"دہشت گردی کی ماں"

کالم نگار  |  مسرت قیوم

یہ کبھی بھی میرے دماغ سے نہیں نکل سکے گا۔ ایک زخمی امریکی خاتون کا بیان۔ کیسے نکل سکتاہے۔ اتنا بڑا، گھناو¿نا واقعہ۔ موسیقی کی لے میں خوشی سے جھومتے لوگوں پر ایکدم آتشی برسات۔ سیکنڈز میں ہزاروں کا مجمع تتر بتر ہوگیا۔ درجنوں ہلاک۔ سینکڑوں گھائل۔ لاس ویگاس میں امریکی تاریخ کا بدترین فائرنگ کا واقعہ۔ عام پاکستانی اُتنا ہی دکھی ہے جتنا اس واقعہ پر عام امریکی۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے مصائب۔ دکھ زیادہ ہیں۔ ہماری قربانیوں کی تاریخ خون ناحق سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ آخری اقدام سے قبل پاکستان کو موقع دینگے اتحادی مفادات کی نفی ہے۔ دوست کے بھروسہ کو اینٹ مارنے کے مترادف ہے۔ امریکہ حقائق کو پیش نظر رکھے اور خطے کو آگ دکھانے والی قوتوں کی بیخ قنی کرے۔سمندر پار ہو یا اندرون ملک۔ وطن فروشوں کو ایک لمحہ کی تاخیر کیے بنا صرف قانون کی گرفت نہیں بلکہ کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے۔ امن۔ قانون کی حکمرانی کے لیے" ذِمہ دار اداروں۔ شخصیات" کو تو یہ شرف۔ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کِسی بھی وقت (تقریروں سے ہٹ کر) قانون کی علمداری نافذ کرواسکتے ہیں۔ کیا ہمارے ملک میں یہ نظیر موجود نہیں کہ معمولی "کریانہ فروش۔ ریڑھی والا" فوراً سے پہلے قانون کے نفاذ کی سعادت حاصل کر لیتا ہے اُن قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھوں سے جن کا کام اورفرائض ریاست ۔ عوام کا تحفظ۔ سلامتی ممکن بنانا ہے مگر وہ اُن قانون شکنوں کے گرد حفاظتی حصار بنائے نظر آتے ہیں جن کا تعلق اہل سیاست یا دولتمند تاجر طبقہ سے ہو۔ ایسے عناصر نہ ملکی حدود میں اور نہ ہی سمندر پار قابل گرفت ٹھہرتے ہیں۔ کیا یہ اِس ملک کا مقدر بن چکا ہے کہ قانون ۔ ادارے "طاقتور اشرافیہ" کو تحفظ فراہم کریں۔ "ثابت شدہ مجرمان" سرکاری وسائل استعمال کریں ۔ آنے جانے میں ریاستی مدد حاصل ہو۔ "ملین ڈالر سوال"۔ وطن توڑنے والوں کو رعایت کیوں؟ نرمی کِس واسطے؟ کتنے لاڈلے۔ کِتنے خوبصورت بچے ہیں جو وطن پر معصوم جانیں قربان کر گئے۔ عُمریں کتنی؟ کِسی کی20 سال۔ کِسی کی 22سال۔ کوئی 30 سال کا۔ جبکہ منظر۔ عالم یہ کہ80-70" سال" کے باغی عناصر "دولتمند وطن دشمن بابے" دندناتے پھرتے ہیں۔ ریاست ۔ حکومت کی طرف سے کون سی سہولت۔ آسانی۔ آسائشات ہیں جو اُن کو میسر نہیں۔ کیا وقت نہیں آپہنچا کہ محب ۔ دشمن میں واضح ہوتی ھد فاصل۔ نشانیاں۔ شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے رسی کھینچ ڈالی جائے۔بلا اشتعال بدمست کاروائیاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھاتی جارہی ہیں۔ ہماری طرف سے نہ جانی نقصانات کم ہونے میں آئے نہ آخری سانس تک نمٹنے کے بیانات۔ ہمارے طرف انڈیا فائرنگ اور دھماکے کروا رہا ہے اُدھر مقبوضہ وادی میں تلاشی۔ محاصرے۔ راستوں کی ناکہ بندی ۔ کرفیو جیسے مظالم ڈھا رہا ہے۔ ظالموں نے ایک دن میں" 8نوجوان" شہید کر دئیے۔
