ہجر میں مرے پاس اور تو کیا رکھا ہے

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان
ہجر میں مرے پاس اور تو کیا رکھا ہے

کہا تو خیر طنز سے ہی ہے‘ لیکن کہا توصحیح ہی ہے کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف کو وزیرخارجہ بنا دیا جائے۔ یہ بات ایک دل جلے وزیراعلیٰ (سابق) میاں منظور وٹو نے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا زیادہ وقت صوبے کو چلانے کے بجائے غیرملکی دوروں کے سیرسپاٹوں میں صرف ہوتا ہے جبکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو اپنے بچوں‘ عزیزوں کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہیں اس لئے صوبہ کو ایک فل ٹائم وزیراعلیٰ کی ضرورت ہے۔ میاں منظور وٹو نے بات درست اور سچ کہی ہے۔ اس سے پہلے بھی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی شدید اعتراض کر چکی ہے کہ وزیراعظم کے ساتھ ہر دورے میں شہبازشریف بطور وزیراعلیٰ ہی جاتے ہیں جبکہ ڈاکٹر عبدالمالک‘ پرویز خٹک اور قائم علی شاہ تو کبھی چیچوکی ملیاں یا بھائی پھیرو کے دوروں میں بھی نہیں بلائے جاتے۔ اب یا تو وزیراعظم خاتونِ اول کی جگہ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لے جائیں تو اعتراض کی شدت ‘ کیفیت‘ کمیت اور ہیئت میں کمی آسکتی ہے وگرنہ تمام وزرائے اعلیٰ کو بھی ساتھ لے جایا کریں کیونکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو جب بھی حکومت پر قبضہ کا موقع ملا ہے‘ وہ پورا طیارہ بھر کر غیرملکی دوروں پر نکل جاتے ہیں جن میں پچاس فیصد عزیزواقارب اور پچاس فیصد من پسند افراد ہوتے ہیں۔ شاہانہ ٹھاٹ باٹ کے ساتھ ڈیڑھ سو افراد کی بارات دوسرے ملک میں قرض یا امداد لینے کیلئے جاتی ہے۔
 دنیا کے کسی ملک کے سربراہ کو غیرملکی دوروں کا چسکا نہیں ہوتا۔ پڑوسی ملک کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنی طویل وزارت عظمیٰ میں شاید چار یا پانچ دورے کئے ہیں‘ لیکن ہمارے حکمران تو ایک مہینے میں پانچ چھ دورے کر آتے ہیں۔ ایک ارب کا قرض لاتے ہیں تو سو ارب کا خرچہ کر آتے ہیں۔ ویسے بھی اب چائنہ‘ انگلینڈ اور ترکی کے لوگ شہبازشریف کو دیکھ دیکھ کر بور ہوگئے ہوں گے۔
اسکے علاوہ میاں شہبازشریف اب تک درجنوں منصوبے پیش کر چکے ہیں جن میں سے حالیہ منصوبہ ’’نالج پارک‘‘ ہے جس طرح ان منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اُس سے امید ہے کہ ’’نالج پارک‘‘ میں سے ’’نالج‘‘ حذف ہو کر صرف ’’پارک‘‘ رہ جائے گا… کیونکہ اس منصوبے کی تشکیل و تعمیر میں وہ عناصر ملوث ہونگے جن کے پاس علم تو نہیں ہوگا مگر اثرورسوخ بہت ہوگا۔ انہی کے عزیز اور پیارے اس منصوبے سے کروڑوں روپے کھائیں گے اور سارے عہدے بٹور کر لے جائینگے۔ اگر میاں شہبازشریف واقعی سنجیدہ‘ مخلص اور دیانتدار ہیں تو پھر خدا کو حاضر و ناظر جان کر میرٹ پر فیصلہ کریں وگرنہ سیاسی بساط اُلٹنے کی تیاری تو آخری مراحل میں آ چکی ہے اور کسی بھی وقت میں حکومتی فلم کی کاسٹ بدلنے والی ہے۔ اس سے پہلے کہ پھر آپ خط لکھیں اور فون کریں کہ واقعی ہماری آنکھوں پر پردہ پڑ گیا تھا۔ ہم نے مخلص لوگوں کی قدر نہیں کی۔ ہم نے محسنوں کو نہیں پہچانا‘ پس حذر‘ حذر‘ حذر…!!!
