نظام صلوٰۃ اسلام آباد تک محدود کیوں؟

کالم نگار  |  تنویر ظہور
نظام صلوٰۃ اسلام آباد تک محدود کیوں؟

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نظام صلوٰۃ قائم کر دیا ہے۔ جس کے تحت بیک وقت اذانیں ہوں گی اور ایک ہی وقت میںنمازوں کی ادائیگی ہو گی۔ اس کااعلان انہوں نے شاہ فیصل مسجد اسلام آباد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ نظام صلوٰۃ صرف اسلام آباد تک کیوں محدود رکھا گیا ہے۔ ہماری کیفیت یہ ہے کہ صلوٰۃ جسے قرآن نے وحدت اُمت کا محکم ذریعہ بتایا تھا، آج فرقوں کی تمیز و تفریق کی علامت بن گئی ہے۔ قرآن نے صلوٰۃ کو امت واحدہ کے لیے وجہـ جامعیت قرار دیا تھا۔ رسول کریمؐ کے زمانے میں بعض تفرقہ انگیزوں نے ایک مسجد تعمیر کی تو قرآن نے اس کی مخالفت کی۔ تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے کہ حضرت محمدؐﷺ نے صحابہ کرامؓ کو بھیج کر اس مسجد کو منہدم کرا دیا۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں فرقہ بندی کس قدر شدید اور سنگین جرم ہے۔ انہی ہدایات کی بناء پر نبی اکرمؐ نے امت واحدہ کی تشکیل فرمائی۔ یہ وہ اُمت تھی جس کا نظام ایک تھا۔ نصب العین ایک تھا۔ ضابطہ زندگی ایک تھا۔ مرکز ایک تھا۔ دین ایک تھا۔ راستہ ایک تھا۔ ان میں نہ کسی قسم کا اختلاف تھا نہ افتراق۔ آئے دن اس قسم کی خبریںاخبارت میں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلاں مقام پر فلاں فرقہ کے لوگوں نے فلاں فرقہ کے امام کو قتل کر دیا اور فلاں مقام پر فریق مخالف کے خطیب کو مار دیا گیا۔ اکتوبر 1958ء کا دستور اب منسوخ ہو چکا ہے۔ اس دستور میں مسلمانوں کے فرقوں کو آئینی حیثیت عطا کی گئی تھی۔ کافی عرصہ پہلے پنجاب میں ایک جماعت بنی جس کادعویٰ تھا کہ وہ خالص قرآن پر عمل کرے گی اور اس طرح مسلمانوں میںپیدا شدہ اختلافات کو مٹا دے گی۔ یہ مقصد بڑا نیک اور دعویٰ مبارک تھا۔ لیکن اس کا جو عملی نتیجہ ہمارے سامنے آیا وہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ اس سے سابقہ فرقوں کا مٹنا توکجا، ان میں ایک اور فرقے کا اضافہ ہو گیا۔
ہمارے پاس کتاب (قرآن مجید) اور سنت رسولؐ موجود ہے۔ ان کی موجودگی میں اختلافات کے رونما اور فرقوںکو پیدا ہونے کا امکان نہیں رہتا۔ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں نہ کوئی اختلاف پیدا ہوا نہ کسی فرقے نے جنم لیا۔ اس لیے کہ اس دور میں کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ کسی اختلافی معاملہ کے تصفیہ کے لیے افراد امت از خود فیصلہ کرنے بیٹھ گئے ہوں۔ اختلافی امور میں مرکزی اتھارٹی کی طرف رجوع کیا جاتا تھا اور اس کے فیصلوں کی اطاعت سب پر لازم تھی۔ کچھ عرصہ کے بعد یہ صورت قائم نہ رہی۔ خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی۔ سلاطین نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت سیاست کو مذہب سے الگ کر لیا۔ اس کی رو سے سیاست سے متعلق فیصلے بادشاہ خود کرتے تھے۔ آج حالت یہ ہے کہ امت میں بیسیوں فرقے موجود ہیں اور ہر فرقہ خدا اور رسولؐ کی اطاعت کا مدعی اور حقیقی اسلام پر کاربند ہونے کا دعوے دار ہے۔ چونکہ اختلافات مٹانے والی کوئی اتھارٹی موجود نہیں اس لیے کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا کہ کون غلط کہتا ہے اور کون صحیح؟
اس کا حل یہ ہے کہ جس نظام کے گم ہو جانے سے فرقہ بندی شروع ہوئی تھی، اس نظام کو پھر سے قائم کر دیا جائے۔ اس کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اس فکر کو عام کیا جائے کہ فرقوں کی موجودگی اور اسلامی زندگی دو متضاد چیزیں ہیں جو قرآن کی رو سے ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ جب تک ہم اس تلخ حقیقت کو گوارا نہیں کر لیتے کہ فرقہ بندی کی زندگی قطعاََ اسلامی زندگی نہیں، ہم قرآن کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر نہیں آ سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نظام صلوٰۃ پورے ملک میں نافذ کیا جائے۔
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی