بہترین انسان

کالم نگار  |  مسرت قیوم
بہترین انسان

اپنی حالت دیکھو‘ وقت کا اندازہ ہے۔ کلائی پر گھڑی بندھی ہے اور تشریف آوری سورج غروب ہونے کے قریب۔ اب کام کیا ہو گا؟ وہی جو میرے آنے سے قبل ہو رہا تھا۔ دماغ پر ہاتھ مارو۔ کیا کہہ رہی ہو‘ مطلب تمہارا آنا‘ نہ آنا برابر ہے۔ ہر دو صورتوں میں کام چلتا رہتا ہے۔

چل نہیں رہا‘ نہ ملک میں وزیراعظم ہے نہ بجلی۔ اس کے باوجود یہ اتنی ظالم لوڈشیڈنگ کیوں شروع ہو گئی‘ کہیں سازش تو نہیں‘ سارے لوگ باتیں کر رہے تھے کہ تنگ کرنا پروگرام ہے۔ یہ ملک‘ لوگ اسی دن راست قدم پر آجائیں گے جب خود ساختہ افواہیں پیدا کرنی بند کر دیں گے۔ اپنی بات کرو۔ کیا کریں۔ پٹرول کی قیمتوں نے ہماری ادھڑی جیب میں مزید سوراخ کر دیئے۔ پیدل آئی ہوں۔ فاصلہ بھی تو دیکھیں۔ سورج چڑھے نکلتے ہیں۔ پیدل مسافر کی منزل شام غریباں کی مانند ہے۔ ہمارا کیا قصور؟ مسکینی والی باتیں مت کرو۔ گھر کے پاس سے ’’سپیڈو بس‘‘ گزرتی ہے کیا ’’20 روپے‘‘ بھی پاس نہیں ہوتے۔ ’’بات 10‘ 20‘‘ کی نہیں‘ اصل قصہ بچانے کی جبلت ہے جو آجکل کے سختی‘ بے اطمینانی‘ بے برکتی کے فیز پر پوری طرح سے حاوی ہے۔ ٹکٹ خریدنے کی عیاشی پر ’’ایک روٹی‘‘ کو فوقیت بہرحال بڑی قیمتی ترجیح ہے بلکہ سانس رواں رکھنے کا ناگزیر بہانہ۔ دوسرا کارڈ بہت مہنگا ہے۔ آپ نے بھی تو اس پر لکھا تھا ’’نوٹس‘‘ بھی لیا گیا مگر معاملہ ہنوز؟ ’’نوٹس‘‘ آجکل گھمن گھیریوں میں الجھا ہوا ہے۔ کام تو ہو رہا ہے‘ تازہ بیان سنا۔ ’’روشنیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘ بیگم صاحبہ۔ درست ہے ہمیں اعتراض نہیں‘ بس ایک سوال کی جسارت ہے۔ ان روشنیوں کا بہائو اشرافیہ کی طرف کیوں؟ کیا آٹا کی قیمت میں 50 روپے اضافہ اشرافیہ کو ریلیف ہے؟
ہوگئی شروع روایتی الزام تراشی۔ یہ چلن اب بدل لو۔ ’’خادم اعلیٰ‘‘ نے تمہارے جیسے ناقدین کے متعلق کہا ہے کہ پرواہ نہیں ’’آگے بڑھتے رہیں گے۔‘‘ آخری لفظ سمجھ سے اُڑ گیا۔ ’’بچہ‘‘ مت بنو۔ چلئے تیز طرار ہیں‘ اپنی دانش کا تھوڑا سا عرق ہمارے دماغ میں انڈیل دیں۔ سنو‘ ترقی مراد ہے۔ خوشحالی لہراتے پھریروں کا ذکر ہے۔ ثبوت ’’عالمی عدالت انصاف‘‘ کا آئی پی پیز کے حق میں فیصلہ۔ حکومت کو 14 ارب ادا کرنے کا حکم۔ حکم ہے وہ بھی بڑوں کا۔ ماننا مجبوری ہے۔ پر نوبت کیسے آئی؟
سب تفصیل ہر جگہ موجود ہے۔ لاعلمی کا دور لد چکا۔ ’’انٹرنیٹ‘‘ نے ان پڑھ‘ پڑھے لکھے کو ’’ایک صفحہ‘‘ پر کر دیا۔ پڑھ لینا‘ صرف اتنا کہہ دیتے ہیں کہ ترقی کے کوہ ہمالیہ طے کرتے سفر میں اتنی معمولی رقم کی کوئی وقعت نہیں۔ وقعت تو اس منافع کی بھی نہیں۔ پٹرول میں زیرہ مثل اضافہ پر واویلا مچا ڈالا۔ ہر کوئی چیخ رہا ہے۔ نرخ بڑھنے کی اطلاعات پر خاموشی کا کمبل اوڑھنے والے کہاں تھے؟ ساری گیم ’’پوائنٹ سکورنگ‘‘ کے اردگرد گھومتی ہے۔ بڑی عجیب مثال دی زیرہ برابر۔ یہ معمولی رقم ہے۔ ایک ماہ میں عوام کی تجوری سے 10 ارب نکل جائیں گے اور جو اشیائے صرف کے نرخوں میں بھانبڑ مچے گا‘ وہ الگ سے ہے۔ شعلے پہلے ہی آسمان کو چھو رہے تھے اب تو قیمتیں + بددعائیں بیک وقت پرواز کرتی ہیں۔
اچھا سچ بتائو ’’آگے بڑھنے‘‘ کے معانی آشکار ہوئے۔ آشکار؟ چودہ طبق روشن کر دیئے۔ مگر ان کا کیا جرم۔ قصور تو اداروں کا بھی نہیں۔ ماننے کے باوجود رگیدنے سے باز نہیں آرہے والی حقیقت کب کھلی؟ پڑھا نہیں کہ کس کو اقتدار سے باہر یا حکومت میں رکھنا۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ جب فیصلہ رب رحمن کا ہے تو پھر شور کیوں؟ الزام کس پر جبکہ حکومت میں ہیں۔ برابر سہولتیں‘ پروٹوکول کرپشن کی رفتار سے زیادہ رواں دواں ہے۔ عجیب ملک ہے۔ دونوں اتحادی حکومت کرتے ہوئے گلے شکوے؟
