مخدوم جاوید ہاشمی کو داخلہ مل گیا

مخدوم جاوید ہاشمی کو داخلہ مل گیا

شاعرنے شاید جاوید ہاشمی کے لیے ہی کہا ہو گا " بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں ۔۔ جس کو نہ تم سمجھ سکے میں ایسا ایک سوال ہوں " جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ میں دوبارہ داخلہ ملنے کی مبارک ۔ ہاں میں باغی ہوں کے مصنف اور بے چین سیاسی روح کو آخر کار ایک ٹھکانہ مل گیا ۔ معلوم نہیں یہ مستقل ہو گا یا اے دل کہیں اور چل والا معاملہ ہو گا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ کسی نے سچ کہا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ یعنی آج تم میری ضرورت ہو اور میں تمھاری ضرورت ہوں۔ جمعیت سے سفر کرتے کرتے ضیاءالحق کابینہ میں پہنچے ، جونیجو مسلم لیگ سے ہوتے ہوئے نواز شریف لیگ میںآن ڈیرا لگایا۔مشرف کو معزول کرتے کرتے نوا ز شریف از خود معزول ہو گئے، بات جیل تک جا پہنچی ۔ نواز شریف سے جیل کی صعوبتیں برداشت نہ ہوئیں ۔یار لوگوں نے پرویز مشرف سے ڈیل کرائی اور سب کو بن بتائے سعودی عرب سدھار گئے ۔ باغی بے چین روح تھی ، جیل کی خواہش تھی تو جیل پہنچا دئیے گئے ۔ جیل میں اپنی زندگی کی ببتا لکھتے رہے ۔ جیل اپنی پارٹی اور پارٹی لیڈر کے لیے کاٹی ۔ لیڈر صاحب اپنی ڈیل کی مدت پوری کرنے سے پہلے ملک واپس آئے تو بے چین رو ح کو اسطرح نظر انداز کیا جیسا جانتے نہیں پہچانتے نہیں ۔ کبھی دیکھا نہیں یا یہ کہ تمھیں پہلے بھی کبھی دیکھا ہے والا معاملہ بنا گیا ۔ چار سال میں صرف پندرہ منٹ وہ بھی کسی سیاسی میلے میں خیر و عافیت کی بات کی ۔ بے چین روح سوچتی رہی " ہم نہ بھولے تجھے تو نے بھلا دیا " بے چین روح کو نئے سیا سی ٹھکانے کی ضرورت تھی ۔ آخر کار پی ٹی آئی میں ایک ٹھکانہ مل گیا ۔ پی ٹی آئی کو بھی اسی طرح کی سیاسی بصیرت والے مسافر کی ضرورت تھی ۔ وہاں کچھ وقت گزارا روح کو چین نہ آیا ،الزامات تھوپ کر پی ٹی آئی کو داغ مفارقت دے دیا ۔ اسمبلی چھوڑی ، اپنی چھوڑی ہوئی اسمبلی سیٹ پر دوبارہ الیکشن میں حصہ لیا مگر کامیابی کا سورج ساتھ نہ دے سکا۔ بیانات کی کہانیاں شروع کیں۔ کبھی عمران خان کی کتھا شروع کی ۔ کبھی عمران خان کو کسی مارشل لاءکا امیدوار بنا یا ۔ ہفتہ دس دن بعد یہ بتانے کے لے کہ چین نہیں ہے روح کو۔ عمران خان کے دھرنے کی کہانیاں الاپنی شروع کر دیں۔ ن لیگ سے واہ واہ ملی دل بڑا ہوتا گیا۔ حالانکہ سیاست کا اصول ہے کہ جب بڑے لیڈر آپس میں خاص قسم کی باتیں کرتے ہیںجو ہر عام و خاص یا کسی ایرے غیرے کو بتانے کے قابل نہیں ہوتیں۔ توایسی باتیں سیاسی لیڈر سر عام نہیں کرتے ۔ لیکن بے چین روح ایسی باتیں کر کے کیا حاصل کرنا ہتی تھی۔ بے چین روح نواز شریف کا ساتھی ہوتے ہوئے بھی یہ نہ سمجھ سکی کہ نواز شریف کی یہ صفت ہے کہ ہر کسی کو اپنی ضرورت تک اپنے قریب رکھتے ہیں۔ پھر پرانے لباس کی طرح اتار پھینکتے ہیں۔بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں۔ جمالی ہو ں ۔ غوث علی شاہ ہو ں یا کھوسہ خاندان ہو۔ سب سے کام لے کر ایسا بھلا دیا جیسا کبھی ملے ہی نہیں ہیں۔ شکر ہے کہ بے چین روح کو پرانے ٹھکانے پر ٹھکانہ مل گیا ۔ شاید سینٹ کاٹکٹ بھی انعام میں دیا جائے گا۔ بشرط کہ عمران خان کو اور عدلیہ کو کوسنے میں شامل رہیں۔
