پاکستان کے معروضی حالات اور چین کا کردار

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
پاکستان کے معروضی حالات اور چین کا کردار

گزشتہ بیس پچیس سالوں سے سازشوں کے تانے بانے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو چھیننے اور پاک افواج کو بھارت کی زیر کمان دے کر پاکستان کو ایک باج گزار ریاست بنانے کی کاوشیں بھارت اور اس کے دوست امریکہ اور اسرائیل کر رہے تھے اور پاکستان دشمن طاقتیں یہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ اب وہ وقت دور نہیں جب خواب حقیقت کا روپ دھار لیں گئے جیساکہ تیونس، مراکش، لیبیا، مصر، شام اور عراق وغیرہ میں کرایہ کے قاتلوں نے جو کارروائی کی اور جس طرح وہاں کی حکومتوں کو تباہ و برباد کیا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس پروگرام کی اصل منزل پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور بہادر افواج کو قابو کرنا ہے۔ اب پاکستان دشمن قوتیں اپنے پروگرام کے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہیں چنانچہ یمن کے اندر حوثیوں سے بغاوت کروائی گئی اور سعودی عرب کو اچانک یمن کی حکومت سے اتنی ہمدردی پیدا ہوئی کہ وہ نہ صرف یہ کہ باغیوں کیخلاف سرگرم ہوگئی بلکہ اس نے پاکستان سے بھی بقول خواجہ آصف (وزیر دفاع پاکستان) بَری، بحری اور ہوائی فوج کی مدد طلب کرلی جس کیلئے حکمرانوں کو بھاری معاوضہ سالانہ بنیاد پر ادا کرنے کی باتیں سنتے آئے ہیں جس میں سے ڈیڑھ سو ارب ڈالر یہ کہہ کر دیا گیا کہ یہ ہمارا تحفہ ہے۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف صاحب نے عل اعلان یہ کہہ دیا کہ ہم پاکستان کی تمام افواج کو سعودی عرب بھجوانے کیلئے تیار ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف صاحب نے اپنے دورہ دہلی کے دوران جو باتیں کیں اور جن کا اعادہ اسلام آباد میں ایک سیمینار میں بھی کیا وہ سب اسی سازش کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ نواز شریف صاحب نے دہلی میں اپنے ٹیلی ویژن انٹرویو کی آج تک تردید نہیں کی ان کا کہنا ہے کہ تقسیم کا عمل درست نہیں تھا ہم ایک ہی ملک کے باشندے ہیں۔ ایک ہی طرح سوچتے اور کھاتے پیتے ہیں وغیرہ۔ پاکستان میں مسلح افواج کو مجبوراً آپریشن ضرب عضب شروع کرنا پڑا ورنہ ہمارے نام نہاد سیاسی اور دینی رہنما باغیوں کے ساتھ مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ شروع کئے ہوئے تھے۔ باغیوں کے جو مطالبات تھے وہ بھی پریس میں چھپتے رہے ہیں ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ہم اپنی ریاست کے باغیوں سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں یہ بات سب جانتے ہیں کہ بھارت نے طالبان کے مختلف گروپوں کو پیسہ، اسلحہ اور دہشت گردی کی تربیت دی۔ ہمارے ملک میں لاپتہ افراد کے نام پر بہت شور مچایا گیا جبکہ وہ افراد پاکستانی اداروں کی قید میں نہیں تھے سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں اور دوسرے کئی مقامات پر جو لوگ فراری کیمپوں میں ٹریننگ حاصل کر رہے تھے وہ کون لوگ تھے یا ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے جو متفقہ فیصلہ کیا وہ پاکستانی عوام کے دلوں کی ترجمانی کرتا ہے آخر ایسا کیوں ہوا کہ حکمران جو چاہتے تھے وہ نہ کر پائے یہ بات کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، ہماری عزت، ہماری آبرو، تشخص و خود مختاری سے جڑی ہوئی ہیں۔ بھارت کا آزادی کے بعد جو روپ سامنے آیا۔ جو رویہ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ ہے انہیں دوسرے نہیں تیسرے درجے کا شہری بنا کر رکھ دیا ہے۔ آئے دن اخبارات میں اس حوالے سے خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جو زور زبردستی ہو رہی ہے اسرائیل کی مشاورت سے مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں ہندو بستیاں بسانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس پر کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔
ہمارے بعد آزاد ہونیوالا چین آج ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔ ڈیڑھ ارب سے زیادہ آبادی والے ملک میں حکومت نے وہ کر دکھایا جو بڑے بڑے طاقتور، دولت مند ملک بھی نہ کرسکے۔ آج ساری دنیا میں چین کی مصنوعات سے بازار بھرے پڑے ہیں چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لیکر بڑی سے بڑی مشینیں، ایئر کرافٹ وغیرہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس دکھائی دیتے ہیں۔ خطے میں چین ہماری طرح کا غافل ملک نہیں ہے۔ اسے معلوم ہے کہ پاکستان کیخلاف جو کارروائیاں کی جا رہی ہیں، سازشوں کے تانے بانے بنے جا رہے ہیں ان کا اصل نشانہ عوامی جمہوریہ چین اور اسکی خوشحالی ہے چنانچہ گزشتہ دس پندرہ سال کی منصوبہ بندی کے بعد چین بڑے بڑے منصوبوں کے ساتھ پاکستان کی امداد کیلئے آیا ہے سب سے زیادہ اطمینان کی بات یہ ہے کہ چینی صدر شی چن ینگ نے صاف لفظوں میں دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ مشکل وقت میں ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے، کسی بھی قیمت پر پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو آنچ نہیں آنے دینگے۔ اقتصادی راہ داری سے لیکر گوادر بندرگاہ اور ساحل مکران تک چین بہت بڑے پیمانے پر پاکستان کی ترقی اور تعمیر میں حصہ لینے کیلئے میدان میں آیا ہے یہ ٹھیک ہے کہ اس اقتصادی راہ داری اور گوادر بندرگاہ کی تکمیل سے خود عوامی جمہوریہ چین کے وہ علاقے جو پسماندہ رہ گئے ہیں وہ بھی خوشحالی اور ترقی کی منزلیں طے کرینگے۔ اب پاکستان دشمن ممالک اور پاکستان میں انکے ایجنٹ چاہیں بھی تو وہ نتیجہ حاصل نہیں کرسکتے جس پر انہوں نے بے تحاشہ پیسہ اور وقت ضائع کیا ہے چین کی اس بروقت مداخلت اور اقتصادی منصوبوں نے پاکستان کے اندر محب وطن حلقوں کا حوصلہ بڑھایا ہے انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اپنے عوام کو ایک ویلفیئر اسٹیٹ کی سہولتیں فراہم کرسکے گا ۔