خواجہ سعد رفیق … یادش بخیر

کالم نگار  |  محمد سلیمان کھوکھر
خواجہ سعد رفیق … یادش بخیر

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پنجاب کی گورنری کا تاج ملک غلام مصطفے کھر کے سر پہ سجا ہوا تھا بڑے طمطراق اور دشمن دار گورنر تھے ایک بار مقبولیت کا تو یہ عالم بھی ہوا کہ خود انہیں مقرر کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو بھی کچھ خوف کا شکار ہو گئے مصطفے کھر دوستی اور دشمنی دونوں پر مضبوط ایمان رکھتے تھے لاہور میں انہوں نے اپنے صوبائی وزیر افتخار تاری اور ایک کارکن نما رہنما طارق وحید بٹ کو اپنا دوست بنا یا ہوا تھا حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں میں کوئی دم خم نہیں تھا صرف ایئر مارشل (ر) اصغر خاں اور ان کی جماعت تحریک استقلال متحرک و سرگرم رہا کرتی تھی جلسہ ہائے عام منعقد کرنا کارنر میٹنگ ترتیب دینا اور احتجاجی جلوس نکالنایہ سب کام تحریک استقلال کے جانثار کارکن اور جرأت مند قیادت کرتی تھی لاہور کی دیگر سرگرم جماعتوں میں نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم کی سیاسی جماعت پاکستان جمہوری پارٹی بھی شامل تھی مگر دو رہنمائوں کی حد تک یعنی خواجہ رفیق اور رانا نذیر الرحمن۔ یہ 1970ء کی دہائی کا آغاز تھا کہ تحریک استقلال نے لاہور مال روڈ پر ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف ایک احتجاجی جلوس ترتیب دیا جو مال روڈ سے مارچ کرتا ہوا پنجاب اسمبلی ہال تک جانا چاہتا تھا اس جلوس کی قیادت خود تحریک استقلال کے سربراہ اصغر خان نے کی لاہور تحریک استقلال کے صدر ملک حامد سرفراز، ظفر گوندل ایڈووکیٹ استقلال پارٹی کے موجودہ صدر منظور گیلانی گوجرانوالہ سے سید اشفاق علی شاہ اور میرے علاوہ ہزاروں کارکن اور رہنما شامل جلوس تھے جب ہم پنجاب اسمبلی کے قریب پہنچے تو ملک حامد سرفراز مرحوم اور تحریک استقلال کے دیگر رہنمائوں نے بھی جلوس کے اختتام پر خطاب کیا۔ اگرچہ خواجہ رفیق کا تعلق تحریک استقلال سے نہیں تھا مگر…ع
فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنون میرا
خواجہ صاحب نے اپنی پرجوش تقریر سے حاضرین کو گرما دیا۔ آخر میں ائیر مارشل (ر) اصغر خان نے خطاب کیا اور لوگ دیوانہ وار ذوالفقار علی بھٹو اور مصطفے کھر کیخلاف نعرے لگاتے رقص کناں ہو گئے جلوس کی کامیابی پر سب نازاں تھے اور شاداں و فرحاں اپنے اپنے گھروں اور کچھ مال روڈ کے تاریخی قہوہ خانوں کی جانب رواں دواں تھے کہ اچانک ٹھاہ ٹھاہ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ لوگ بھاگ دبک گئے کچھ واپس مڑے اصغر خاں گاڑی میں بیٹھ کر جا چکے تھے پولیس خاموش اور تماشائی راہگیر سہمے ہوئے سیاسی کارکن پریشان اور کچھ خوفزدہ، قریبی دکانداروں نے دروازے اور گیٹ بند کر لئے۔ ایک طرف سے آواز آئی کہ وہ دیکھو وہ لوگ خواجہ صاحب کو قتل کر کے بھاگ رہے ہیں۔ کوئی چار پانچ آدمی ہوں گے۔ قدرے صحت مند جوخواجہ رفیق کو ’’خواجہ رفیق شہید‘‘ بنا کر فرار ہو گئے اور آج تک گرفتار نہیں ہو سکے۔اس واقعہ کے بعد ملک کے طول و عرض میں احتجاج ہوا مگر بے سود، خواجہ رفیق کی بیگم کیلئے یہ واقعہ بڑا جان سوز اور امتحان طلب تھا۔ گھر میں پیغمبری وقت چل رہا تھا شوہر شہید ہو گیا سعد اور سلمان چھوٹے تھے۔ ماں کی انگلی پکڑ کر چلنے والی ساتھ تھی۔ مشکل وقت میں کوئی ’’جمہوری پارٹی‘‘ کام نہ آئی اور نہ ہی کوئی نوابزادہ تحریک استقلال کی مقامی و قومی قیادت نے پرسا ضرور دیا مگر سبھی اخلاقی لحاظ سے خود نیم متوسط یا متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ ان حالات میں چودھری ظہور الہی مرحوم نے اپنا دست شفقت دراز کیا اور بیگم صاحبہ کا معہ سعد و سلمان کا ماہانہ معقول وظیفہ مقرر کر دیا۔ تاہم چودھری صاحب کو ہمیشہ گلہ رہا کہ ماہانہ وظیفہ وصول کرنے اور دیگر ضروریات پورا ہونے کے باوجود بیگم صاحبہ سعد و سلمان کو ساتھ لے کر دیگر رہنمائوں کا دروازہ کیوں کھٹکھٹاتی ہیں۔ اللہ جنت نصیب کرے چودھری ظہور الہی کو نہ جانے کتنے غریب سیاسی کارکنوں کی اندرون خانہ مدد کرتے رہے کچھ نام میں جانتا ہوں۔ مگر بتانا نہیں چاہتا۔ ضیاء الحق کے دور میں جب مسلم لیگ نشاۃ ثانیہ ہوئی اور نواز شریف ‘‘کلہ مضبوط‘‘ ہوا تو پھر مسلم لیگ نے جنرل جیلانی اور دیگر جرنیلوں کے اشارے پر نواز شریف کو پہلے وزیر خزانہ پنجاب پھر صدر مسلم لیگ پھر وزیر اعلیٰ پنجاب اور پھر وزیر اعظم پاکستان بنا دیا اور آخر میں مسلم لیگ کا نام ن لیگ پڑ گیا جس میں خواجہ رفیق شہید کا بیٹا جو ماں کی انگلی پکڑ چلتا تھا اب نواز شریف کی انگلی پکڑ کر چلنے لگا۔ قومی اسمبلی کا ممبر اور وزیر ریلوے بنا۔ لگ بھگ 42 سال بعد پھر ایک بار ٹھاہ ٹھاہ ہوئی لوگ باگ حیران رہ گئے۔ اب کی بار کرفیو کا نہیں میلے کا سماں تھا۔ جب 4 مئی 2015ء کو الیکشن ٹربیونل نے فیصلہ سنایا کہ ’’سعد رفیق ولد خواجہ رفیق کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کی جاتی ہے اور حلقہ میں دوبارہ الیکشن کا حکم دیا جاتا ہے‘‘۔ خواجہ سعد رفیق نے ردعمل میں کہا کہ ’’عدالت جائوں گا کیونکہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں‘‘۔ خواجہ صاحب شائد بھول گئے کہ سیاسی میدانوں میں ہونیوالے عوامی فیصلے کسی عدالت کی توثیق کے محتاج نہیں ہوتے۔ ویسے بھی اب انہیں عدالتوں میں وہ والا چیف جسٹس افتخار چودھری نہیں ملے گا جسکے ہونہار برخوردار کے چرچے گلی گلی اور کوچے کوچے ہیں۔ اب یہ فیصلے سیاست کے میدانوں میں ہونگے۔ اگر خواجہ سعد رفیق انتخابات میں گئے تو پوری ریاستی مشینری، اس کی طاقت اور دولت خواجہ سعد کی پشت پر ہو گی۔ مگر یاد رہے کہ 2013ء کی طرز کے ملائی انتخابات اب نہیں ہونگے۔ جان لڑانا پڑیگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ انتخابات کراچی کی طرز پر رینجرز کی زیر نگرانی ہوں جسکی یقینی توقع ہے۔ اگر واقعی ’’کراچی ماڈل‘‘ انتخابات ہوئے توپھر۔ ترا کیا ہو گا خواجہ؟