غربت اور جہالت کے خلاف جنگ بھی ہونی چاہیے

غربت اور جہالت کے خلاف جنگ بھی ہونی چاہیے

میرے دوست پندرہ سال بعد برطا نیہ سے آئے ،بے پناہ مصروفیات کے باوجود گھر ملنے آئے۔ میرے یہ دوست برطانیہ میں کافی عرصے سے مقیم ہیں ۔ آخری بار جب انہیں دیکھا تو کلین شیف تھے لیکن اب یہ باریش اور نمازی بھی دکھائی دئے ۔ دیکھتے ہی سوال کیا ۔کیا یہ تبدیلی کب آئی ؟ مسکراتے ہوئے کہا آپ نے یہ سوال کیوں پوچھا جواب میں کہا کہ دھرنے کو دیکھ کر سوال نے جنم لیا ۔ کہا مجھے اس حالت میں لانے والے میرے کریسچن دوست ہیں جو خود بھی مسلمان ہوئے بلکہ ان کی بدولت میں بھی سچا مسلمان بن گیا ۔ انہیں اسلام سکھاتے سکھاتے میں بھی اسلام میں داخل ہو گیا۔ میرے یہ دونوں دوست نہ صرف نمازی ہیں بلکہ اب بعض اوقات امامت بھی کراتے ہیں ۔ تفصیل سے بتایا کہ ہم نے برطانیہ میں اپنی مسلم کمیونٹی کے تعاون سے ایک کرائے کی بلڈنگ لے رکھی ہے ۔ یہی ہماری مساجد بھی ہے جنازہ گاہ بھی ہے ۔ علمی ادبی محفلیں بھی یہی منعقد کی جاتی ہیں یہ جگہ چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے ۔کوئی تالے نہیں لگاتے۔کوئی مسجد کا امام نہیں ہے نماز کے وقت جس کا دل چاہے امامت کرا دے ۔ ہمارے پاس ولنٹیئر ز ہیں جو بچوں بڑوں کو قرآن کا درس دیتے ہیں اسی طرح کسی کے ہاں بچے کی ولادت ہوتی ہے تو بچے کا باپ یا ان کا کوئی رشتہ دار نومولود کے کان میں اذان دیتا ہے ۔ فوت ہونے کی صورت میں مل کر میت کو غسل دیتے ہیں ۔ کفن مسجد میں موجود ہوتا ہے کسی کو اس کےلئے کئی جانا نہیں پڑتا ۔ قبرستان بھی موجود ہے جو اپنے عزیز و اقارب کو پاکستان لے جانا چاہتے ہیں ،انہیں تابوت بھی فراہم کیا جاتا ہے ۔ جنازہ بھی نماز کی طرح کوئی بھی پڑھا سکتا ہے ہم نے ان کاموں کےلئے مولوی کا رول ختم کر دیا ہے۔ اسلام میں امامت کرنا ، جنازہ پڑھانا ، قرآن سکھانا ثواب ہے ۔ اس پر ہماری کمیونیٹی میں باقاعدہ ڈبیٹ ہوئی تھی ۔ پھر سب نے بات پر اتفاق کیا کہ ہم ان کاموں کےلئے کوئی پیڈ مولوی امام نہیں رکھیں گے۔اب یہ کام برطانیہ میں سب مسلم کمیونٹی والے کر رہے ہیں ۔ایسا کرنے سب خوش ہیں پاکستان میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے ۔ اسلام کو جتنا بدنام ہم خود کرتے ہیں اتناکوئی غیر مسلم نہیں کرتا ۔دھرنے کے بارے میں کہا نو بل کاز تھی لیکن طریقہ مناسب نہیں تھا ۔ اس نوبل کاز کو سیاسی رنگ میں رنگ دیا گیاجو کسی طرح بھی قبول نہیں ۔ان لوگوں نے سیاست چمکانے کےلئے اسلام کو یوز کیا۔ کاش یہ گالیاں نہ دیتے ۔ راستے بلاک نہ کرتے ۔ تو ایک اچھا میسج جا سکتا تھا ۔ پوچھا اگر یہ ایسا نہ کرتے تو کیا کرتے ۔ کہا کسی میدان کسی مسجد میں بیٹھ جاتے ،بھوک ہڑتال کرتے ۔اگر مر جاتے تو امر ہو جاتے،شہید ہو جاتے ۔ اسلام ہمیں راستے سے پتھر اور کانٹے ہٹانے کا درس دیتا ہے ۔ یہاں تو انہوں نے رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کر دئے۔