امام کا وضو

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری
امام کا وضو

ہمارے تاجر مصر ہیں کہ انسان کا ارفع ترین کام محض منافع کمانا ہے۔ وہ اس کے لئے کسی اخلاقیات کے قائل نہیں۔ ملکی اور قومی مفاد کے نام کی اشیاء ان کے ذہن کے ان کونوں کھدروں میں پڑی رہتی ہیں جو بیکار اور ناقابل استعمال چیزوں کا مسکن ہے۔ مصر سے سید قطب شہید کا فتوی عوام تو درکنار ابھی ہمارے علمائے اکرام تک بھی نہیں پہنچا۔ ’’غیر منصفانہ شرح منافع بھی سود کی مانند حرام ہے‘‘۔ ادھر کوئی کسی بھی شرح منافع کو غیر منصفانہ سمجھنے کو تیار نہیں۔ ہم انرجی کے بحران کے بحران سے دو چار ہیں۔ لیکن ہماری کوئی تاجر تنظیم یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ ہم ساری دکانداری سورج کی روشنی میں منتقل کرلیں۔ سرکار آٹھ بجے بازار بند کروانے میں بالکل بے بس ہے۔ میرے دونوں بیٹے تعلیم کے سلسلے میں دو دو برس تک برطانیہ رہے ہیں۔ ان سے یہ بات سن کر حیرت ہوتی ہے کہ وہاں شام کے بعد کھانے پینے کی چند دکانوں کے سوا تمام بازار بند ہو جاتے ہیں۔ قحط اور قلت کے دنوں میں ایک حل راشننگ بھی ہوا کرتا ہے۔ ہمارا حکمران طبقہ اس حل کو ایک نظر دیکھنے کو تیار نہیں۔ بنگلہ دیش میں گرمی کے موسم میں سرکاری افسروں پر ٹھنڈے کوٹ پتلون پہننے پر پابندی عائد ہے۔ لیکن ہمیں ایسی تمام حرکتیں بیوقوفانہ سی لگتی ہیں۔ بنگلہ دیش ہم سے علیحدگی اختیار کر کے ترقی کی شاہراہ پر سرپٹ بھاگ رہا ہے۔ وہاں انرجی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے آبادی بھی کنٹرول کر لی ہے۔ وہ دہشت گردی سے بھی بچے ہوئے ہیں۔ ایک وہ ہیں کہ جنہیں تصویر بنا آتی ہے اور ادھر ہم ہیں کہ اپنی بنی سنوری صورت بھی بگاڑ بیٹھے ہیں کیا ہم اپنے مسائل کا حل چاہتے ہی نہیں؟ بالکل اسی روایتی عاشق کی طرح ہی۔
یہ درد ہے ہمدم اسی ظالم کی نشانی
دے مجھ کو دوا ایسی کہ آرام نہ آئے
شادی بیاہ پر بے پناہ اخراجات ہمارا ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ لڑکی کی شادی پر مدد امداد مانگنا اب لوئر مڈل کلاس طبقہ بھی معیوب نہیں سمجھ رہا۔ سوشل ورکر اس محاذ پر سرگرم ہیں۔ یہ بھی اجتماعی شادیوں کا میلہ رچاتے ہیں۔ تصویر میں پندرہ بیس جوڑے سر جھکائے مودب بیٹھے نظر آتے ہیں۔ خبر میں بتایا جاتا ہے کہ انہیں جہیز میں فلاں فلاں چیزیں دی جا رہی ہیں۔ مخیر حضرات اکڑتے‘ اتراتے اور اینٹھتے ہوئے تصویر میں دکھائی پڑتے ہیں۔ ہمیں اجتماعی شادیوں کے ان ناٹک ڈراموں کی ضرورت نہیں۔ ضرورت سادگی کے کلچر کے فروغ کی ہے۔ اب گوجرانوالہ کی نوکر شاہی نے بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دی ہے وہ ہر تحصیل میں سستے شادی گھروں کی تعمیر کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں اس سلسلہ میں سرکاری جگہوں کی تلاش جاری ہے۔ ایک بہت اچھی خبر سعودی عرب سے آئی ہے۔ اگر ہم سیکھنا چاہیں تو اس میں ہمارے سیکھنے کے لئے بہت کچھ موجود ہے۔ سعودی عرب کے علاقے فرسان کے ایک رہائشی یحییٰ مساوی کی کاوش سے 39 جوڑے انتہائی کم خرچ شادی بندھن میں بندھ گئے ہیں۔ یحییٰ نے بتایا کہ اس نے اپنے دو دوستوں کو راضی کیا کہ وہ اس کے ساتھ ایک ہی روز شادی کروائیں۔ راضی ہونے پر تینوں نے واٹس ایپ پر اپنا پیغام چھوڑ دیا۔ اس کے نتیجے میں 39 نوجوانوں نے ایک ہی روز شادی کروانے پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ شادی پر کم از کم اخراجات کے لئے ان افراد کے درمیان طے پایا کہ ہر دولہا پانچ ہزار ریال ادا کرے گا۔ یحییٰ نے بتایا کہ عموما شادی پر ساٹھ ہزار ریال تک اخراجات آتے ہیں۔ اتنی کم رقم میں شادی کی اس کاوش کو خوب سراہا گیا ہے۔ ان سعودیوں کو چھوڑیں اور اپنی حکومت کی خبر لیں۔ ہماری حکومتی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ پنجاب میں ایک سال سے ایڈووکیٹ جنرل کا عہدہ خالی پڑا ہے۔ آخر کار لاہور ہائی کورٹ کو حکم دینا پڑا کہ اس عہدے کو دو ہفتوں میں پر کیا جائے۔ نیلما درانی نے اپنے تازہ اشعار میں اس دن سے ڈرنے کا کہا ہے جب پاگل ہوش میں آئیں گے بہرے راج سنبھالیں گے اور اندھے سزائیں سنائیں گے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ برے دن ابھی آگے آنے والے ہیں؟ افواج پاکستان کے سابق ترجمان ریٹائرڈ میجر جنرل اطہر عباس بتا رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ تین سال قبل کر لیا گیا تھا۔  پھر ایک سال میں فوج نے اس فیصلے پر عمل درآمد کی تیاریاں بھی مکمل کر لی تھیں۔ لیکن اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق کیانی اس فیصلے پر عمل کرانے سے گھبراتے اور ہچکچاتے رہے۔ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے کو ٹالتے گئے۔ اس وجہ سے دہشت گردوں کو اپنے پائوں مضبوط کرنے اور قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ اس ہچکچاہٹ اور تذبذب کا بہت حد تک ناقابل تلافی نقصان پورے ملک اور قوم کو بھگتنا پڑا ہے۔ اب ایک سوال ہے کہ ہمارے ملک میں مرضی اور حکم کس کا چلتا ہے؟ اب کیا یہ ضروری ہے کہ ہر سوال کا جواب میرے پاس سے ہی موجود ہو۔ مل جل کر اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہیں عائشہ جلال سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا پاکستان میں سویلین حکومت کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے اور چار دہائیوں سے جاری غیر جمہوری بالادستی کو چیلنج کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئیے؟ عائشہ جلال نے اس سوال کا جواب یوں دیا ’’ملک پر موثر حکمرانی‘ وفاق کا سیاسی توازن دانشمندی سے قائم کرنے‘ منتخب اداروں کو مضبوط بنانے اور فوجی قیادت کے ساتھ غیر ضروری جھگڑوں سے گریز کر کے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ہر موقع استعمال کرنے کی روش ترک کرنا ہو گی۔ خاص طور پر اب اس وقت ملک کے شمال مغربی شورش زدہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے بھرپور فوجی آپریشن جاری ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں سویلین بالادستی کے قیام کے لئے کسی مداخلت کے بغیر بار بار انتخابات ہی کافی نہیں۔ جمہوریت کی بالادستی کے لئے سب سے لازمی چیز سیاستدانوں کی پاکیزگی اور برداشت ہے۔ امام کا باوضو ہونا مقتدیوں کی نسبت کہیں زیادہ اہم ہے۔
پس تحریر: گوجرانوالہ میں عملاً ڈاکو راج ہے۔ اراکین اسمبلی خاموش ہیں۔ آر پی او کہیں ’’روپوش‘‘ ہیں۔ نہ کہیں دکھائی دیتے ہیں اور نہ کبھی سنائی دیتے ہیں۔ سی پی او راجہ رفعت اپنی ’’خود ساختہ رفعتوں‘‘ پر پھولے نہیں سما رہے کیا وزیر اعلیٰ پنجاب عوام پر رحم فرما سکتے ہیں؟