انسان سے مشین اچھی

کالم نگار  |  مسرت قیوم
انسان سے مشین اچھی

پچھلے ہفتہ فیصل آباد جانا ہوا شیڈول میں ایک’’ فیکٹری‘‘ کا وزٹ بھی شامل تھا۔ سو وقت مقررہ فیکٹری پہنچ گئے۔ فیصل آباد کے معروف تجارتی مرکز کی پہچان کپڑوں پر کڑھائی والی مشینوں کی کثرت تعداد ہے۔ دفتر میں ہمارا استقبال نو عمر مالک ’’محمد احمد نعیم، مبشر نعیم‘‘ نے کیا۔ مالکان کی والدہ محترمہ مسز عشرت نعیم ہمارے ہمراہ تھیں۔ ایک بڑے سے ہال میں دونوں جانب بڑی بڑی مشینیں لگی ہوئی تھیں۔ ایک ترتیب سے مشینوں کے پُرزہ جات ۔۔۔ سوئیاں آگے پیچھے move کرتے اور ایک رنگ کے کپڑے پر بھرے گئے خاکوں کو مختلف سوتی دھاگوں والی نلکیاں مہارت سے قوسِ قزاح بھر رہی تھیں۔ کپڑے پر اتنی باریک بینی سے کام ہوتا دیکھ کر میں ’’اﷲ تعالیٰ‘‘ کی قدرت کاملہ پر دم بخود رہ گئی۔ استفسار پر ’’سٹاف‘‘ نے بتایا کہ مشین کا نظام کمپیوٹر کے تحت چلتا ہے۔ کسِ کپڑے پر کون سا ڈیزائن بنانا ہے۔ کڑھائی کیلئے کونسے رنگ کے دھاگے استعمال کرنے ہیں۔ وہ سارا خاکہ لکھ کر ہم مشین کے کمپیوٹر میں ’’Feed‘‘ کر دیتے ہیں۔ یوں کام کی نفاست اور حسب خواہش تکمیل میں کوئی رُکاوٹ مانع نہیں ہوتی ۔۔۔ نتائج حسبِ فرضی اور خوش کُن آتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی بھی کیا کمال کی ایجاد ہے۔ آپ دنیا سے کٹ کر رہنا چاہتے ہوں تو بس ایک ’’سمارٹ موبائل فون‘‘ ہی کافی ہوگا۔ وہ تمام ایجادات جو آج ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چُکی ہیں۔ اگر انصاف سے کام لیں تو وہ ابتدائے آفرنیش سے ہی ہمارے وجود کا حصہ بنا دی گئی تھیں۔ انسان کا اندرونی نظام کیا کسی کمپیوٹر سے کم ہے؟۔ ’’D.N.A کیا ’’بلا ‘‘ ہے جو صدیوں کی خاک چھاننے، عرق ریزی کرنے کے بعد ’’سائنسدان‘‘ اِ س دریافت پر پہنچے۔ ’’اﷲ تعالیٰ‘‘ نے ہر انسان کے کمپیوٹر میں رنگ، نسل، خون کی
 ساخت وغیرہ وغیرہ لکھ کر ’’Feed‘‘ کر دی تھی۔ دل، دماغ سے لے کر پائوں کی چھوٹی انگلی تک سب ایک خود کار نظام کے تحت’’ working‘‘ کرتے ہیں۔ ایک بھی عضو خراب ہو جائے تو پورا انسانی وجود کسی مٹی کے ڈھیر کی طرح ڈھے جاتا ہے۔ قارئین! انسان کی بنائی مشین اُس کے حکم کے تحت چل سکتی ہے تو ’’انسان‘‘ اپنے خالق کے بنائے گئے اصول و ضوابط کے تحت زندگی کیوں نہیں گزار رہا۔ انسانی وجود کی حفاظت کیلئے حکم کردہ طبی و اخلاقی، معاشرتی اصولوں کو کیوں روندنے پر ’’تلا‘‘ رہتا ہے؟’’انسان سے تو مشین‘‘ اچھی لگی کہ کم از کم اپنے مالک کی وفا دار تو ہے۔ ہماری زندگی میں تو وفا نام کی چیز نہیں۔ ہم اپنے وجود سے لے کر مذہب تک تمام چیزوں، اصولوں روایات کے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔ آج کا انسان اپنے خالق کا سب سے بڑا نافرمان ہے۔ وہ تمام کلیے، سماجی اصول، معاشرتی آداب انسان کی پہچان کہلاتے تھے اب متروک ہو چُکے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ ہم اصول و ضوابط کی سلیٹ کو نظر انداز کر کے ایک خوش آسودہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ آدھے سے زائد دین کا حصہ احترام آدمیت پر مشتمل ہے۔ ہمارے نزدیک ہر مسئلے کا حل بندوق ہے ۔۔۔ لڑائی ہے ۔۔۔ دانش کے ساتھ مل بیٹھنے کی گنجائش ہم نہیں نکال سکتے۔ ہمارے مسائل لاینخل نہیں مگر ان کا حل دلیل کے ساتھ مکالمہ اور تبادلہ خیال ہے جو ہمارے یہاں ناپید ہے۔ ہمارا دماغ دانش و خراست کی گتھیاں سلجھانا ہے۔ دل پیار، محبت، امن کا درس دیتا ہے مگر ہم ماننا تو کیا زیادہ وقت سُننے پر ہی آمادہ نہیں ہوتے۔ جسم انسانیِ کا ایک ایک عضو ’’اﷲ تعالیٰ‘‘ کے مقرر کردہ ضابطوں، اصولوں، کلیات پر عمل کرتا ہے مگر جو ہمارے رب نے ہمارے وجود کے لیے درکار احتیاطی تدابیر مقرر فرما دیں۔ اُس کی خلاف ورزی کرنے کے نتیجہ میں آج ہر طرف انتشار، بے سکونی ہے۔جلال الدین رومی کا قول ہے ’’جو اپنے اندر باطن کی آواز سُنتا ہے اُسے باہر کے الفاظ کو سُننے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ تو یہ باطن کیا ہے؟ یہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ’’feed‘‘ کردہ مشین ہی تو ہے۔ اس لئے آئیے اِس ماہ مبارک میں عہد کریں کہ ہم ہمیشہ اپنے باطن کی آواز سُنیں گے۔