ہیں۔ وہ اپنی اصلاح کرتے ہوئے معاشرے کے دُکھ درد سے جُڑ جاتا ہے۔ خدا کی محبت، رُسولؐ کی عقیدت اور اسلامی شعار کی ادائیگی ہر لمحہ اُسے انسانوں کے مسائل کے قریب تر کرتی رہتی ہے کیونکہ دین کا مطالعہ اُس پر واضع کر دیتا ہے کہ ربّ کو خوش کرنے کیلئے اُس کی مخلوق کا بھلا کرنا بہت ضروری ہے۔ اِس رمضان میں پاکستان پر ایک اور ذمہ داری آن پڑی ہے اور وہ شمالی وزیرستان میں بے گھر ہونے والے بہن بھائیوں کو زندگی کی شاہراہ پر واپس لانے کی ذمہ داری ہے۔ وہ لوگ جو کسی سکول، کالج یا اور بلڈنگ میں پناہ گاہ ہیں تو کہیں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہمارا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ ہم اُن کے اپنے ہیں اور انہیں بھروسہ ہے کہ اِس مشکل گھڑی میں ہم اُنھیں بھول نہیں سکتے۔ اُن کے بھوکے پیاسے بچوں کو تصور
میں لا کر ہم طرح طرح کی نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے اِس وقت پورے پاکستان کے لوگوں کو انہوں نے آواز دی ہے جن کے دل خدا کی یاد سے آباد ہیں اُن تک وہ آواز پہنچ چکی ہے اور وہ متحرک ہو چکے ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے اپنے اِن بے گھر بہن بھائیوں کے پچاس کروڑ روپے کا فنڈ قائم کر کے ایک اِحسن قدم اٹھایا ہے جسے چیف منسٹر ریلیف فنڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اِس حوالے سے لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھی بڑھ چڑھ کر اِس کارے خیر میں حصہ لیں۔ تمام سنجیدہ اور جمہوری روایات سے جُڑی سیاسی جماعتوں کے کارکن خدمات فراہم کر رہے ہیں سماجی اور رفاعی تنظیمیں بھی اپنے طور پر کھانے پینے اور دیگر ضروری اشیاء وہاں پہنچانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں لیکن یہ مسئلہ صرف چند تنظیموں، پارٹیوں یا کارکنوں کا نہیں بلکہ اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کا ہے۔ وہ ہمارے لیے اَمن کی فضا قائم کرنے کی جدو جہد میں اپنے گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ہم جو اپنے محلات میں سکون سے بیٹھے ہیں تو یہ سب ہماری پاک فوج کی بہادری اور بے مثال قربانی کے باعث ہے۔ اِس لیے ہمارا قومی فرض ہے کہ ہم رمضان کے با برکت مہینے میں اپنے قومی اور دینی فرض کو نبھاتے ہوئے اپنی استطاعت سے بڑھ کر اُن کی مدد کو آگے آئیں مصیبت کے وقت کی گئی ایک چھوٹی سی امداد بھی بہت بڑی نیکی بن جاتی ہے۔ درخواست ہے کہ اور دُعا بھی ہے کہ عمران خان، طاہر القادری اور شیخ رشید جیسے رہنما بھی اِس وقت اپنی ذاتی مفاداتی سیاسی حکمتِ عملی میں ذرا سی ترمیم کر لیں اور سب مل کر قوم کو شمالی وزیرستان سے آنے والے بے گھر اور بے یار و مدد گار بہن بھائیوں کی آبادی کا منصوبہ بنائیں۔ جب تک ہم سب ایک ہو کر متاثرین وزیرستان کی مدد کیلئے کوشش نہیں کریں گے خاطر خواہ کامیابی حاصل ہونے کی امید نہیں ہے۔ میڈیا اور دیگر اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اِس وقت اِس مسئلے کو زیادہ اہمیت دیں ہر فرد روزانہ ایک روپیہ بھی دے تو ہر روز اٹھارہ کروڑ روپے جمع ہو سکتے ہیں۔ خدا کرے وہ دِن جلد آئے جب یہ تمام آپریشن کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچے اور تمام بے گھر ہم وطن بہن بھائی اپنے اپنے گھروں کو لوٹیں۔