کیا لوگ سیاستدانوں اور میڈیا کے ذہنی غلام ہیں؟

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
کیا لوگ سیاستدانوں اور میڈیا کے ذہنی غلام ہیں؟

پورے پاکستان کو اِس وقت ایک ہی مدار میں گھمایا جارہا ہے۔ یعنی سیاست دانوں کے نت نئے ایشوز، اقتدار کے لئے باہمی دشمنیوں کی انتہائیں اور فوج یا سیکورٹی اداروں کو اپنے مفادات میں گھسیٹنا وغیرہ جیسے اذیت ناک معاملات دن رات چل رہے ہیں۔ میڈیا بھی زیادہ سے زیادہ کمرشل ریٹنگ حاصل کرنے کے لئے اِس سیاسی ماردھاڑ اور چیخ و پکار کے علاوہ نہ کچھ اور دیکھ رہا ہے اور نہ ہی کچھ اور سن رہا ہے۔ دوسری طرف عوام کو یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ انہی کے بنیادی حقوق کے لئے ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق عمومی طور پر شہریوں کے آٹھ اہم بنیادی حقوق ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں بیس کروڑ لوگوں کے اِن بنیادی حقوق کو کس طرح پامال کیا جارہا ہے۔ خودمختار رائے رکھنے کے بنیادی حق کے تحت لوگوں کو کسی مداخلت کے بغیر اپنے حاکم چننے اور سیاسی منصب لینے کی آزادی ہوتی ہے۔ پاکستان میں عموماً اس کی تشریح اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے حوالے سے کی جاتی ہے لیکن ٹی وی چینلز اور میڈیا پر دن رات سیاست دانوں کی ایک دوسرے کے خلاف شدید الزام تراشیاں کیا عوام کو اپنی خودمختار رائے بنانے میں ایک مداخلت نہیں ہیں؟
کیا اِس مداخلت سے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف گمراہ نہیں کیا جارہا؟ کیا عوام کے خودمختار رائے قائم کرنے کے اِس بنیادی حق کو سیاست دان اور میڈیا پامال نہیں کررہے؟
سیاسی آزادی بھی ایک بنیادی حق ہے جس طرح کسی بازار میں ریڑھی اور ٹھیلے والے اپنی چیزیں فروخت کرنے کے لئے راہ گیروں کو کھینچ کھینچ کر اپنی طرف بلاتے ہیں ویسے ہی سیاست دان لوگوں کو اپنی پارٹی کی طرف راغب کرنے کے لئے مخالفین کے خلاف دن رات تماشا لگاتے ہیں اور میڈیا اِن کی لائیو کوریج کرتا ہے۔ کیا اس دھونس بازی کے ذریعے عوام کی سیاسی آزادی کے حق کو سلب نہیں کیا جارہا؟ انصاف کا حصول اہم بنیادی حق ہے۔ پاکستان میں عوام کے اَن گنت مقدمات برس ہا برس سے پینڈنگ پڑے ہیں لیکن سیاست دان اپنے سیاسی جھگڑوں کے مقدمات روزمرہ بنیاد پر جلد سے جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔
کیا سیاست دانوں کے اپنے مفاد میں روزمرہ کے مقدمات عوام کے لئے حقیقی انصاف کے بنیادی حق کو پامال نہیں کررہے؟ آمدورفت کی آزادی جیسے بنیادی حق کو بھی سیاست دان اپنے پائوں تلے کچل رہے ہیں۔ اس کے تحت کوئی بھی شہری ایک جگہ سے دوسری جگہ آزادی سے آجا سکتا ہے لیکن ہمارے شہروں، سڑکوں اور بازاروں کو سیاسی جلسوں، دھرنوں اور احتجاجوں کے ذریعے اکثر بند کردیا جاتا ہے۔ اِس سے مریض بند راستے میں ہی مرجاتے ہیں، طلباء سکول نہیں جاسکتے، دفتروں میں کام ٹھپ ہوجاتا ہے اور کاروبار تباہ ہو جاتا ہے۔ سیاست دانوں کے راستے بند کرنے کے اِس قاتلانہ اور غیرقانونی اقدام کو میڈیا لائیو دکھاتا ہے۔ کیا اس طرح سیاست دان آمدورفت کے بنیادی حق کو بری طرح روند نہیں رہے؟ سوچنے کی آزادی کے بنیادی حق کے تحت کوئی بھی شہری دوسرے فرد کی سوچ سے متاثر ہوئے بغیر اپنی سوچ رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست دان میڈیا کے ذریعے ہر لمحہ عوام کی سوچوں کو دوسروں کے خلاف پراگندہ کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہتے ہیں۔ آزادی سے سوچنے کے حق کو یہ نقصان پہنچانا کیا جرم نہیں ہے؟ کیا سیاست دان عوام کے آزادی سے سوچنے کے حق کو یرغمال نہیں بنا رہے؟ اظہارِ رائے کی آزادی جیسا بنیادی حق سیاست دانوں اور میڈیا کا پسندیدہ چاکلیٹ ہے۔ اس حق کی تشریح سیاست دان اور میڈیا حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے اپنے اوپر لگائی جانے والی پابندیوں کے حوالے سے ہی کرتے ہیں حالانکہ ایک لحاظ سے اکثر سیاست دان اور میڈیا بھی اظہار رائے کی آزادی کو پسند نہیں کرتے۔ مثلاً کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاست دان کے خلاف کوئی رائے سوشل میڈیا، عام میڈیا یا پبلک میں دی جائے تو اُس سیاسی جماعت کے کارکن رائے دینے والے کے خلاف وہ شرمناک مہم شروع کرتے ہیں کہ بدترین فحش لٹریچر بھی شرما جاتا ہے۔ ہمارے ہاں آزادی رائے کی آزادی کو سیاسی ورکرز کی طرف سے ختم کرنے کی انسانیت سوز مثالیں یہاں تک موجود ہیں کہ مخالف سیاسی ورکرز کو سرعام زدوکوب کرکے قتل کردیا گیا۔ کچھ میڈیا ہائوس دوسرے میڈیا ہائوس کے خلاف کوئی بھی بات آزادی رائے کے حق کے طور پر لیتے ہیں لیکن اپنے ہی خلاف عوام کی رائے نہیں دکھاتے۔ آزادی رائے کا زور زور سے بھونپو بجانے والے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر بتائیں کہ کیا وہ آزادی رائے کا بنیادی حق صرف اپنے لئے تسلیم کرتے ہیں یا عوام کو بھی اس حق کی آزادی دیتے ہیں؟ پرامن اکٹھے ہونے کے بنیادی حق سے مراد یہ ہے کہ لوگ اپنی مرضی سے پرامن طور پر اکٹھے ہوکر مختلف خیالات اور نظریات پر تبادلہ خیال کرسکیں لیکن مخالف خیالات اور نظریات کے حوالے سے معاشرے میں عدم برداشت کا سلسلہ جس حد تک پہنچ چکا ہے اُس کے پیش نظر عموماً دفعہ 144 لگا دی جاتی ہے جس کے تحت چار افراد بھی ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ سیاستدان تو اسمبلیوں میں بھی پُرامن نہیں رہتے۔ کیا اس بنیادی حق کو تباہ کرنے کا سہرا بھی سیاسی لوگوں کے سر نہیں ہے؟ تنظیم سازی کی آزادی کے بنیادی حق کے تحت لوگ ملکی قانون کے مطابق تنظیم بنا سکتے ہیں، کسی بھی تنظیم میں شریک ہوسکتے ہیں یا کسی بھی تنظیم سے نکل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ تنظیم اپنے ممبران کی فلاح و بہبود کے لئے ہروقت کوشاں رہتی ہے۔ ہمارے ہاں ہر سرگرمی میں سیاست گھس آئی ہے جس کے باعث ہر اچھی اور فائدے مند سرگرمی بھی نقصان دہ ہوگئی ہے۔
اس حق کے حوالے سے اگر ہم طلباء یونین، ٹریڈ یونین اور سپورٹس یونین وغیرہ کا ذکر کریں تو اُن سب پر بھی سیاسی رنگ موجود ہے جس کے باعث اِن تنظیموں کا مزاج بھی ہماری سیاست کی طرح تلخ اور زہر آلود ہوچکا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں یہ بنیادی حق بھی تقریباً دم توڑ رہا ہے۔ کیا اس کے ذمے دار بھی سیاست دان نہیں ہیں؟ مذکورہ بالا انٹرنیشنل تسلیم شدہ بنیادی حقوق کو پاکستان میں پرکھ کر یہ سوالات ذہن میں آتے ہیں کہ ہمارے سیاست دانوں کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ میڈیا پر چوبیس گھنٹے صرف اپنا سیاسی پراپیگنڈہ کریں؟ کیا یہ اقدامات بنیادی حقوق کے خلاف ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آتے؟کیا سیاستدانوں کے پاس بھوکے، ننگے، بدحال اور مرتے ہوئے عوام کی حقیقی فلاح و بہبود پر گفتگوکرنے کے لیے کچھ نہیں ہے؟ کیا بیس کروڑ لوگ سیاست دانوں اور میڈیا کے ذہنی غلام ہیں؟