سیاسی جماعتوں کی سربراہی

سیاسی جماعتوں کی سربراہی

اس حقیقت میں شبہ نہیں کہ مستقبل کا طرز حکومت طرز عمل‘ سیاسی مذہب یا سیاسی نظام دنیا کے ملکوں اور قوموں میں ”جمہوریت“ ہی ہوگا.... جمہوریت کی بنیاد سیاسی جماعتیں ہیں خود اپنے ملک میں ہم بارہا یہ تجربہ کرچکے ہیں۔
ایوب خان‘ضیاالحق اور پرویز مشرف فوجی آمر تھے مگر اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے انہیں بھی سیاسی جماعتوں کی تشکیل کرنی پڑی۔ سیاسی جماعتیں ہی جمہوریت کی آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔ دنیا کی ترقی کے ساتھ فوجی انقلاب کی روایت ختم ہوچکی ہے اس بناءپر فوجی آمروں کی تخلیق کردہ جماعتوں کی روایت کا بھی خاتمہ ہورہا ہے۔
ہر ملک میں سیاسی جماعتیں اس ملک کے نظام حکومت کیلئے رحمت ثابت ہوتی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں دو سیاسی جماعتیں ضرور سیاسی نظام کو تقویت بخش رہی ہیں اور الیکشن کے ذریعے اقتدار میں آکر ملک کے مسائل اور معاملات امکانی حد تک کم کرتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملکوں میں آمرانہ مداخلت کی بناءپر سیاسی نظام ایک حد تک استحکام سے محروم ہے تب بھی سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور وہ جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ اسلامی ملکوں میں سیاسی عدم استحکام کی بناءپر دنیا کے واحد ایٹمی اسلامی ملک پاکستان کا سیاسی استحکام خاص توجہ کا تقاضا کر تا ہے جبکہ اسے درہم برہم کرنے کی بھی سازشیں ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جو ”حادثہ“ ہوا اس نے وقتی طور پر پارٹی کو سیاسی بحران سے دوچار کردیا ہے۔ حکومت کی حد تک جناب نوازشریف نے ذہانت اور ہوش مندی کا مظاہرہ کیا۔ نوازشریف گو خود حکومت سے باہر ہیں مگر وفاقی حکومت مسلم لیگ (ن) کی ہے۔ اس دوران قانونی تقاضے کے طور پر قومی اسمبلی کے حلقے میں الیکشن بھی ہوا ہے۔ یہ سیٹ جناب نوازشریف کیخلاف فیصلے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی.... نوازشریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کی امیدوار تھیں‘ مقابلے میں تحریک انصاف جو مسلم لیگ (ن) کیخلاف اسے بے اقتدار اور بے اختیار کرنے کیلئے مہم چلا رہی ہے.... کلثوم نواز بیمار ہیں اور لندن میں ہیں اس بناءپر سارا وزن مریم نواز کے کندھوں پر تھا۔ میاں نوازشریف بیگم کی عیادت کیلئے لندن چلے گئے‘ عیادت یا کسی اور وجہ سے جناب شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی تشریف لے گئے.... اب خاندان میں مریم نواز رہ گئی تھیں۔ انہوں نے ذہانت سے کمال ہوشیاری سے منظم انداز میں مہم چلا کر الیکشن جیت کر اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ چودھری نثار نے مریم نواز کی مدد کرنے کے بجائے طنز کے تیر چلائے‘ زیادہ ظاہر ہوئے بغیر
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی تاریخ کا جائزہ لیں تو وہ حالات کی بناءپر کبھی طاقتور اور کبھی کمزور ہوجاتی ہیں۔ البتہ بیان درست ہے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی پر ذوالفقار علی بھٹو پھر بےنظیر‘ مسلم لیگ (ن) پر نوازشریف اور اب تحریک انصاف پر عمران خان کے شخصی اثرات رہے ہیں۔ تحریک انصاف سے عمران خان کو خارج کردیں تو باقی رہ جائے گا ”صفر“ شخصیت سیاسی جماعتوں کے بقاءکا ذریعہ بن جاتی ہے۔ وزیراعظم.... نوازشریف کا نعرہ سر آنکھوں پر مگر ”نااہلی“ کا کیا کریں گے۔ مذہبی جماعتوں میں ”جماعت اسلامی“ طاقتور جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اپنے ”مرکز“ کے شہری حلقے میں محض چند سو ووٹ حاصل کرسکی جہاں ”منصورہ“ ہے وہاں یہ حال ہے تو باقی پاکستان کا کیا حشر ہوگا۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے لاہور میں جنم لیا۔ 1970ءکے الیکشن میں لاہور کی تمام نشستیں حاصل کرلیں۔ پنجاب کی بیشتر نشستیں حاصل کیں پھر بےنظیر کا سیاسی سحر ایک حد تک باقی رہا مگر اب آصف زرداری اور بلاول کی قیادت میں پی پی نے محض 1414 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ کہاں وہ وقعت اور کہاں یہ بُرا وقت۔ ظاہر ہوا کہ قیادت لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس سیاسی منظر میں مسلم لیگ (ن) جس کی نوازشریف کی بے دخلی کے باوجود وفاقی حکومت ہے کی صدارت کا معاملہ پورے ملک میں اہمیت کا موضوع بحث بنا ہوا ہے اور اہم ہے بھی۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر سیاسی وارث بھائی ہو‘ بیگم ہو‘ بیٹا ہو یا بیٹی‘ سیاسی وراثت کی اہمیت کا حامل ہوتا ہے یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ جمہوریت کے باوجود برصغیر پاک وہند میں سیاسی وراثت ایک روایت بن گئی ہے۔
یہ ہے سیاست کا احوال.... نوازشریف کی ایک غلطی یہ تھی کہ انہوں نے ”بھائی“ کو ”سمدھی“ کو تو بڑے مرتبوں سے نوازا مگر تمام اہلیت‘ قابلیت اور صلاحیتوں کے باوجود اپنی بیٹی مریم نواز کو نہ قومی اسمبلی کی نشست دے سکے نہ وزارت.... نہ پارٹی عہدہ.... بس مقدمات دیئے‘ بڑے لوگ غلطیاں بھی بڑی کرتے ہیں اس حقیقت کے اعتراف کے ساتھ کہ جناب شہبازشریف اور حمزہ شریف اگرالیکشن جیتے ہیں تو جناب نوازشریف کے نام پر۔ یہ ہماری مخلصانہ اور عاجزانہ رائے ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کیلئے سب سے مناسب سب سے موزوں شخصیت مریم نواز کی ہے۔
مریم نواز وزیراعظم بنتی ہیں یا نہیں یہ پیشگوئی اس مرحلے پر ممکن نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں مگر ان کی فعال‘ سحر انگیز اور متحرک قیادت میں مسلم لیگ (ن) عمران خان کو شکست دے کر فاتح بن کر ابھرے گی۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے نئے پرندوں کے اڑنے میں وقت تو لگتا ہے....!