کشمیر کی ثالثی : امریکہ ان حقائق کو سامنے رکھے!!

کالم نگار  |  عائشہ مسعو د ملک
کشمیر کی ثالثی : امریکہ ان حقائق کو سامنے رکھے!!

امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار پر آنے کے بعد ان کے رویوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عجیب عجیب تاثرات لوگوں کے ذہنوں پر نمایاں ہوئے تھے اور امریکہ جیسی سپر پاور کےلئے یہ بات مضحکہ خیز سی محسوس ہوتی رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں۔ کیونکہ ان سے پہلے صدر ابامہ کافی حد تک ہردلعزیز صدر تھے۔ لیکن امریکہ کی جمہوری روایات میں یہ بات شامل نہیں کہ صدر ابامہ چونکہ اچھے تھے لہٰذا امریکہ کو ان کی اتنی ضرورت ہے کہ وہ صدر کے عہدے کیلئے واحد موزوں شخصیت ہیں اور اگر ایسا ہونے لگے کہ کسی ملک کی حکمرانی کےلئے کوئی ایک شخص ”ناگزیر“ ہو جائے تو پھر ایسے ملکوں میں آمریت کے نہ ہوتے ہوئے بھی جمہوریت دکھائی نہیں دیتی۔ لہذا امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو رفتہ رفتہ جگہ دینا شروع کر دی ہے تاکہ وہ اپنا کام کر سکیں۔ مجھے بھی ڈونلڈ ٹرمپ سے کبھی کبھی یہ توقع ہونے لگتی ہے کہ وہ ایک ریسلر ‘ آرٹسٹ ہونے کے ناطے شاید دنیا میں امن کیلئے کوئی بڑا کام کرجائیں گے۔امریکہ کی انتظامیہ کی طرف سے حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے امریکہ ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے مگر یہ بات بچے بچے کو معلوم ہے کہ ہندوستان اس مسئلے کا حل نہیں چاہتا لہذا کسی کے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر بھی راضی نہیں ہو گا۔ کیونکہ ہندوستان کشمیر کا سئلہ حل کرنا ہی نہیںچاہتا ۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد جب جنگی ماحول بنا ہوا تھا تب بھی پاکستان نے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی لیکن آزادی کیلئے کئے جانے والے جہاد کو نہرو کے بیانات اور نہرو کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے زیادہ فروغ ملا تھا‘ کیونکہ وہ دنیا کے سامنے یہ بات کہتا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا آخری فیصلہ صرف کشمیری عوام نے کرنا ہے اور جمہوری طریقے سے غیر جانبدار استصواب کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت ہو گی مگر اسکے ساتھ ہی وہ ہندوستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو قانونی اور اخلاقی طور پر جائز قرار دیتا تھا دراصل گاندھی اور نہرو دونوں نے اپنی زندگی ”تضادات“ کی سیاست کرتے گزاری تھی۔ میری کتاب ”کشمیر 2014ء“ میں یہ بات موجود ہے کہ ”ہندوستان کی تاریخ کے گاندھیائی نیشنلزم اور کانگریسی سیکولرزم دونوں ”دو قومی نظریے“ کے سامنے مردہ ہو گئے تھے اور یہ 17 ستمبر 1953ءکی بات ہے کہ جب نہرو نے ہندوستان کی پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہم نے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہندوستان میں دوررس نتائج کا حامل ایک علامتی نشان سمجھا ہے اور کشمیر ہمارے لئے یہ مثال پیش کرنے کی سب سے بڑی علامت ہے کہ ہماری فطرت ایک لا دین ریاست ہے اور یہ کہ کشمیر اپنے باشندوں کی بہت بڑی اکثریت کے ساتھ جو مسلمان ہیں اپنی خوشی کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے پر آمادہ ہیں“ نہرو کی اس بات کا جواب معروف صحافی بزاز نے بڑے خوبصورت انداز میں دیا اور کہا .... ”سارے برعظیم میں جہاں ان کا گورو مہاتما گاندھی 30 برس تک اپنے تربیت یافتہ چیلوں کے ساتھ اپنی تعلیم کا پرچار کرتے ہوئے کچھ حاصل نہ کرسکا اب وہ کشمیر میں پانا چاہتے ہیں“ .... پاکستان چونکہ کشمیر کی آزادی کیلئے ہر دور میں کوششیں کرتا رہا ہے۔ کشمیر کی آزادی کا سلسلہ قائد اعظم کی وفات کے بعد انکے ذہین اور پرجوش سیکرٹری کے ایچ خورشید نے سنبھال لیا تھا اور جن دنوں بھارت نے چین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کھائی تھی ان دنوں بھی امریکی صدر نے فوری طور پر پاک بھارت مذاکرات شروع کر دئیے تھے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ان مذاکرات کا مطلب بھارت کو ”وقت“ دینا اور پاکستان کا وقت ضائع کرنا تھا تاکہ بھارت سنبھل سکے‘ لیکن صدر ایوب کے دور میں جب ”معاہدہ تاشقند“ ہوا تو کہا جاتا ہے کہ یہ شاستری کےلئے ”خوشی کی موت“ ثابت ہوا جبکہ اس وقت روس نے بھی اس معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا ”معاہدہ تاشقند“ کے بارے میں ایک تاثر یہ تھا کہ پاکستان نے اپنی حیثیت سے نیچے آ کر یہ معاہدہ کیا تھا لیکن دراصل اس کی آخری شق بڑی اہم ہے جو کہ یوں تھی کہ ”دونوں حکومتیں رضا مند ہیں کہ ان کے سربراہ باہمی طے کردہ وقت میں مستقبل میں بھی ملیں گے اور دونوں ملکوں کے نمائندے پائیدار امن کےلئے مزید انتظامات اور تبدیلیوں پر بحث کرینگے“ لیکن بھارت نے اس آخری شق پر کبھی عمل نہیں کیا اور مذاکرات پر تیار نہیں ہوا اور شملہ معاہدہ “ کی ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ اس میں یہ بات موجود نہیں تھی کہ اگر 30 ,40 سال تک بھی مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اقوام متحدہ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا اور کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے کوششیں نہیں کی جا سکیں گی۔ لہذا ہندوستان کی طرف سے ہر قسم کے غلط پروپیگنڈے کا مقابلہ کرتے ہوئے یہی وقت ہے کہ امریکہ ثالثی کا کردار ادا کرے اور جس کےلئے پاکستان ساتھ دینے کو تیار ہے۔ امریکہ کی انتظامیہ کی طرف سے جو بات سامنے آئی ہے اس بات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اگر پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کو سامنے رکھتا ہے تو یہ حقائق بھی سامنے رکھنا پڑیں گے کہ ایٹم بم پہلے بھارت نے حاصل کیا تھا اور پاکستان کے پاس اپنی سلامتی کیلئے اس بات کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ایٹمی طاقت حاصل کرے اور پھر سچی بات یہ ہے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو خطے میں تصادم کا عنصر ہمیشہ شامل رہے گا اور پھر یہ تصادم نیوکلیائی بھی ہو سکتا ہے اور نیو کلیائی تصادم کا نتیجہ بھیانک بھی ہو سکتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے مسئلے کو حل کی طرف لے کر جایا جائے کیونکہ بڑی تعداد میں کشمیری مسلمان بھی آزادی کےلئے اقوام متحدہ یا پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ امریکہ خوش قسمتی سے اس وقت ”اقوام متحدہ“ کی صدارت بھی کر رہا ہے لہذا اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اسے ثالثی کر کے کشمیر کی آزادی کے مسئلے کو انجام تک پہنچانا چاہئے اور ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کے مقرر ہونے والے ماضی کے ایک نمائندے سر اون ڈکسن کی رپورٹ پر غور کرنا چاہئے‘ جنہوں نے لکھا تھا ”میری دانست میں استصواب کیلئے خوف و ہراس‘ ناجائز دبا¶ اور دیگر ناانصافیوں کی موجودگی میں استصواب کی آزادی اور راست روی کے واسطے خطرے کا موجب ہو سکتا ہے لیکن دوسری بات یہ ہے کہ محفوظ ماحول پیدا کرنے کیلئے ہندوستانی فوجوں کی موجودگی کو استعمال کرنے پر ہندوستان کو راضی نہیں کیا جا سکتا؟“ یعنی ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور اثر و رسوخ کا پوری سچائی اور ایمانداری سے کیا گیا جو تجزیہ ماضی میں تھا وہ اب بھی موجود ہے۔