انسان اور نصیب

انسان اور نصیب

انسان کا قدرت سے سب سے بڑا گلہ ہے کہ اس کا نصیب نہیں بدلتا۔ کیا یہ عین ممکن ہے کہ انسان اپنے اچھے اور بُرے نصیب کا ذمہ دارکسی حد تک خود بھی ہے کیا انسان جن چیزوں پر کام کرکے یا گرفت حاصل کرکے بدل سکتا ہے وہ بھی نصیب میں شامل ہیں۔ ہم اپنی حیات میں جن چیزوں کو اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود نہیں بدل سکتے اُس کو ہم نصیب کے حصے میں ڈال دیتے ہیں۔ اب نصیب کے تناظر میں قابل غور بات یہ ہے کہ کن چیزوںکو کوشش سے بدلا جا جا سکتا ہے اور کن چیزوں کو کوششوں کے باوجود نہیںبدلا جا سکتا۔ اگر ان کی فہرست مرتب کی جائے تو یقیناً جن چیزوں کو کوشش سے بدلا جاسکتا ہے وہ تعداد میں بھی زیادہ ہوں گی۔ گویا جن چیزوںکو انسان اپنی کوشش سے بدل سکتا ہے ان کی بابت قدرت سے گلہ کرنا فضول یا پھرکفر کے عین مترادف ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں تقسیم سے قبل چونکہ مسلمان اور ہندو ایک طویل عرصے تک اکٹھے رہے ہیںقسمت کے تصورات دراصل ہم میںہندو کلچر سے ہی منتقل ہوئے ہیں کیونکہ پنڈت سسٹم اس وقت تک کامیاب نہیںہو سکتا تھا جب تک لوگوں کو اندر سے غریب یا پھر محروم نہ رکھا جائے اور وہی قسمت کے تصورات تقسیم کے ساتھ ہم میںبھی منتقل ہوئے اور اب یہ تصورات ہماری سوچوں میں اس حد تک سرایت کرچکے ہیںکہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنا کافی مشکل امر ہے جبکہ اسلام کی تعلیمات انڈین کلچر یا پنڈت سسٹم سے یکسر مختلف اور جامع ہیں۔ انسان اپنا مستقبل نہیں بدل سکتا لیکن اپنے نظریات‘ سوچ اور عقائدکو اپنی کوشش سے بدل سکتا ہے اور یہ وہ بنیادی چیزیں ہیںجن کو بدلنے سے قدرت انسان کا مستقبل بدل دیتی ہے۔

انسان کا نصیب شاید اس لئے بدلتا ہے کہ انسان کی فطرت میں تغیر (تبدیلی) ہے وہ اپنی عادات و اطوار کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پتھرکا نصیب اس لئے نہیںبدلتا کیونکہ اس کی فطرت میں تغیر نہیں کیونکہ انسانی زندگی میںمشکلات حالات سے کم اور خیالات کی بدولت زیادہ آڑے آتی ہے۔ انسان کا نصیب دو طرح کا ہوتا ہے نصیب کی پہلی قسم نصیبِ جامد ہے اور دوسری قسم نصیبِ معلق ہے۔ نصیبِ جامد نصیب کی وہ قسم ہے جس کو انسان اپنی کاوش سے بھی نہیں بدل سکتا ہے خواہ انسان جتنی مرضی تگ و دو کرے اس کو بدلنے میں انسان کا کوئی اختیار نہیں۔ لیکن قدرت کا نصیبِ جامد کی بابت انسان پر ہی بہت بڑا احسان ہے کہ نصیب کے جس حصے کو بدلنے کا اختیار انسان کو نہیں ہے۔ قدرت نے انسان کو اس میں حساب سے بری الذمہ قرار دے دیا ہے کیونکہ جس میں انسان کا اختیار نہیں۔ اُس کا قدرت نے انسان سے حساب بھی نہیں مانگا۔ اب اگر نصیب کی دوسری قسم پر غور کریں تو نصیب معلق نصیب کی وہ قسم ہے جس کو انسان اپنی کوشش سے بدل سکتا ہے۔ یقیناً قدرت انسان کو وہی کچھ عطا کرتی ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے قدرت نصیب معلق کی بابت انسان سے ضرور بازپرس کریگی کیونکہ قرآن مجید کا مفہوم ہے کہ ذات باری تعالیٰ بروز قیامت انسان سے حساب لے گا اب اگر بغور اس آیت کے مفہوم پر روشنی ڈالی جائے تو یہ بات پتا چلتی ہے کہ اﷲ کی ذات نے انسان کو کچھ نہ کچھ ضرور عطاءفرمایا ہے جس کا وہ بشر سے حساب لے گا وہ چیزیںدنیاوی مال و دولت کے علاوہ وہ صلاحیتیں بھی ہیںجو قدرت نے انسان کو عطا کی ہیں جن کو وہ استعمال کرکے اپنے لئے ایک نئی دنیا تخلیق کر سکتا ہے اور اپنے سے منسلک لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرسکتا ہے لیکن وہ ان قدرتی اورخوابیدہ صلاحیتوں کو سمجھنے اور سمجھ کر استعمال میں لائے بغیر نصیب کا گلہ کرتا دکھائی دیتا ہے جو کہ قدرت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اگرانسان اپنے اندر چھپی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی جستجو کرے اور ان صلاحیتوں کو بروئے کار لائے تو یقیناً وہ کبھی بھی قدرت سے نصیب کا گلہ نہیںکرے گا کیونکہ جب انسان اپنے اندر موجود خداداد صلاحیتوں کو استعمال میں لاتا ہے تو وہ اپنے لئے ایک نئی دنیا تخلیق کرتا ہے کچھ لوگ اپنی زندگی میں مقاصد حاصل کرنے کے بعد بھی خودکو ناکام تصور کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو بخوبی سمجھا نہیںہوتا اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پرکھا نہیں ہوتا۔ ان کا شوق کچھ ہوتا ہے لیکن پیشہ کچھ اور ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے اندر مایوسی اور محرومی کا عنصر پایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ایسے لوگ نصیب کا گلہ کرتے نظرآئیںگے جب کہ اس ضمن میں ان کا کسی حد تک اپنا قصور بھی ہوتا ہے کسی بھی پیشے کا انتخاب کرتے وقت انسان کو اپنی صلاحیتوں کو بخوبی سمجھ لینا چاہئیے اور اپنی صلاحیت کے پیش نظر اس پیشے کا انتخاب کیا جائے اس سے انسانی زندگی میں مایوسی کا عنصرنہیں ہو گا اور وہ اپنے پیشے سے بھی مطمئن ہو گا اور ممکن ہے کہ وہ نصیب کا گلہ بھی نہ کرے۔ کچھ لوگ اپنی زندگیوں میں بعض ناکامیوں کا ذمہ دار اپنے نصیب کو ٹھہراتے ہیں اور اپنے آپ کو بدقسمت تصور کرتے ہیں جبکہ ایسا کچھ نہیں اور ایسے خیالات و نظریات شعور کی کمی کی بدولت پنپتے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ پست ذہنی صلاحیت بھی ہو سکتا ہے۔ انسانی زندگی میں بعض کامیابیوں کے لئے کچھ ناکامیاں ضروری ہوتی ہے کیونکہ انسان زندگی میںجتنی بڑی کامیابی کی طرف جاتا ہے اس کو اس کامیابی کی اتنی ہی بڑی قیمت اداکرنا پڑتی ہے۔ مشکل مقاصد کے حصول میں آڑے ضرور آتی ہیں لیکن یہ مشکلات وقتی ہوتی ہےں یا پھر یہ مشکلات انسان کا حوصلہ بلند کرنے کیلئے قدرت کا کوئی راز خفیہ ہیں ایک منصوبہ بندی وہ ہے جو انسان اپنے لئے مرتب کرتا ہے اور ایک منصوبہ بندی وہ ہے جوذات باری تعالیٰ اپنے بندے کیلئے مرتب کرتا ہے یقیناً قدرت کی بنائی گئی منصوبہ بندی انسان کیلئے بہتر ہوتی ہے۔ قدرت بہتر جانتی ہے کہ کس انسان کو کس مقام پر فائز کرنا ہے۔
(جاری ہے)
اگر یہ فلسفہ زندگی انسان کے خیالات میںرچ بس جائے تو وہ کبھی بھی نصیب کا گلہ قدرت سے نہیںکرے گا۔ اگر انسان اپنی زندگی کے حالات واقعات کاموازنہ کرے اور مشاہدہ کرے کہ اس کے ساتھ زندگی میں اچھا کیا کیا ہوا۔ محض برے یا منفی واقعات کا گلہ کرنا کفر کے عین مترادف ہے۔ انسان اپنی زندگی کے مقصدکے حصول میں محض شروعات میں ہی حوصلہ ہار دے۔ یہ قدرت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اگر تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جتنی بھی دنیا کی نامور اور مستند شخصیات تھیں ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اتنا بہتر نہ تھا یعنی ان تمام لوگوں نے مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کیا نہ کہ نصیب کا گلہ کیا اور آنے والے وقت میں اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوایا۔ آخر نبی الزمان حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت چالیس سال کی عمر میں عنایت ہوئی لیکن دعوت و تبلیغ کے ابتدائی تین سالوں میں صرف چند لوگ مسلمان ہوئے اگر اﷲ کی بابرکت ذات چاہتی تو حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے حکم پر ہی تمام مشرکین مکہ کو ہدایت یاب کر دیتی۔ لیکن حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کے تمام لوگوں کے لئے ایک مثالی رہنما بننا تھا اس لئے اﷲ کی بابرکت ذات نے نبی کی ذات کو ایک کٹھن مرحلے سے گزار کر کامیاب کیا اور آپ رہتی دنیا تک کے لوگوں کیلئے عملی نمونہ بنے۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو چالیس سال تک بطور قائداعظم کو کوئی نہیں جانتا تھا یعنی کہ جو خصوصیات ایک عظیم لیڈرکا خاصہ ہوتی ہے وہ ابھی آغاز ہی میں پروان چڑھ رہی تھی اور وقت کے ساتھ نمودار ہوئی۔ انسان کی زندگی میںکامیابی کا سفر آہستہ آہستہ آگے بڑھتا ہے اور ایک مطلوبہ وقت پر کامیابی کے آثار نمایاں ہونے لگ پڑتے ہیں اور اس کے لئے مصمم ارادہ شرط اول ہے نہ کے آغازِ سفر کی مشکلات سے گھبرا کر نصیب کا گلہ کرے۔ کامیاب لوگوںکی زندگی میں ہر مقصد کے بعد ایک نیا مقصد جنم لیتا ہے جو کہ انسانی جبلت بھی ہے کچھ لوگ اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے اپنی زندگی میں نئے مقاصد نہیں بنا پاتے وہ اپنے نصیب کو کوستے رہتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کی زندگی میں کوئی بڑا مقصد نہیں ہوتا یا پھر ایسے لوگ اپنی زندگیوں کو ترجیحات کے مطابق نہیں گزارتے۔ ان لوگوں کی زندگیوں کے معاملات انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کو کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت دقت پیش آتی ہے اور اکثر اپنی ناکامی کا قصور اپنے نصیب کو قراردیتے ہیں۔ انسان سست یا کاہل نہیں ہوتا البتہ ان کی زندگی کے مقاصد سست یا چھوٹے ہو سکتے ہیں جو لوگ اپنے زندگیوں میں بڑے خواب دیکھتے ہیں اور ان کی تکمیل کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں وہ لوگ سست نہیں ہوتے بلکہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے اپنے گوشہ سکون (Comfort Zone) سے باہر نکلتے ہیں انسان اگر اپنی صلاحیتوںکو بروئے کارلاتے ہوئے اپنے مقاصد کو حاصل کرے اور نہ ہی اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار اپنے نصیب کو ٹھہرائے یا اپنے سے منسلک افراد کو ان کا ذمہ دار ٹھہرائے۔ لازمی ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھے اور اپنی زندگی میں اچھے لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھائے جو اس کے اعتماد میں اضافہ کرنے والے ہوں نہ کہ اعتماد چھیننے والے ہوں۔ انسان کی زندگی میں اچھے لوگوں کی شمولیت سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہو گا بلکہ ایسے مثبت لوگوں کی موجودگی میں انسان کا تزکیہ نفس بھی وقتاً فوقتاً ہوتا رہے اور مایوسی کا عنصر بھی کم ہو گا ایک متوازن اور مربوط معاشرہ پروان چڑھے گا۔