کون کرنا چاہتا ہے مُک مُکا

کالم نگار  |  ظفر علی راجا
کون کرنا چاہتا ہے مُک مُکا

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بہت باکمال شخصیت ہیں۔ ان کا ایک بے مثال کمال یہ ہے کہ وہ برطانوی شہری ہیں اور عرصہ دراز سے لندن میں مقیم ہیں لیکن میڈیا کے ذریعے پاکستان کے ہر گھر میں ان کی زندہ گرجدار تقریریں گونجتی رہتی ہیں اور ٹی وی سکرین پر وہ خود بھی گھر گھر ’’لائیو‘‘ جلوہ افروز دکھائی دیتے رہتے ہیں۔ ہم انہیں دہشت گرد مقرر تو نہیں کہہ سکتے لیکن دھماکہ گرد مقرر قرار دینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ یکم مئی کو انہوں نے اپنی تقریر میں زندگی کا شاید سب سے بڑا دھماکہ کر دکھایا۔ اس دھماکہ خیز تقریر سے قبل کراچی کے ایک سینئر پولیس آفسر رائو انوار نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے روابط ہیں۔ ایم کیو ایم کے کچھ خاص کارکن اس ایجنسی سے باقاعدہ تربیت حاصل کر کے کراچی میں دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں۔ اپنے موقف کی تائید میں انہوں نے میڈیا کے سامنے طاہر ریحان عرف طاہر لمبا اور جنید کو پیش کیا۔ انکشاف ہوا کہ ایسی تربیت کے لئے پہلے ایم کیو ایم کارکنوں کو بنکاک بھیجا جاتا ہے۔ وہاں سے وہ بھارت جاتے ہیں اور تربیت حاصل کرنے کے بعد ’’را‘‘ کے ایجنٹ مقبوضہ کشمیر کے راستے انہیں آزاد کشمیر میں داخل کروا دیتے ہیں جہاں سے وہ کراچی آ جاتے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے دوسرے دن ایک ایسے پولیس افسر کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھا۔ 2 مئی کو رائو انوار پر قاتلانہ حملہ ہوا لیکن قدرت نے انہیں بچا لیا۔ بات کہیں سے کہیں نکلی جا رہی ہے۔ بات تو الطاف بھائی کی دھماکہ خیز تقریر کی ہو رہی تھی۔ یہ تقریر انہوں نے ایس ایس پی رائو انوار کے انکشافات والی رات ہی لندن سے بذریعہ میڈیا پوری پاکستانی قوم کو سنائی۔ اس جذباتی تقریر میں انہوں نے رائو انوار کو بھنگی قرار دیا اور ان کے سنسنی خیز الزامات پر صفائی پیش کرنے کے بجائے فرمایا کہ وہ بھنگیوں کے الزامات کا جواب دینا پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ بھنگی زرداری کا دوست ہے یا پھر آئی ایس آئی کا چہیتا ہے۔ اس پرمقدمہ چلایا جائے اور اڑا دیا جائے ۔ اسے معطل کرنے سے کام نہیں چلے گا پھر اعلان کیا کہ ایسے حالات میں تو مارشل لاء لگایا جانا چاہئے۔ انہوں نے افواج پاکستان کے بارے میں کچھ نازیبا باتیں کیں اور پھر گرجدار آواز میں یہ اعلان بھی کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان آ کر ایم کیو ایم کے کارکنوں کو تربیت دے۔ پھر ایم کیو ایم کے کارکنوں سے مخاطب ہو کر انہیں اکسایا کہ وہ ایک گھنٹہ روزانہ فوجی تربیت پر لگایا کریں کیونکہ فوج سمیت سارے ادارے ہماری قربانیوں کے مزے اڑا رہے ہیں۔ پورے ملک میں الطافیہ تقریر سننے والے فکر مندی سے سوچ رہے تھے …؎
کون ان کی کرے زباں بندی
منہ میں آتا ہے جو، وہ کہتے ہیں
الطاف نے اپنی دھماکہ خیز تقریر میں ایم کیو ایم اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے تعلقات والے انکشاف پر پولیس افسر رائو انوار کو تو بھنگی قرار دے دیا لیکن اپنے دیرینہ کارکن صولت مرزا پر کوئی زبان درازی نہیں کی جس نے ایک الگ نشست میں ایم کیو ایم اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے درمیان تعلقات کی تصدیق کی تھی۔ الطاف حسین کے بیان کے ساتھ ہی پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے الطافیہ بیان کو بے ہودہ اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تو اسی روز الطاف بھائی نے حسب معمول اپنا معافی نامہ جاری کر دیا اور کہا کہ میں قومی اداروں کی دل آزاری پر معافی چاہتا ہوں۔ بھارتی ایجنسی را کے تعاون والی بات کو گھما کر الٹا کر دیا اور وضاحت کی کہ وہ بات میں نے طنزیہ طورپر کہی تھی۔ جن لوگوں نے یہ تقریر سنی تھی وہ اس ’’طور‘‘ سے بخوبی آگاہ ہیں جس تحکمانہ طور طریقے سے یہ دھمکی میڈیا پر اچھالی گئی تھی۔ الطاف حسین نے فوج سے مانگی ہوئی معافی کی اگلے روز ’’تلافی‘‘ کرتے ہوئے بیان دیا کہ جو بھی مجھ پرغداری کا مقدمہ چلانا چاہتا ہے چلا کر دیکھ لے۔ معافی نامہ کے بعد غداری کا مقدمہ دائرکرنے کی دعوت اور اس میں چھپی ہوئی دھمکی پر ہم نے سوچا …؎
کہتے ہیں کچھ کبھی‘ تو کبھی کچھ‘ زبان سے
پھر‘ پھر گئے وہ آپ ہی اپنے بیان سے
معافی نامہ والے بیان سے ایک دن بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان نے ایک اور دھماکہ کر دیا۔ بیان جاری ہوا کہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ ہمارے نکتہ دان مہربان پروفیسر نصیر چودھری نے اس بیان کے بطن سے ایک عجیب نکتہ پیدا کیا۔ فرمانے لگے۔ اس بیان سے تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ’’را‘‘ پاکستانی فوج یا حکومت سے اندر کھاتے ملی ہوئی ہے اور ’’باہر کھاتے‘‘ سازش کے تحت ایم کیو ایم کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ ہم نے ہمدردانہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے عرض کیا کہ آپ کراچی میں یہ بات کہتے تو آپ کو لگ پتہ جاتا۔ پروفیسر صاحب نے معنی خیز سوالیہ انداز میں یہ شعر پڑھا اور ہمیں لاجواب کر دیا …؎
کون کرنا چاہتا ہے مک مکا
کون اس سازش کے پیچھے ہے چھپا
٭…٭…٭