فرشتے تو ہم بھی نہیں۔ بداعمالیوں میں عوام کونسا پیچھے ہیں۔ پھر قصور تو ان کا بھی نہیں جو ’’برخاستگی‘‘ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کون؟ سالانہ ’’اربوں روپے‘‘ کے فنڈز‘ مستحق افراد تک پہنچ نہیں پائے۔ افسر ہضم کر گئے۔ ترقیاتی فنڈز؟ نہیں ’’زکوٰۃ‘‘ ایسا تو نہیں کہ روشنیوں کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہو کہ ہم لاعلم رہ گئے۔ کسی دن واقعی غریبوں کی چھت پر اتر کر امارات کا سبزہ اگا ئیں۔ لاعلمی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر میسر آجائے۔ حسن ظن احسن ہے۔ ’’دور فاروقی‘‘ کی یاد تازہ کروا دی۔ ’’ہرکارے‘‘ زکوٰۃ کا مال لیکر گلیوں میں گھومتے‘ کوئی وصول کرنے والا نہ ملتا تھا۔ اچھا گمان کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ مثبت سوچ میں کوئی قباحت نہیں۔ ذہن کو منفی باتوں کے زہر سے پاک رہنا چاہئے۔
’’زہر‘‘ سے یاد آیا ’’ظالموں‘‘ نے لسی میں دشمنی گھول کر 15 قیمتی جانیں نگل ڈالیں۔ ہلاکتیں ایک مرد کے اعمال بد کا نتیجہ ہیں۔ اس میں حکمرانوں کا کیا قصور؟ اس پر بحث نہیں۔ دکھ ہے کہ ’’ہسپتال‘‘ نہ سہی‘ قرب و جوار میں کوئی چھوٹا موٹا ’’طبی مرکز‘‘ ضرور بن جانا چاہئے تھا۔ بے شک موت برحق ہے پر بچانے کی کوشش میں تو کوئی قدغن نہیں۔ کیا ’’متذکرہ الفاظ‘‘ ادھر عملی شکل میں نہیں پہنچ سکے۔ آجکل تو معلوم ہوتا ہے ہر طرف زہریلی چیزوں کا زیادہ ہی راج ہے۔ بیانات سے لیکر اشیائے خوراک تک محفوظ نہیں رہ پائیں۔ ’’زہریلی مٹھائی‘ زہریلا کھانا‘ زہریلی چائے اب زہریلی لسی‘‘ آگے بھی تو بڑھنا ہے۔ یہ بات نہیں۔ توندیں بڑی ہو گئی ہیں۔ طمع‘ ہوس‘ بے خوفی کے ابواب نوگو ایریا بن جائیں تو ایسے ہی واقعات رونماہوتے ہیں۔ گھرسے سیاست تک نرغے میں ہے۔ اتنا بڑھ رہے ہیں کہ ’’قبریں‘‘ تک سنگدلی کے زہر سے محفوظ نہیں رہیں۔ یہ کون سا عصرِنو کا غم ہے۔ سب کچھ پہلے بھی ہوتا تھا مگرنیت کے بھرنے کی ایک حد مقرر تھی۔ لمحہ موجود میں نیت بھر رہی ہے نہ ہی نظر۔ دونوں سیر نہیں ہو رہیں۔ ملک پر ’’کارٹلز‘‘ مسلط ہیں۔ پیٹ اتنے پاپی کہ قیامت تک بھرنے والے نہیں۔ برطرفی نہیں اب تو ’’پھانسی‘‘ شافی علاج ہے۔ ’’ان‘‘ سے تو وہ ڈاکو بہترین انسان تھے جنہوں نے ایک سٹور سے ’’ایک ڈالر‘‘ لوٹا۔ صرف ایک ڈالر۔ سچ ہے ’’ڈاکو دو‘‘ تھے مگر ضرورت ایک ڈالر کی تھی۔ پاکستانی تھے؟ ایسا تو قرب قیامت ہوتا۔ واشنگٹن کا بیان ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے شہری اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ ہاں پر کچھ حد تک مگر ’’انڈین چور‘‘ کا قصہ بھی سن لو۔ چوری کے اگلے روز ’’تھیلا‘‘ اس نصیحت کے ساتھ واپس پھینک گیا کہ وہ شرمندہ ہے۔ آئندہ تم لوگ زیورات اور نقدی لاکر میں رکھنا۔
یقین رکھو۔ دنیا بہترین انسانوں سے خالی نہیں۔ اندھیروں میں تو روشنی اسی کے بعد طلوع ہوتی ہے۔ دن کو سورج اور رات کو چاند کا راج ہوتا ہے۔ کوئی حصہ بھی روشن سے محروم نہیں۔ محروم وہ ہیں جو اتنی بڑی حقیقت کو پہچاننے سے انکاری ہیں۔ سچائی کا غلبہ لازم ہے۔ کوئی مانے یا آنکھیں بند کر لے‘ قانون مدات نافذ ہوکر رہتا ہے اور رہے گا اس لئے سبھی کو حقائق تسلیم کر لینا چاہئیں۔ روشنیاں اس ملک‘ قوم کا اٹل مقدر ہیں۔