سیاسی لاابالیت

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
سیاسی لاابالیت

خواجہ سعد رفیق کے حلقے، این اے 125 میں الیکشن ٹربیونل نے دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا۔ تحریک انصاف اسے اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اسے اپنی ناکامی تسلیم نہیں کیا۔ تحریک انصاف نے اس فیصلے پر جشن منایا، لیگیوں نے بھی منہ نہیں چھپایا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اوربھنگڑے ڈالے۔ دھرنے کے دنوں میں اسکے کارکنوں نے بھنگڑوں اوردھمال میں کافی مہارت حاصل کی جس کا مظاہرہ موقع بموقع ہوتا رہتا ہے۔ مخالفین نے دھرنے میں دھمال اور بھنگڑے کو مجرا کہہ کر عمرانیوں کے دل دکھائے اور جواب میں ’’عمرانیات‘‘ سننے کو ملتی رہیں۔ تحریک انصاف نے تو جشن منانا ہی تھا سو منایا اور خوب منایا۔یہ کوئی مشرف دور تو نہیں کہ لیگی کارکن پی ٹی آئی کے جشن کو خاموشی سے ہضم کرجاتی۔ان کو تائوآیااور نعرے لگاتے بلکہ سیاپا کرتے ہوئے والٹن روڈ‘ بھٹہ چوک غازی روڈاور ایئرپورٹ روڈ کو بند کر دیا۔ پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو کارکنوں کے ہاتھ تھے اوراہلکاروں کے گریبان‘ ایک دوسرے پر پتھرائو کیا۔ تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے تو پولیس نے لاٹھیاں اٹھا لیں۔
 یہ مظاہرہ اگر فیصلے کیخلاف ہوا تویہ مسلم لیگ (ن) کے عدالتوں کے بے پایاں احترام کا عملی اظہار ہے کہ اس نے مشتعل کارکنوں سے ٹربیونل کو سجاد علی شاہ کی سپریم کوٹ بننے سے بچا لیا۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا،ابھی مزید حلقے کھلنے ہیں۔ کُھلنا ٹیسٹ میں ہمارے کھلاڑیوں کے جوہر تو نہ کھل سکے‘ البتہ پاکستان میں انتخابی حلقے کھل رہے ہیں۔ (ن) لیگ کوشش کرے کہ پولیس اور کارکنوں کے ایک دوسرے کے ہاتھوں’’ کُھنّے ‘‘نہ کھلیں۔ ویسے تو عمران خان کے بقول پنجاب پولیس والے بھی مسلم لیگ (ن) کے کارکن ہیں۔یوں ہاتھا پائی اس پارٹی کا اندرونی معاملہ قرار پاتا ہے۔
کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف سے جیتی تو کہا گیا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کا نائن زیرو ثابت ہوا۔ان کا اشارہ مال روڈ کے نائن زیرو کی طرف نہیں کراچی میں متحدہ کے گڑھ کی طرف تھا۔ مال روڈ کے نائن زیرو کی طرف ہوتا تو غلط نہ ہوتا کیونکہ یہ مسلم لیگ ن کی طاقت کا منبع ہے۔اب کارکنوں کے عدالتی فیصلے پر اشتعال حلقہ125میں ن لیگ کی طرف سے مخالفین کیلئے مزیدعدم برداشت کا پیغام ہوسکتا ہے۔یٰسین وٹو نے 2013ء کے الیکشن میں اس حلقے کا وزٹ کیا۔ وہ حلفیہ کہتے ہیں کہ خان کالونی کا پولنگ سٹیشن ایک پارٹی کے حامیوںکی دستبُرد میں تھا جو مخالفین کیلئے نوگو ایریا بنا رہا۔ بہرحال الیکشن ٹربیونل کے خصوصی جج جاوید رشید محبوبی کے فیصلے کے مطابق حلقہ 125میں پولنگ کے دوران تو دھاندلی ثابت نہ ہو سکی، گنتی کے دوران یا بعد میں بے ضابطگیاں خواجہ صاحب اور میاں نصیر کے گلے پڑ گئیں۔جاوید رشید محبوبی نے جھنگ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 89 سے مسلم لیگ کے رکن اسمبلی اکرم شیخ کو نااہل قرار دیتے ہوئے مولانا احمد لدھیانوی کامیاب قراردیا تھا۔خواجہ سعد رفیق سے ایک صحافی نے پوچھا کہ ’’حامد خان کے وکیل کہتے ہیں آپ نے ریٹرننگ افسر کو 2 کروڑ روپے دیئے جس کی اس نے کوٹھی خرید لی۔‘‘ خواجہ صاحب نے اسے ہلکے پھلکے انداز میں لیا۔ عمران خان کہتے ہیں مطالبہ کریں گے ؛۔ضمنی الیکشن کرائیں یا نہ کرائیں آر او سے پوچھیں دھاندلی کس نے کرائی۔
مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے قائدین کے وژن اور فہم و فراست کی داد دینا پڑتی ہے کہ فیصلے کے بعد ہر دو کی صفوں میں کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔ فیصلہ حمایت میں یا مخالفت میں آنے کی صورت میں کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا گیا تھا۔ تحریک انصاف نے چار گھنٹے بعد پریس کانفرنس کی اور ن لیگ ابھی تک عدالت جانے یا نہ جانے کا فیصلہ نہیں کر سکی۔ حلقے میں گرفت کی دونوں پارٹیاں دعویدار ہیں جبکہ انکی پلاننگ گردش میں ہے۔
رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کو اس حلقے میں کراچی کے حلقہ 246 کی طرح شرمناک شکست دینگے۔ حلقہ 246 میں متحدہ کو 95 ہزار ووٹ ملے جہاں کل ووٹ ساڑھے تین لاکھ ہیں۔ 95 ہزار نے رانا ثناء اللہ خان کے ’’ پیاروں‘‘ کو ووٹ دیئے تو اڑھائی لاکھ نے ان پر اعتماد نہیں کیا۔ رانا صاحب اپنے بیان سے اپنی مونچھ او نچی رکھنا چاہتے ہیں جو دراصل جھکی ہوئی ہے۔ اس میں دوسرا فریب یہ بھی ہے کہ یہ اصل میں سفید ہے جسے وہ باقاعدگی سے اپنے اعمال کی مناسبت سے رنگ کرتے ہیں۔اعمال عمران نے شمار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2015ء میں رانا ثناء اللہ جیل میں ہونگے۔مسلم لیگ بھی عمران کے ایسے بے شمار اعمال گنواتی ہے۔ کراچی نائن زیرو اور لاہور کے ڈیفنس میں بہت فرق ہے تاہم جیت کیلئے (ن) لیگ کو اپنے وزیروں کے لائو لشکر کے ساتھ اتنا ہی زور لگاناپڑیگا جتنا متحدہ نے حلقہ 246 میں لگایا ۔ متحدہ کی کامیابی پر الیکشن سے قبل کسی کی کو شبہ نہیں تھا۔ ڈیفنس میں الیکشن سے قبل کوئی بھی تجزیہ نگار کسی کی جیت کی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتا۔ حلقہ 125 کے لوگوں کی تو سمجھ لیں لاٹری نکل آئی ہے۔ دو سال میں خواجہ سعد رفیق نے اس حلقے میں کافی کام کرائے ہیں۔ اب حلقے کے مکینوں کا ہر مسئلہ آنکھ جھپکتے حل ہوگا اور انپڑھوںپر بھی روزگار کے دروازے سم سم کر کے کھل جائیں گے۔
خواجہ سعد رفیق کی عمومی شہرت اصول پسند سیاستدان کی ہے۔ انکے والد خواجہ محمدرفیق بلاشبہ نڈر‘ دلیر اور بہادر سیاستدان تھے۔ خواجہ سعد رفیق ٹربیونل کے فیصلے کے فوری بعد ریلوے کی وزارت سے استعفیٰ دیدیتے تو انکی عزت میں مزید اضافہ ہوتا۔
ماہر ’’عمرانیات‘‘ جناب پرویز رشید دور کی کوڑی لائے اور سب سے زیادہ ’’پتے کی بات‘‘ کی ۔’’پچاس سے زیادہ ریٹرننگ افسران کو تو حامد خان کی فرمائش پر تبدیل کیا گیا تھا۔ ممکن ہے جب انہوں نے دیکھا ہو پی ٹی آئی الیکشن ہار رہی ہے ، انہوں نے اس طرح کی بے قاعدگیاں خود کرائی ہوں تاکہ بعد میں کیس بنایا جا سکے اور اپنے حق میں فیصلہ لے سکیں‘‘۔ پرویز رشیدایسے Legend کو تو جج لگا دینا چاہئے۔ وہ وزیرقانون بن سکتے ہیں تو جج کیوں نہیں۔ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورحکومت میں جج سازی بھی کی گئی۔جذباتی جیالوں کو بھی جج بنادیا گیا۔ احمد سعید اعوان اسکی روشن مثال تھے۔ جہانگیربدر کو چیف جسٹس بنانے کی راہ نکالی جارہی تھی کہ نجانے کیا رکاوٹ پڑی کہ قوم براہِ راست جیالے کے چیف جسٹس بننے سے محروم رہی۔ پرویز رشید ٹربیونل کے جج بنتے ہیں توان جیسا کون ہوگا جو ایسی باریکیوں میں جائیگا جس کی انہوں نے نشاندہی کی ہے۔