جس سے غریبوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوئے ۔مریض ہسپتال نہ جا سکے ۔ بچے سکولوں کالجوں میں جانے سے قاصر رہے۔ اداروں میں کام ٹھپ رہا انہوں نے وہ کچھ کیا جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص سرخ بتی کو کراس کر لے اور پولیس والا اسے ٹکٹ دینے کےلئے روکے اور وہ شخص شور مچائے کہ لوگو ں مارو اس پولیس والے کو ۔اس نے مجھے آیت پڑھتے ہوئے ڈسٹرب کیا ہے اب آپ بتائیں کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ غلطی کس کی ہے۔ قصور وار کون ہے۔ ہم نبی کریم کا نام سنتے ہی جھوم جاتے ہیں مگر نبی کریم کا حکم سنتے ہی گھوم جاتے ہیں ۔ کہتے ہیں میرے رگ رگ میں ہے نبی نبی ، لیکن پڑھتے ہیں نمازیں کبھی کبھی ہمارا ملک ایک ایٹمی پاور رکھنے والا واحداسلامک ملک ہے دشمن ہم پر کئی جنگیں مسلط کر چکا ہے ۔ آج بھی وہ کوئی موقع ضائع نہیں کرتا ۔ اب جنگ توپ ٹینکوں سے نہیں ہوا کرے گی ۔ اب جنگیں معاشی ہونگی ۔جس ملک کی معشیت مضبوط ہو گی جیت اسی کی ہوگی ورنہ کچلا جائے گا ۔ کبھی سوچا ہے کہ دشمن نے کراچی میں کیا کچھ نہیں کیا ۔ اس نے کراچی میں کوئی میزائلوں سے حملہ نہیں کیا لیکن وہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا ۔ دشمن نے کراچی شہر میں موجود کارخانوں ،فیکٹریوں کو نشانہ بنایا ۔انہیں آگ لگاتا رہا ۔ملک دشمن عناصر مالکان سے بھتہ لیتے رہے ۔ جس سے سرمایہ دار اپنی فیکٹریاں کارخانے کراچی میں بند کر کے دوسرے ممالک میں شفٹ ہو نے پر مجبور ہوئے۔ یوں کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا جسے غریبوں کے لئے ماں کی گود سمجھا جاتاتھا ۔ اب یہ شہر کرائم ،اندھیروں ،کوڑاکرکٹ ،وبائی امراض کا شہر بن چکا ہے ۔ چن چن کر کارخانے فیکٹریاں انسانی ورکروں سمیت جلائی گئیں ۔ خوف سے اور مجبور ہوکر کراچی کے کارخانوں اور فیکٹریوں کے دھویں بند ہوئے ۔ایسا کرنے سے لاکھوں گھروں کے چولہے بج گئے ۔لاکھوں لوگ بے روز گار ہوئے۔جس سے معشیت کو بہت بڑا دھچکا لگا ۔اس قسم کے افٹر شاک کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جب سے چین کے ساتھ ملکر گوادر پورٹ کو ورکنکنگ کرنے اور سی پیک کا اعلان ہوا دشمن حرکت میں آ گیا ۔دشمن ہمارے اپنے لوگوں کو خریدتا ہے اور پھر ملک میں دہشت گردی پھیلاتا ہے ۔ اب جو کچھ ہوا ہے اس میں بھی اپنے ہی شامل ہیں۔ کون نہیں جانتا ہے کہ ہڑتالوں سے ملکی معشت کا بیڑا غرق ہو تا ہے۔ اگر ہم خود ملکی حالات کو تباہ وبرباد کریں گے ،ملکی املاک کو نقصان پہنچائیں گے توڑ پھوڑ کریں گے ۔ ملک قوانین کو نہیں مانیں گے۔ججز کو گالیاں دیں گے ۔ اپنی مرضی سے غیر قانونی طریقے سے مطالبات منوائیں گے تو بتائیں اس کا فائدہ کس کو ہوگا اور نقصان کس کا ہوگا۔ خوش کون ہو گا۔ کہا اس وقت آپ کو دہشت گردی کے ساتھ غربت اور جہالت کے خلاف بھی جنگ لڑنا ہو گی ۔ مگر یہ جنگ لڑنا کسی اکیلے کے بس کی بات نہیں۔اسے ہم سب نے ملکر لڑنا ہو گا ۔