معافی

کالم نگار  |  نواز خان میرانی
معافی

اس میں شک و شبہے کی گنجائش ہی نہیں کہ بھارت نے دل سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم برصغیر کے بعد بجائے اسکے کہ وہ نامساعد حالات کی وجہ سے اپنی معیشت اور اقتصادیات کو سنبھالا دیتا بھارت نے پاکستان کی حقیقت اور زمینی ردوبدل کو قبول کرنے کے دشمنی کی آگ میں لوٹتے ہوئے خطیر رقم سے (را) کی بنیاد رکھی، جسکے آئین و قانون کا بنیادی نکتہ اسلامی مملکت کو مسمار کرنا ہے (خاکم بدہن) را کی مکمل منصوبہ بندی اور طویل عزم کے سبب وہ پاکستان کو دولخت کرکے بنگلہ دیش بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی لنکا کو ڈھانے کیلئے سب سے پہلے گھر کے بھیدی کو منہ بولی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ مشرقی پاکستان میں را کو خام مال مکتی باہنی کی صورت میں وہاں کے مقامی مفاد پرست مل گئے، کسی ملک کی فوج کی کامیابی کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ محاذِ جنگ پر مصروف فوج کی پشت پر عوامی حمایت اور بعض اوقات رسد بھی شامل ہو۔مشرقی پاکستان جب بنگلہ دیش بنا، اور پاکستان نے اسے تسلیم کرنے میں ذرا تساہل سے کام نہیں لیا۔ اس وقت تقسیم سے قبل دونوں جانب سے یہ طے ہوا تھا کہ ماضی کو بھول کر اور غلطیوں کو فراموش کرکے مستقبل پہ نظر رکھی جائیگی۔ مگر عمران خان نے 2013ء میں حکومتِ وقت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ بنگلہ دیش سے معافی مانگی جائے، شاید ان کا نکتہ نظر یہ ہو گا کہ شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت سے انتخابات جیت لیا تھا لہٰذا عوامی لیگ کو حکومت بنانے کی دعوت نہ دیکر جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا اور یہی مطالبہ صحافی اور میزبان حامد میر نے 2013میں کیا تھا بلکہ انہوں نے تو یہ بھی کہا تھا کہ پاکستانی فوج کا ٹرائل کیا جائے۔ 1980ء میں حکومت کے پانچ اعلیٰ عہدیداروں نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تو تب بھی بنگلہ دیش کی طرف سے معافی کا یہ مطالبہ دہرایا گیا۔ 2002ء میں مشرف نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور معافی کے اس قدر قریب پہنچ گئے جس طرح بھارت کا دورہ کرکے آگرہ میں انہوں نے کہا تھا کہ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ گیا تھا مگر وہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے معاہدہ نہیں ہونے دیا مگر یکطرفہ طور پر اپنے منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشرف نے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے بارڈر پر آہنی دیوار بنا کر اپنے طور پر مسئلہ کشمیر حل کر دیا اور دیوار دیکر یہ ثابت کر دیا کہ کشمیر ایک نہیں بلکہ دو ہیں، اس احمقانہ عمل پر مشرف کو قوم سے بھی معافی مانگنی چاہئے۔ بنگلہ دیش میں شہدا کے مزار پر حاضری دیکر انہوں نے جو اپنے خیالات کی تحریر ثبت کی اس میں واضح طور پر معافی مانگی گئی تھی مگر وہ معافی مسترد کر دی گئی اور پھر مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری طور پر معافی مانگی جائے بلکہ 2010ء میں حنا ربانی کھر نے ماضی پہ پچھتاوے کا اظہار کرکے حسینہ واجد کو دورہ پاکستان کی دعوت دی مگر انہوں نے محض پچھتاوے کے اظہار کو ناکافی سمجھا۔اصل میں مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی شیخ عبداللہ فیملی کے بعد حسینہ واجد دوسری کٹھ پتلی شیخ فیملی ہیں جو بھارت کی ہدایات و احکامات پہ صدق دل سے عمل پیرا ہیں اس لئے اس نے جماعت اسلامی نے محب وطن اور صحیح مسلمان لیڈروں پہ 1970ء والے خود ساختہ الزامات لگا کر پھانسی چڑھا دیا۔ جماعت اسلامی کی بے حسی قطعی طور پر قابل ستائش نہیں، مگر حکومت کو بھی بنگلہ دیش کے سفیر کو طلب کرکے سخت سرزنش کے علاوہ عالمی عدالت، اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور اپنے وفود کو دنیا میں بھیج کر واضح پیغام دینا چاہئے تھا کہ ہم ایک خوددار اور باغیرت ملک کے باسی ہیں بنگلہ دیش کی حکومت کی یہ حکومت اور اسکی مخصوص لابی پاکستان کی سخت دشمن جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی واضح اکثریت ایک دوسرے کیلئے خیر سگالی، اخوت و محبت کے لازوال جذبات رکھتی ہے۔ ہمیں اس بات کا صحیح دکھ ہے کہ ہماری وزارت خارجہ بالکل غیر فعال اور غیر متحرک ہے بلکہ مجرمانہ حد تک بھارت کے مقابلے میں بے عملی کا شکار ہے۔حالیہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا دورہ بنگلہ دیش اور 1971ء کی نوے ہزار پاکستانیوں کی شکست سے بھی کہیں زیادہ شرمناک شکست درجن بھر کھلاڑیوں کی شکست ہے، جو نواب شہریار کے شوق نوابی کا آئینہ دار ہے جس کیلئے نواب کو قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ بنگلہ دیش اگر ہماری حکومت سے معافی منگوانا چاہتا ہے تو وہ الطاف بھائی کے دیے ہوئے فارمولے پہ صدق دل سے عمل کرے اور اول فول کہنے کے بعد اور دوسرے دن دل کی بھڑاس نکال کر اپنے الفاظ واپس لے لے۔ یہ ایک ایسی ترکیب ہے کہ جس کا کوئی توڑ نہیں۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ جو ہر حکومت اور اکابرین پہ منطبق ہوتا ہے…؎