فاروق عبداللہ سازشوں سے باز رہیں

فاروق عبداللہ سازشوں سے باز رہیں

تعجب ہے پوری دنیا بحیثیت مجموعی جس انداز سے سوچ رہی ہے ‘ بھارتی نیتاؤں اور ان کے گماشتوں کی فکرونظر اس سے یکسر مختلف ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے اپنی ذاتی مگر گومگو سوچ کو بے نقاب کرتے ہوئے گزشتہ دنوں جن خیالات کا اظہار کیا‘ وہ پوری دنیا نے سنجیدگی کے ساتھ سنا اور اس پرلمحہ فکریہ بھی پیدا ہوا۔ ایک طرف انہوں نے یہ کہا کہ بھارت بزوربازو مقبوضہ کشمیر پرقابض نہیں رہ سکتا‘ دو ایٹمی ملکوں میں جنگ ہوئی تو خوفناک ہوگی‘ نیز یہ بھی کہ ہم مزید کشمیری نوجوانوں کے جنازے نہیں اُٹھا سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ماضی بعید میں واجپائی کی لاہور آمد کے موقع پر ایک مبینہ پیشکش کا انکشاف بھی کیا‘ جو بقول ان کے واجپائی کی طرف سے ریاست جموں وکشمیر کے بٹوارے پر مشتمل تھی‘ اس میں کہا گیا آزاد کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے اور مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط تسلیم کر لیا جائے۔ بادی النظر میں واجپائی کی جانب سے یہ پیشکش آج تک منظر عام پر نہیں آئی‘ جبکہ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واجپائی کی نہیں فاروق عبداللہ کی اپنی درفنطنی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر کے اس حساس مرحلے پر فاروق عبداللہ کی جانب سے ایسی بے پرکی اڑانا ایک سازش ہی ہوسکتی ہے۔ کشمیری نوجوانوں کے خون ناحق پر احتجاج کرنا فاروق عبداللہ کی جانب سے زمینی حقائق کے قریب ہونے کی دلیل ہے تاہم وہ اپنے بزرگ مرحوم شیخ عبداللہ کی طرح تاحال بھارتی سازشوں اور دباؤ کے حصار سے باہر نہیں نکل سکے‘ اسی خاطر وہ مسئلہ کشمیر بارے کلیدی باتیں کرنے کے بجائے بین بین فلسفہ بگھارتے رہے ہیں۔ یہ کام حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو پون صدی سے ہورہا ہے اور بھارتی نیتاؤں کو کچھ نہیں سوجھ رہا۔ فی زمانہ جو تبدیلی آئی ہے وہ یہ کہ ہندوستانی ’’دوستوں‘‘ کی زبان سے بھی کشمیر کے تناظر میں بھارتی ناکامیوں کی باتیں ہونے لگی ہیں‘ فاروق عبداللہ کیا بعض زبانوں سے تو یہ جملے بھی وارد ہورہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بالخصوص وادی میں بھارت کی فوج کشی ہندوستان کی شدید تخریب پر منتج ہوگی‘ اس لیے ہندوستان کو یہ طرز عمل اور تخریبی پالیسی ترک کر دینی چاہیے۔ لیکن دوسری طرف بھارتی حکمران اس صورتحالات کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف براستہ افغانستان دہشتگردانہ خفیہ کارروائیاں کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں پشاور میں ہونے والی بظاہر افغان دہشت گردوں کی خون آشام کارروائی خفیہ ایجنسیوں کی تحقیق کے مطابق بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی درپردہ تخریب کاری تھی۔ پاکستان کے خلاف افغانستان کے راستے یہ یلغار یوں بھی آسان ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے افغان انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف پہلے ہی رام کررکھا ہے اور اشرف غنی کے ساتھ امریکی اشیر باد پر گڈمڈ ہی یہ نتائج مرتب کررہی ہے۔ اسی لیے فاروق عبداللہ بھارتی حکمرانوں کو کشمیر ایشو پر انتباہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ کو اس ضمن میں ثالثی کرانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ان کی اس بات میں بھی بہت گہری سازش کار فرما ہے۔ دراصل فاروق عبداللہ واجپائی کے کندھے پر بندوق رکھ کر ریاست جموں وکشمیر کے بٹوارے کا منفی حل قابل قبول بنوانا چاہتے ہیں۔ انہیں شاید یہ علم نہیں کہ پاکستان اور اس کی تمام سابقہ اور موجودہ حکومتوں کا مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں ایک ہی موقف یعنی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدر آمد ہی رہا ہے اور اب تک یہی حل قابل قبول ہے۔ پاکستان تاریخ کے کسی بھی دور میں اپنے اس اصولی موقف سے ایک انچ بھی آگے پیچھے نہیں ہوا اور یہی صورتحالات اب بھارتی حکمرانوں کے لیے پیچیدگی اور ابہام کا باعث بنی ہوئی ہے۔ دراصل وہ تاریخ کے فیصلوں پر یقین نہیں رکھتے اور امریکہ کو اپنا حلیف بغض معاویہ میں بنائے بیٹھے ہیں۔حیرت واستعجاب کی بات ہے کہ فاروق عبداللہ کو بھارت اور پاکستان دو ایٹمی طاقتیں تو نظر آرہی ہیں لیکن پھر وہ کہتے ہیں کہ بھارت فوجی طاقت میں برتری کا حامل ملک ہے‘ پھر ان کا یہ بھی کہنا سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی عسکری حل قابل قبول ہی نہیں ہوسکتا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہندوستانی فوج کا جم غفیر آخر مقبوضہ کشمیر میں کیا کررہا ہے۔ کیا وہاں بھارت کی رٹ قائم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو یہ رٹ مقبوضہ کشمیر کے کسی شہر‘ محلے یا گلی میں نظر نہیں آتی۔ سچی بات یہ بھی ہے کہ مقبوضہ وادی بھارتی ظلم واستبداد کے باوجود ذہنی اور باطنی طور پر آزادی کی منزل پا چکی ہے۔ ہر طرف سول نافرمانی کا ماحول ہے۔ مقبوضہ وادی کا ہر نوجوان عسکری طور پر بھارتی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہے اور بزدل بھارتی افواج کے چھکے چھوٹ چکے ہیں، وہ بے کل ہو کر مقبوضہ کشمیر میں بندوق کے ذریعے بھارتی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کے جمہوری اور آزاد ملکوں میں ان کے اٹوٹ انگ علاقے اور ریاستیں بندوق کے زور پر منسلک رکھی جاتی ہیں اور بزور بازو انہیں زیر تسلط رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے؟ آج یورپ کے کئی ملکوں نے برما کے مسلمان عوام کے سامنے اپنی پشیمانی اور نادانی کا اعتراف یوں تو نہیں کرلیا‘ وہ سمجھتے ہیں کہ برمی مسلمانوں کو تحفظ اور بروقت عافیت دینے میں وہ یکسر ناکام ہوئے ہیں‘ لیکن تضاد یہ بھی ہے کہ اس ضمن میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام ان کو نظر نہیں آرہے‘ جو پون صدی سے ہندوستانی ظلم وستم کا شکار ہیں اور ماسوائے پاکستانی بھائیوں کی زبانی حمایت کے ان کا کوئی معاون وہمدرد نہیں ہے۔

اس صورتحالات میں اگر کوئی یہ کہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکہ سے ثالثی کرالی جائے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ وہ منافقت کا مرتکب ہورہا ہے ۔فاروق عبداللہ کو اقوام متحدہ کی قراردادیں کیوں نظر نہیں آتیں؟جن پر ان کے فکری و نظریاتی رہنما پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی اعتماد کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وعدہ کیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر میں ان قراردادوں کے مطابق رائے شماری کرادی جائے گی۔ مسئلہ کشمیر کے ضمن میں پاکستانی موقف پنڈت نہرو کے اسی وعدے کی بنیاد پر قائم ہے۔نظریاتی طور پر بھارت کی شکست کا یہی نکتہ آغاز اور نکتہ آخر بھی ہے۔چرب زبانی اور تضاد آرائی سے بھارتی حکومتیں اپنا اعتماد کھوچکی ہیں۔ فاروق عبداللہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی تاریخی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو بھارتی حکمرانوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی افادیت و حقانیت سے صرف آگاہ ہی نہیں منوانے کا فریضہ بھی ادا کریں، لیکن وہ مقبوضہ وادی اور مسئلہ کشمیر بارے رائے زنی کرتے ہوئے مطلق بھول جاتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے کے اہل ہی نہیں،ان کی گومگو آراء سالوں سے منظر عام پر آرہی ہیں،جن کا آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر حتمی رائے دینے کی مجاز حریت کانفرنس ہی ہے،جو برسوں سے قید و بند سمیت تمام تر بھارتی ظلم و ستم سہہ رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے عوام ان کی کال پر ہی لبیک کہتے ہوئے ہڑتال کرتے ہیں،فاروق عبداللہ کی کال پر تو مقبوضہ وادی کا آج تک پتہ بھی نہیں ہلا،اس لیے انہیں نہ صرف یہ کہ اپنی زبان کو لگام دینی چاہیے۔بلکہ کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہیے جس سے مظلوم کشمیریوں کا خون کھول اُٹھے اور ان کے بزرگوں کی روحیں تڑپ کر رہ جائیں۔