تصوف.... چند موتی!

تصوف.... چند موتی!

حضرت حبیب عجمیؒؓ بڑے عالی ہمت اور موقر بزرگ تھے ، اہل مرتب لوگوں میں آپ کا بہت اونچا مقام تھا ابتداءمیں حضرت خواجہ حسن بصریؒ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ جب عملی زندگی میں آئے تو سود کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ طبیعت میں بھی ہر طرح کا بگاڑ تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو توبتہ العصوح ارزانی فرمائی اور آپ رجوع الی اللہ ہوئے ۔ آپ نے تھوڑا سا علم خواجہ حسن بصریؒسے سیکھا۔ آپ کی زبان عجمی تھی جس پر عربی زبان رواں نہ ہو سکی ۔ یہاں تک کہ آپ اس مقام پر پہنچے کہ ایک دن خواجہ حسن بصری ؒ ان کی خانقاہ سے گزرے کہ آپ مغرب کی نماز کی اقامت کہہ کر نماز کے لیے کھڑے ہو چکے تھے، خواجہ حسن بصری ؒ اندر آئے اور ان کی اقتداءمیں نماز نہ پڑھی کیونکہ ان کی زبان فصیح نہ تھی اور وہ قرآن بہتر طریقے سے نہ پڑھ سکتے تھے ۔ رات کو سوئے تو جواب میں دیدار الٰہی سے مشرف ہوئے اور عرض کی بار خدایا ! تیری رضا کس چیز میں ہے ۔ جواب ملا اے حسن
تجھے میری رضا مل چکی تھی لیکن نے تو نے قدر نہ جانی ، خواجہ حسن بصری ؒ نے عرض کیا بار خدایا وہ کیسے ؟ جواب ملا تو اگر کل حبیبؒ کی اقتداءمیں نماز پڑھ لیتے اور تمہیں اسکی صحت نیت کا ا نکار نماز سے باز نہ رکھتا تو میں تجھ سے راضی ہو جاتا ۔ بزرگان طریقت میں یہ بات مشہور ہے کہ جب خواجہ حسن بصری ؓ حجاج بن یوسف کے ظلم سے
بھاگے تو حضرت حبیب عجمیؒ کی خانقاہ میں چلے آئے ۔ وہ لوگ ڈھونڈتے ہوئے وہاں آئے اور پوچھا اے حبیب! حسن کہاں ہیں ؟ کہیں انہیں دیکھا ہے ؟ آپ نے کہا خانقاہ میں آئے ہیں ۔ انہوں نے اندر آکر دیکھا تو کسی کو نہ پایا ۔ پھر خیال کیا کہ حبیب عجمی ؒ نے ان سے مذاق کیا ہے ۔ انہوں نے درشت لہجے میں کلام کیا اور کہا تم جھوٹ بولتے ہو کہ وہ یہاں ہے ۔ آپ نے قسم کھائی کہ میں سچ کہتا ہوں ۔ وہ دوبارہ بلکہ سہ بارہ اندر گئے لیکن حسن بصری ؒ کو نہ پا سکے ۔ آخر واپس چلے گئے ۔ حسن بصری ؒ باہر آئے اور کہاں اے حبیب ؒ میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالی نے تیری برکتوں سے مجھے ان کی نظروں سے پوشیدہ رکھا لیکن تم نے ان سے یہ کیوں کہا کہ میں اندر ہوں ۔ حضرت حبیب ؒ نے کہا ۔ اے استاد ! وہ میری راست گوئی کی وجہ سے تمہیں نہ دیکھ سکے اگر میں جھوٹ بولتا تو وہ مجھے اور تجھے دونوں کو ذلیل کرتے۔
حضرت مالک دینارؒ سلسلہ تصوف کے بڑے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں آپ خواجہ حسن بصریؒ کے راز داروں میں شامل تھے۔ حضرت مالک دینار ؒ غلام تھے اور اپنے والد کی غلامی کے ایام میں پیدا ہوئے تھے جب کچھ بڑے ہوئے تو عیش و طرب میں مشغول رہتے زیادہ وقت عود اور باجوں میں مصروف رہتے ۔ لیکن رب تعالیٰ کی بھی اپنی ہی رضا ہوتی ہے ایک دن دوران عیش وطرب جس باجے کو بجا رہے تھے آواز آئی ۔ اے مالک تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو توبہ نہیں کرتا ۔ اس پر وہ تمام چیزوں سے دستکش ہوگئے اور حسن بصری ؒ کے پاس چلے گئے ۔ پکی توبہ کی اور اس مقام پر پہنچے کہ ایک دن کشتی میں سوار تھے کہ کسی کا قیمتی نگینہ گم ہو گیا ۔ ہر طرف ڈھونڈا گیا مگر نہ مل سکا ۔ حضرت مالک دینار ؒ کو کوئی بھی نہ جانتا تھا چنانچہ سب نے آپ پر تہمت سرقہ لگا دی ۔ آپ نے اس عالم میں آسمان کی طرف دیکھا تو دریا میں جتنی مچھلیاں تھیں پانی کی سطح پر آئیں۔ ہر ایک کے منہ میں ایک ایک نگینہ تھا۔ آپ نے ان میں سے ایک نگینہ لے کر اس شخص کودے دیا ۔ خود پانی میں کود گئے اور سطح آب پر چلتے چلتے ساحل تک جا پہنچے۔
حضرت حبیب بن سلیم الراعی ؒ کا مشائخ میں بڑا مقام ہے آپ آیات و براہین کثیرہ کے حامل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے آپ چرواہے تھے اور عموماً دریائے فرات کے کنارے بیٹھا کرتے ۔ گوشہ نشینی طریقہ زندگی تھا۔ مشائخ میں سے ایک بزرگ نے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ میں آپ کے پاس سے گزرا تو آپ نماز پڑ ھ رہے تھے اور ایک بھیڑیا بکریوں کی رکھوالی کر رہا تھا۔ میں نے کہا چلو اس بزرگ کی زیارت کریں کیونکہ اس میں بزرگی کے آثار نظر آرہے ہیں ۔ میں اس وقت تک منتظر رہا جب تک آپ نماز سے فارغ نہ ہوئے ۔ میں نے سلام کیا تو آپ نے پوچھا بیٹے کیسے آئے ہو؟ میں نے عرض کی کہ زیار ت کے لئے ۔ آپ نے فرمایا” اللہ تعالیٰ تجھے نیکی دے “ ۔ میں نے کہا اے شیخ ! کیا بات ہے میں بھیڑئیے کو بھیڑ بکریوں سے موافقت کئے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔ آپ نے جواباً فرمایا یہ اس لئے کہ چرواہا حق تعالیٰ سے مواقفت کیے ہوئے ہے ۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنا لکڑی کا پیالہ پتھر کے نیچے رکھ دیا ۔ اس پتھر سے دو چشمے جاری ہوئے ۔ ایک سے دودھ اور دوسرے سے شہد نکلنے لگا جو انہوں نے مجھے پیش کیا ۔ دریا کے کنارے ایک جنگل میں کمال کی میزبانی !۔ میں نے پوچھا اے شیخ آپ کو یہ درجہ کیسے حاصل ہوا ۔ جواباً فرمایا کہ حضور کریم کی اتباع کاملہ سے !
حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ تصوف کے ذی چشم حضرات میں سے تھے شریعت و طریقت کے تمام احوال واقوال اور اسباب کے عالم تھے۔آپ کی ابتداءتوبہ کاواقعہ بڑا دلچسپ ہے ۔ آپ ایک کنیز پر فریفتہ تھے۔ ایک رات مستوں کی مجلس سے اٹھ کر معشوقہ کے مکان کے زیر دیوار جا کر کھڑے ہوئے ۔ وہ بھی برسرِ بام آگئی اور صبح تک دونوں ایک دوسرے کی دیدار بازی میں کھڑے رہے ۔ حصرت عبداللہ بن مبارک نے صبح کی اذان سنی تو یہ سمجھے کہ عشاءکی نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔ صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ تمام وقت رات اس معشوقہ کے دیدار میں غرق رہے ۔ اس پر انہیں تنبیہ ہوئی اور اپنے آپ سے کہنے لگے کہ اے عبدالہ بن مبارک ، تمہیں شرم آنی چاہیئے کہ تمام رات اپنی نفسانی خواہش کے لئے کھڑے رہے اور تمہیں کوئی معلوم نہیں ہوا ۔ اگر امام نماز میں لمبی سورت پڑھے تو تم غصے کے مارے پاگل ہو جاتے تو کیا تم اپنے دعوی کے مطابق مسلمان ہو؟ اس پر آپ تائب ہو گئے اور طلب حق اور طلب علم میں مشغول ہوئے اور زہد و دیانت میں اس درجے تک پہنچے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو باغ میں اس حال میں سو پایا کہ ایک بہت بڑا سانپ اپنے منہ میں شاخ گل لئے ہوئے ان سے مکھیاں اڑا رہا تھا۔ اس زمانے میں آپ مرو سے بغداد چلے گئے جہاں بہت سے مشائخ کے فیض صحبت سے استفادہ کیا ۔ تھوڑے عرصے تک بیت اللہ کے مجاور بھی رہے ۔
حضرت ابو علی فضیل بن عیاض ؒ فقیر کے بلند درجے پر فائز ایک بہت بڑے بزرگ تھے جتنے لوگ طریقت میں شہرت کے درجے پر فائز ہیں آپ ان میں سے ایک تھے۔ ابتدائی عملی زندگی کے آغاز میں عیاری اور رہزنی کرتے تھے۔ ان کے نام سے لوگ خوف کھاتے تھے تاہم جس قافلہ میں خواتین ہوں اسے نہ لوٹتے یا کم وسائل لوگوں کو جانے دیتے ۔ ایک دفعہ ایک تاجر مرو سے چلنے لگا تو لوگوں نے کسی ساتھی کو ساتھ لے کر جانے کا مشورہ دیا کیونکہ راستہ میں فضیل بیٹھا تھا۔ تاجر نے کہا خدا ترس آدمی ہے ۔ چنانچہ اس نے اجرت پر ایک قاری لے لیا اور اسے اونٹ پر بٹھادیا۔ وہ روز و شب قرآن پڑھتا جاتا ۔ یہاں تک کہ قافلہ اس جگہ پہنچا جہاں فضیل ؓ گھات میں بیٹھے تھے۔ اتفاق سے قاری قرآن کریم ی آیت پڑھ رہا تھا ترجمہ( کیا ایماندار لوگوں کے لئے وہ وقت قریب نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ جل جلالہ کے ذکر سے خاشع ہو جائیں ) ۔ اس آیت کریمہ کو سن کر حضرت فضلؒ کے دل میںرقت پیدا ہو گئی اور عنایت ازلی نے اپنی طاقت اس کے دل وجان پر ظاہر کردی ۔ آپ تائب ہو گئے ۔
قارئین محترم! ربیع الاوّل کے مبارک ماہ میں حضرت داتا گنج بخشؒ کی کتاب کشف المعجوب سے لیے چند واقعات آپ کی خدمت میں پیش خدمت کر دئیے۔