یہ کونسے نظریات ہیں
شریف خاندان اپنے ہی کارناموں کی بدولت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ پریشانیاں ہیں کہ بڑتی ہی جا رہی ہیں۔ بے شک خود کو بے قصور کہہ کر دل کو جھوٹی تسلی اور عوام کو بیوقوب بنا یا جا رہا ہے۔ مگر معلوم ہے کہ بات بنتی نہیں ۔ نا اہل سابق وزیر اعظم جو شریف خاندان کے سر براہ ہیں شدید ذہنی دباﺅ کا شکار ہیں ۔ جس کا ان کی سو چ اور خیالوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ اس کا اس سے بڑا ور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ پارٹی رہنماﺅں کے اجلاس میں نواز شریف نے بات چیت کرتے ہوئے فر ما یا "مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تمھارے اثاثے آمدن سے زیادہ کیو ں ہیں ۔ اگر زیادہ ہیں تو تمھیں کیا " کیا کوئی ایسا شخص جو بڑی سیاسی پارٹی کا مالک ہو۔ دو بار نصف سے زائد آبادی والے صوبہ کا وزیر اعلیٰ رہا ہو اور تین بار وزیر اعظم منتحب رہا ہو ایسی باتیں کوئی بھی بقائم ہوش و حواس کر سکتا ہے۔ پھر کوئٹہ میں محمود اچکزئی کی طرف سے منعقد ہ جلسہ سے خطاب میں جو کچھ کہا گیا ۔ کیا کوئی محب وطن ، پاکستان کا حامی کہہ سکتا ہے۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ محمود اچکزئی جس کی جیب میں بلوچستان کی آدھی حکمرانی ہے۔ جس کے اباجی جو بلوچی گاندھی کہلاتے تھے اور قیام پاکستان کے شد ید ترین مخالف تھے وہ محمود اچکزئی جو صوبہ کے پی کے ، میانوالی ، اٹک اور خوشاب ضلع پر مشتمل ایک نئے ملک افغانیہ کا نہ صرف خواب دیکھتا ہے ۔ بالکل
کھلے عام پرچار بھی کرتا ہے ۔ نواز شریف کا یہ کہنا کہ اس کے نظریات اور محمود اچکزئی کے نظریات ایک ہیں ۔ کیا نواز شریف وہی کچھ چاہتے ہیں جو کچھ محمود اچکزئی کی چاہت ہے ۔ کیا نواز شریف محمود اچکزئی کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صوبہ کے پی کے ، اٹک، میانوالی اور خوشاب تک کے علاقوں پر مشتمل افغانیہ نام کا ملک بنا یا جائے ۔ کون نہیں جانتا کہ فاٹا کو مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی اپنے اپنے مقاصد کے لیے فاٹاکوصوبہ کے پی کے میں ضم نہیں ہونے دیتے ۔ تو کیا نواز شریف جسے نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ ا پنا بے جا غصہ ملکی سا لمیت پر ضرب لگا کر نکالے گا ۔ پاکستان کے عوام آج تک یہ بات نہ سمجھ سکے کہ وہ کونسی بات ہے کہ پاکستان میں بھارتی دہشتگردوں کی کاروائیوں کے سر براہ بھارتی حاضر سروس نیول آفیسر کلبھوشن کا نام نواز شریف کا زبان پر نہیں آتا ۔ کیا نواز شریف کو اپنے ملک پاکستان سے زیادہ بھارت عزیز ہے ۔ نواز شریف کو چاہیے کہ وہ پوری قوم کے سامنے وضاحت کرے اس نے کس بنا پر محمود اچکزئی کے نظریات کواپنا نظریات کہا ہے۔