شہرہ آفاق قصہ(1)

شہرہ آفاق قصہ(1)

خطہ پوٹھو ہار ادبی و ثقافتی حوالے سے تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔یہاں پر ایسے ایسے نابغہ روزگار پیدا ہوئے جنہوں نے علم و ادب کی شمعیں اُس زمانے میں روشن کیں جب با قا عدہ رسمی تعلیم کی درس گاہیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔تخلیق عطیہ خداوندی ہے ۔جب کوئی ذہن تخلیق کے مرحلے سے گزرتا ہے تو الہامی کیفیات کے زیرِ اثر آفاقی فن پارے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔مرزا صاحباں کا شہرہ آفاق قصہ ایک ایسے ہی ذہنِ رسا کا کرشمہ ہے ۔اس منظوم قصہ کے پہلے خالق پیلو چکوال کے نواحی گاو¿ں میںپیدا ہوئے جو کہ بعد ازاں پیلو کی مناسبت سے مہرو پیلو کہلایا۔پیلو نے مغل بادشاہ اکبر کے عہدِ حکومت میں 1580 میں جنم لیا ۔انہوں نے معروف رومانوی داستاں مرزا صاحباں، دورِ جہانگیر 1606 سے 1628 میں تخلیق کی۔پیلو کے مطابق جھنگ کے علاقے دانا آباد میں کھرل سردار ونجھل کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام مرزا رکھا گیا۔ اسی دور میں نزدیکی گاو¿ں کھیوا کے سردار ماٹی خان کے ہاں صاحباں پیدا ہوئی ۔بعض روایات کے مطابق مرزا خاں کی ماں ماٹی خان کی بہن بتائی جاتی ہے جبکہ کچھ محققین کے نزدیک مرزا صاحباں خالہ زاد تھے۔رشتہ دار ہونے کی وجہ سے دونوں کا بچپن اکٹھے گزرا اور یہی قربت عشق میں بدل گئی۔اس داستان میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب صاحباں کی شادی طاہر خان سے طے کر دی گئی۔صاحباں نے بہت اصرار کیا کہ یہ فیصلہ واپس لے لیا جائے ۔ اس کی ضد کا کوئی فا ئدہ نہ ہوا بلکہ نتیجتاً صاحباں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ مرزا سے ملاقات پر پابندی عائد کرنے کر ساتھ ساتھ طاہر خان کے ساتھ شادی کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔صاحباں نے اپنے نوکر کرمو کو اعتماد میں لے کر مرزا کو پیغام بھجوایا کہ وہ صاحباں کو جلد از جلد اپنا لے ورنہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔پیغام ملتے ہی مرزا نے صاحباں کے گاو¿ں کا رخ کیا اور رات کے کسی پہر صاحباں کو اپنے ساتھ لے کر انجانی راہوں کا مسافر بن گیا۔ لمبی مسافت طے کرنے کے بعد جب مرزا کو یقیں ہو گیا کہ وہ اتنی دور پہنچ گیا ہے کہ جہاں اسے کوئی خطرہ نہیں تو وہ سستانے کے لیے لیٹ گیا ۔اُدھر صاحباں کے بھائیوں کو جونہی دونوں کے فرار کی خبر ہوئی ، وہ سیخ پا ہو گئے اور اپنی تلواریں سونت کر ان کی تلاش میں نکل پڑے۔تلاش کرتے کرتے وہ اسی جنگل میں جا نکلے جہاں مرزا صاحباں سو رہے تھے ۔گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز سن کر صاحباں بیدار ہو گئی۔ اس کی نظر اپنے بھائی شمیر خان پر پڑی تو گھبرا گئی۔اسے معلوم تھا کہ مرزا ماہر تیر اندازہے۔ اس کا نشانہ کبھی خطا نہیں جاتا اور دوسری طرف اپنے بھائی کی شمشیر زنی سے بھی بخوبی واقف تھی۔لہذا اس نے اپنے ماں جائے کی محبت اور اپنے عشق کو بچانے کے لیے کشت و خوں کے بجائے یہ فیصلہ کیا کہ بھائی کی منت سماجت کر کے اسے اس بات پر راضی کر لے گی کہ وہ بخوشی اسے مرزا کے ساتھ بیاہ دے۔ یہ سوچ کر اس نے مرزا کے جاگنے سے پہلے ہی تیر کمان وہاں سے ہٹا دیا۔جونہی مرزا کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ صاحباں کے بھائی اس کے سر پر پہنچ چکے تھے۔وہ مقابے کے لیے اٹھا مگر ہتھیار نہ پا کر سخت پریشان ہوا۔ (جاری ہے)