کیا عدالتی کمیشن کے فیصلے سے حکمرانوں کو گھر جانا پڑیگا؟

کالم نگار  |  ادیب جاودانی
کیا عدالتی کمیشن کے فیصلے سے حکمرانوں کو گھر جانا پڑیگا؟

مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو تحریری سوالنامہ کا اجراء اور سیاسی جماعتوں کو دھاندلی کے الزامات، ثابت کرنے کیلئے ثبوت و شواہد اور گواہان کی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت پر دھاندلی کی شکایات کرنیوالی سیاسی جماعتیں کس قدر سنجیدہ کردار کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ کمیشن کو رائے قائم کرنے کی مد میں یہ اہم ترین ہو گا۔ سماعت میں چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے عمومی نوعیت کے سوالات کے جوابات دینا ہونگے، الزامات ثابت کرنے کیلئے سیاسی جماعتیں ثبوت اور شواہد کیساتھ ساتھ گواہان کی فہرست بھی فراہم کریں۔ ان سوالات کا جواب دینا اس لئے بھی ضروری ہے کہ جوڈیشل کمیشن مفروضوں پر نہیں بلکہ حقائق پر کارروائی کریگا جس کے بعد سیاسی جماعتوں کی طرف سے جمع کرائی گئی دستاویزات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ جوڈیشل کمیشن جمع کرائی گئی دستاویزات کا کمیشن کے قیام کے اصولوں سے موازنہ کریگا، مماثلت رکھنے والی دستاویزات پر متعلقہ سیاسی جماعت کو سنا جائیگا۔ بدھ کو جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائیگی۔ طریقہ کار کو حتمی شکل دیکر جوڈیشل کمیشن کارروائی شروع کر دیگا۔ دریں اثناء تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے عدالت عظمیٰ سے باہر آ کر بیان دیا کہ ثبوت بوریوں میں پڑے ہیں جسکے جواب میں حکومتی ترجمان پرویز رشید نے ترکی بہ ترکی یہ سوال کیا کہ اگر ثبوت تھیلوں میں پڑے ہیں تو پی ٹی آئی اب تک کن شواہد و ثبوت کی بنا پر دھاندلی کے الزامات لگاتی آئی ہے۔ قبل ازیں بھی تحریک انصاف کے قائد کے اس بیان پر متنازعہ حلقوں میں تھیلے کھولے گئے مگر اس کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ پرویز رشید کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے عمران خان کے جھوٹ کا پول کھل گیا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت اکیس جماعتوں کو انتخابی دھاندلی کی شکایات ہیں لیکن سنجیدگی کے ساتھ کیس میں دلچسپی یا تو تحریک انصاف کی دکھائی دیتی ہے یا پھر پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن کی ذاتی جو سنجیدگی کے ساتھ پارٹی کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں لاہور کے ایک حلقے میں دھاندلی بارے وائٹ پیپر بھی چھاپا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کمیشن میں اگر مسلم لیگ (ن) مدعاعلیہ کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی اصولی طور پر اسے ملزم گرداننے کی فی الوقت کوئی وجہ دکھائی دیتی ہے کمیشن کے سربراہ نے بھی جو سوالات اٹھائے ہیں ان کا جواب دینا بھی الزام لگانے والوں پر لازم ہے۔
دریں اثناء تحریک انصاف نے جوڈیشل کمیشن کے سوالنامے کا جواب جمع کرا دیا ہے جس میں تحریک انصاف نے موقف اختیار کیا کہ عام انتخابات 2013ء صاف و شفاف، غیر جانبدار انداز میں نہیں ہوئے، مسلم لیگ (ن) کے سیاسی سیل نے انتخابات میں منظم دھاندلی کا منصوبہ بنایا اور ان منصوبہ سازوں نے دھاندلی کا منصوبہ بنا کر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پیش کیا اور (ن) لیگ کے حمایتیوں، ہم نشینوں اور رفقاء نے عمل کیا، دھاندلی کے منصوبے میں آر اوز، پریذائیڈنگ آفیسرز، پولنگ عملے اور انتخابی مشینری نے مدد فراہم کی۔ گزشتہ بدھ کے روز عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے جوڈیشل کمشن کا اجلاس چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں ہوا۔ ممکنہ انتخابی دھاندلی پر بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کے سوالنامہ پر تحریک انصاف نے اپنا جواب جمع کرا دیا ہے، جوڈیشل کمیشن کے پہلے سوال کے جواب، تحریک انصاف نے موقف اختیار کیا کہ عام انتخابات 2013ء صاف شفاف، غیر جانبدار اور ایماندارانہ انداز میں نہیں ہوئے۔ جوڈیشل کمیشن کے دوسرے سوالنامے پر تحریک انصاف نے جواب میں کہا کہ انتخابات میں منظم دھاندلی کا منصوبہ مسلم لیگ (ن) کے سیاسی سیل نے بنایا، مسلم لیگ (ن) کسی بھی قیمت پر الیکشن جیتنا چاہتی تھی۔ تحریک انصاف نے جوڈیشل کمیشن کے سوالنامے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے الزامات سے متعلق 74 قومی و صوبائی اسمبلیوں سے متعلق مواد جمع کرا چکے ہیں۔ الزامات سے متعلق ویڈیو ریکارڈ اور نادرا کی فرانزک رپورٹ بھی جمع ہو چکی ہے۔ جوڈیشل کمیشن نجم سیٹھی اور انتخابات کے وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کر کے جرح کرے۔ تاہم تحریک انصاف نے تحریری جواب میں شواہد فراہم کرنے میں بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دوسری سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیش کئے گئے شواہد پر انحصار کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ انتخابی ریکارڈ کا آڈٹ فارم 14 سے 17 تک کے معائنہ کے نتائج پر انحصار کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ سپیشل تحقیقاتی ٹیم کے نتائج پر بھی انحصار کریں گے۔ الزامات سے متعلق قابل ذکر شواہد کی نشاندہی اور ممکنہ حد تک ثبوت فراہم کر چکے ہیں۔ تحریک انصاف کا اپنے جواب میں کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں سیاسی جماعتوں کا کردار معاونت فراہم کرنے کا ہے الزامات ثابت کرنے کا بوجھ صرف سیاسی جماعتوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ کمیشن قانونی طور پر آر ڈیننس کے تین سوالوں کی انکوائری اور حتمی رپورٹ دینے کا پابند ہے۔ اصولی طور پر جوڈیشل کمیشن کوئی عدالت نہیں بلکہ حقائق طشت ازبام کرنیوالا فورم ہے۔ البتہ اسکی رپورٹ سے سیاست کا رخ ضرور تبدیل ہو گاخاص طور پر اگر منظم دھاندلی ثابت ہو سکے تو۔ اگرچہ دستیاب شواہد پیش کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور ان شواہد اور ثبوتوں کا جائزہ لینا کمشن کی ذمہ داری ہے جس کے بارے میں کچھ کرنا قبل از وقت ہے۔ اسکے باوجود کمشن کا قیام اور اس کی کارروائی اس لئے سودمند گردانی جائے گی کہ آئندہ صورت اول میں کوئی مینڈیٹ چرانے کی زحمت نہیں کر سکے گا جبکہ صورت دوم میں کوئی بلاوجہ دھاندلی کا شور کر کے دکان چمکا نہیں پائے گا اور انتخابات کو متنازعہ قرار دینے کی روایت دم توڑ جائیگی۔