آج کل عمران خان ایک میڈیا گروپ پر گرج برس رہے ہیں۔ اُن کا غصہ بجا ہے کیونکہ اس میڈیا گروپ کی وجہ سے عمران خان ’’وزیراعظم‘‘ بنتے بنتے رہ گئے۔ سبق آموز بات یہ ہے کہ عمران خان سمجھدار اور جہاندیدہ ہونے کے باوجود اس میڈیاگروپ کے ہاتھوں بیوقوف بن گئے حالانکہ عمران خان نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے۔ عمران خان کے کسی نام نہاد دوست اس میڈیا گروپ سے تعلق رکھتے تھے خاص طورپر حامد میر… لیکن عمران خان کی آنکھوں میں جس طرح دھول جھونکی گئی اور میٹھی میٹھی باتیں کرکے جس طرح عمران خان کو منظر سے ہٹایا گیا‘ اس کا احساس عمران خان کو خاصی تاخیر سے ہوا ہے۔ علاوہ ازیں وہ جس چیف جسٹس کی حمایت میں بہت آگے نکل گئے تھے اور اعتزاز احسن نے بڑی ہوشیاری سے ہمسائیگی کا فائدہ اٹھا کر عمران خان کو غیر محسوس طریقے سے چیف جسٹس کی تائید پر لگایا تھا‘ آج اس کی حقیقتیں بھی سامنے آگئی ہیں۔ یہ بات گزشتہ سال میں نے تحریک انصاف کے فاروق احمد میر سے بھی کہی تھی اور ایڈووکیٹ حامد خان کو بھی پریس انسٹیٹیوٹ کے سیمینار میں کہی تھی کہ آپ کو چیف جسٹس کے حوالے سے جب حقائق معلوم ہونگے تو آپ سب سے بڑے مخالف ہونگے مگر سروں سے پانی گزر چکا ہوگا۔ حامد خان نے پہلی بار ایسی بات سنی اور حیرت سے مجھے دیکھنے لگے۔ اس موقع پر میری بات سن کر ایڈیٹر نیوز دلاور چودھری نے بھی میری پُرزور تائید کی… نقاب سرک رہا ہے اور ریاض ملک بھی سرخرو نظرآرہے ہیں۔ موجودہ چیف جسٹس تصدق گیلانی نے کہا ہے کہ اگر دھاندلی ثابت ہوئی تو نوٹس لیں گے… اب عمران خان نے گیارہ مئی کو احتجاج کی کال دی ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری‘ شیخ رشید اور جماعت اسلامی بھی اس مہم میں شامل ہے۔ عمران خان غضبناک ہو چکے ہیں۔ کافی معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس مہم میں (ق) لیگ اور ایم کیو ایم بھی کُود پڑے۔ حکومت کی طرف سے بار بار اس طرح کے بیانات آرہے ہیں کہ (ن) لیگ کے فوج سے اچھے تعلقات ہیں۔ بار بار وضاحت اور یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ حکومت اور فوج ایک صفحہ پر ہیں‘ لیکن ایک صفحہ پر ہونے سے کیا ہوتا ہے۔ کاتب ِ تقدیر ایک ہی پیٹ میں پیدا ہونے والے جڑواں بھائیوں کی الگ الگ قسمت لکھ دیتا ہے۔ لہٰذا ایک صفحہ پر ہونا اہمیت نہیں رکھتا… اصل بات نیت کی ہے۔ آرمی چیف کی باڈی لینگویج کچھ اور سگنل دے رہی ہوتی ہے جبکہ وزیراعظم کی مسکراہٹ کے نیچے سے کرب اور بے بسی جھانک رہی ہوتی ہے۔ تھری پیس سوٹ اور ریڈ ٹائی سے اعتماد نہیں بڑھ سکتا‘ نہ گلنار چہرہ خوشی کا ضامن ہوتا… یہ خوش خوراکی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ کہنا فقط یہ ہے کہ جب بہت زیادہ تائید یا محبت اور خیرسگالی کے بیانات آنے لگیں تو سمجھ جائیے کہ معاملہ گڑبڑ ہے (ن) لیگ کی پرانی بیماری ’’خوشامد‘‘ ہے۔ وہ خوشامد اور خوشامدیوں سے رام رہتی ہے۔ ویسے بھی وہ ’’ہیوی مینڈیٹ‘‘ سے برسراقتدار آتی ہے اور شاہی مزاج کی حامل ہے۔ تنقید کرنے والوں کو معیوب اور معتوب سمجھتی ہے۔ خوشامد کے سب سے بڑے پرستار پرویزرشید اس طرح کے بیانات دیکر نمک حلالی کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ جی بیجنگ اور لندن والوں کو پاکستان میں ترقی اور بہتری نظرآرہی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو بھی دکھائی دینی چاہئے۔ اگر کسی نے ازراہِ تکلف ایسا کہہ دیا یا اپنی ناقص معلومات یا پھر میزبانی کے تقاضوں کے تحت رسماً ایسا کچھ کہہ دیا تو اس کے بڑھا چڑھا کر حوالے دینا وزیراطلاعات کی نوکری ہے جس کیلئے دنیا کا کوئی بھی جھوٹ بول سکتے ہیں۔ آج کل (ن) لیگ کے تمام وفاقی و صوبائی وزراء کا اہم ٹاسک عمران خان پر فقرے کسنا ہے۔ چودھری نثار اپنی کمزوری کی وجہ سے ویسے ہی بوکھلاہٹ اور ہکلاہٹ کا شکار ہیں۔ پرویز رشید بھی اکثر بغیر سوچے سمجھے بیانات داغ جاتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو فوراً اُن کی گوشمالی شروع ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ (ن) لیگ کا کیا یہی ایجنڈا ہے؟؟؟ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے… کیا (ن) لیگ حکومت کو وہ دکھائی دے رہا ہے؟؟؟ ہو سکے تو میاں برادران خود اپنے دماغ سے سوچیں کہ اُن کا اپنا مستقبل کیا ہوگا؟؟؟