"بھارت خطے میں دہشت گردی کی ماں ہے"۔ دشمن کی کینہ پرور وارداتوں کے تناظر میں عالمی فورم پر ہماری طرف سے بر محل ۔ نہایت موزوں لقب دیا گیا۔ ناقص عقل کا یہ حال کہ "ڈرپوک چیف" نے دوبارہ سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی انڈیل ڈالی۔ خالی برتن زیادہ ہی اُچھلتا ہے۔ اِس کے شور مچنے پر کوئی تشویش میں مبتلا نہیں ہوتا۔ دیر سے سہی پر موسم بدلتا ضرور ہے۔ غم کا ہو یا آزمائش کا۔ ہر دو کے نصیب میں کروٹ لینا لکھا ہے۔ دیر سے سہی۔ ایک عرصہ الزام تراشی۔ ڈومور کے بعد "امریکہ" نے پاکستان کی قربانیوں کو سراہا بلکہ دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ حالات کی خرابی میں معاونت۔ اعانت کا معاملہ ہے یا کردار ادا کرنے کا تعلق۔ دونوں میں حقائق آشکار ہو رہے ہیں۔ "ہندوستان ٹائمز" اتنا چھوٹا اخبار ہے نہ علاقائی روزنامہ کہ نظر انداز کر دیا جاتا۔ اُس کا انکشاف مبنی بر حقیقت ہے۔ بالواسطہ نہیں جناب براہ راست دہشت گردی کی آبیاری۔ سانحات کی پلاننگ۔ وقوع پذیری میں انڈیا ملوث ہے۔ ماسٹر مائنڈ ہے۔ سہولت کاروں کی جنت۔ سہولت کاری کا گڑھ ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے اپنے شہری ریاست کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔ اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار۔ عام ہندو اشرافیہ کے استحصال میں گرفتار۔ وہ روشن چہرہ کہاں سے قرار پاگیا۔
"صورتحال خطرناک ہے"۔ کوئی ملک۔ کوئی فورم بے خبر نہیں۔ لا علم نہیں۔ مقبوضہ وادی میں انڈین فورسز کے تشدد سے شہید ہونے والوں کی خبریں دنیا بھر میں برابر پہنچ رہی ہیں۔ ساتھ ہی تشدد زدہ تصویریں بھی ۔ ہر ظلم سے انکار۔ ہر تصویر کو جھوٹی کہہ کر جھٹلانے سے سچ کو دبانا ممکن ہوتا تو جدوجہد آزادی کی جنگ لڑتے سکھ ۔ تامل۔ کشمیری کبھی بھی یورپی۔ امریکی سڑکوں پر احتجاج کرتے دِکھائی نہ دیتے۔ بے رحمانہ بر بریت کے باوجود مقبوضہ وادی میں حریت کی آوازیں مدھم نہیں ہو پائیں۔ بلکہ اِن کو دبانے واسطے اسلحہ کم پڑ گیا۔ مزید5" ہزار" پلیٹ گنز خریدی گئیں۔ "چین" کو مجبور ہو کر کہنا پڑا کہ "صورتحال خطرناک" ہے۔ حالات واقعی اچھے نہیں۔ وجہ" اُن" کی پٹاری میں الزامات کے علاوہ کچھ نہیں۔ جبکہ اِس طرف حقائق ہیں۔ ٹھوس شواہد کے ساتھ ثبوت الگ سے مگر "قیادت" ڈانواڈول۔ پالیسیوں بارے متذبذب۔ قومی وقار کے تقاضوں سے یکسر لا پرواہ۔ ملکی سلامتی سے زیادہ سیاسی مفادات کی جنگ میں مشغول۔ تو صورتحال نے موجودہ رنگ بھرنا ہی تھا۔اُدھر سے فائر پر فائر آرہے ہیں اِدھر اجلاس در اجلاس۔ دورے پر دورے۔ تشویش۔ پھر سے گہری تشویش کا اظہار۔ مذمت کا لفظ تو بدنامی کی آخری حد کو چھوتا نظر آرہا ہے۔ تعلقات کی بہتری۔ امن کے قیام۔ کِسی معاملہ میں بھی ہم دروغ گو نہیں۔ نہ ماضی ہمارے کردار کی نفی کرتا ہے۔ اصل فتور۔ دماغوں میں ہے۔ سارا فساد حق غضب کر کے جبراً قبضہ گردی کی کہانی ہے۔ بٹوارے کو تسلیم نہ کرنے کا دُکھ ہے۔ ہماری طرف سے تو کوئی چُھپن نہیں۔ غم نہیں۔ تجارت سے لیکر طائفوں تک بازو واہ کیے رکھے مگر "ہندو بنیا" اپنی ذات کے ساتھ وفادار نہیں وہ ہم سے کیا دوستی نبھائے گا۔ یہی واحد دکھ ہے جو ہم کو نہیں (2 کروڑ اشرافیہ کو چھوڑ کر) بقیہ کروڑوں ہم وطنوں کے جگر پاش پاش کیے دے رہا ہے کہ "قومی سیاست" کب اپنا مزاج درست کرے گی۔ اتنی قربانیاں۔ اتنے حادثات کب تک برداشت کریں گے۔ اگر سوال اُٹھ رہے ہیں تو 100"فیصد" جائز پوچھا جا رہا ہے کہ ہم کب تک برداشت کریں گے۔ ایک اسلامی ریاست کے شہری ایک "مسلمان" سے زیادہ امن کا خواہاں روئے زمین پر کوئی نہیں۔ ہمیں اپنے "دین حنیف" کے اِس خوبصورت پہلو کو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ عدل انصاف۔ مساوات۔ برابری کے سنہری اصولوں کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ گھوڑے تیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ واقع ہی خطرناک ہے۔