کسی کے لیے کھودا گڑھا اپنے سامنے آ گیا

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ
کسی کے لیے کھودا گڑھا اپنے سامنے آ گیا

تین چیزیں زندگی میں پڑھی، سُنی اور ان کا مشاہدہ کیا ہے۔ مکافاتِ عمل، تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور کسی کیلئے گڑھا کھود تو گڑھا کھودنے والا خود اس میں گر جاتا ہے۔ آج یہ تینوں مثالیں ہمارے سامنے مجسم بن کے کھڑی ہیں۔جیو اور جنگ گروپ آج فوج اور آئی ایس آئی کو مقدس گائے قرار دے کر اس کا مذاق اڑا رہا ہے اور خود سفید ہاتھی کے روپ میں سامنے آیا ہے۔ جو اب فوج کو نگلنے پر آمادہ تھا کہ مکافاتِ عمل کا شکار ہو گیا۔ آئی ایس آئی کے پروردہ خود کو اتنا طاقتور سمجھنے لگے کہ خود اسکے مقابلے پر آ گئے۔ مشرف پر غصہ یہ تھا کہ اس نے ایک مرتبہ اس گروپ کا چینل بند کر دیا تھا۔ یہ بھول گئے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اسی گروپ کا عرصہ حیات اتنا تنگ کیا کہ اس کی اشاعت ایک صفحہ پر آ گئی تھی۔ یہ لوگ اب نواز شریف کے ساتھ مل کے مشرف کو پھانسی کے پھندے پر لے جانے کے لیے سرگرم ہیں۔ مشرف کے خلاف اس گروپ میں سب سے آگے حامد میر تھے۔ ان پر حملے میں طالبان ملوث ہو سکتے ہیں۔ جنہوں نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور وجہ بھی بتائی ہے کہ انہوں نے طالبان کی دشمن ملالہ یوسفزئی کو اپنے پروگراموں میں بلا کر ہیروئن بنا دیا۔ حامد میر پر حملے کے محرکات میں ان کا مشرف کی مخالفت میں اخلاقی حدوں کو بھی کراس کر جانا ہو سکتا ہے۔ وہ جس طرح کا مشرف کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرتے رہے اور مشرف کے مخالفین کو اکساتے رہے اب وہ خود ایسے الزاما ت یا شکوک کی زد میں ہیں۔
جنرل مشرف کی بیماری کو ڈرامہ بازی قرار دیا جاتا رہا کہا گیا کہ وہ فوجی ہسپتال میں چھپے ہوئے۔ آج حامد میر پر حملے کو ڈرامہ بازی ثابت کرنے والوں کی کمی نہیں ایک گولی سے زخمی ہونے والا کئی ماہ بستر علالت سے نہیں اٹھتا ان کو 6 گولیاں لگیں اور وہ چوتھے روز کالم لکھنے بیٹھ گئے اور چہل قدمی بھی شروع کر دی۔ خود کو نیلسن منڈیلا ثابت کرنے والا آج خود چھپا ہوا ہے۔ مشرف چک شہزاد سے نکلے تو دل کی تکلیف پر اے ایف آئی سی چلے گئے۔ ناقدین جس میں موصوف سرفہرست ہیں کہنے لگے کہ قریبی ہسپتال کیوں نہیں گئے۔ یہی سوال ان کے بارے میں اٹھایا جاتا ہے کہ ائر پورٹ کے قریب گولیاں لگیں لیکن قریبی ہسپتال کی بجائے 15 کلومیٹر دور آغا خان ہسپتال کیوں گئے۔ مشرف نے عدالتوں کو متعصب قرار دے کر پیش ہونے سے گریز کیا تو موصوف نے بھی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم پر اعتراض کیا کہ اس میں آئی ایس آئی کا اہلکار شامل ہے اور اپنا بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا۔ اب جبکہ نئے بیان میں حملہ آوروں کو نامعلوم قرار دیا ہے تو ایک شہری کی درخواست پر میر شکیل اور حامد میر پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کی عدالت نے ہدایت کی ہے۔
ایڈیشنل اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے فوج اور آئی ایس آئی کیخلاف الزامات پر جنگ اور جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن اور صحافی حامد میر کے بھائی عامر میر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ مذکورہ معاملے پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ کے اندراج کیلئے درخواست گلزار ارشد بھٹی نے ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں دائر کی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد جہانگیر اعوان نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار ارشد بھٹی کا کہنا تھا صحافی حامد میر پر حملے کے بعد جیو پر قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف گمراہ کن پروگرام نشر کیے گئے۔ ان پروگراموں کے ذریعے پاک فوج، آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لہٰذا جیو کے مالک میر شکیل الرحمن اور حامد میر کے بھائی عامر میر کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے سخت کارروائی کی جائے۔ جیو گروپ کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ کیس پیمرا میں چل رہا ہے عدالت درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دے۔ سیشن جج جہانگیر اعوان نے دلائل سننے کے بعد میر شکیل الرحمن اور عامر میر کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔ سیشن جج نے کہا پیمرا میں کیس زیر سماعت ہونے کی وجہ سے فوجداری کارروائی نہیں روکی جا سکتی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کسی عدالت کو کارروائی کرنے سے نہیں روکا لہٰذا پولیس متعلقہ افراد کیخلاف مقدمہ درج کرے۔48 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ایس ایچ اوعدالتی احکامات کو اس طرح پامال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے اوپر سے مقدمہ درج نہ کرنے کا حکم ملا ہے۔ اس کا مطلب ہے حکومت کھل کر فوج کے مقابلے میں ایک چینل کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے۔ حامد میر کے اب تک تین بیانات سامنے آ چکے ہیں ۔ ایک بیان ان کی طرف سے ہوش میں آنے کے بعد سامنے آیا ، دوسرا پولیس اور تیسرا جوڈیشل کمشن کو دیا ۔ تینوں بیانات میں انہوں نے کسی کو بھی ملزم نامزد نہیں کیا۔ عدالت نے بھی غالباً اسی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایسا ہی مقدمہ جیسا مشرف کے خلاف درج کرایا گیا ہے۔ اگر بگٹی قتل ہوئے تو ان کے بیٹوں سے مشرف کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرانے میں یہی لوگ آ گے تھے۔ اب ان کو بھی اسی طرح کی صورت حال کا سامنا ہے۔ خالد خواجہ اور کرنل امام کو طالبان نے قتل کرکے ویڈیو جاری کی۔ اس میں وہی الزام دہرائے گئے جو حامد میر نے فون پر ان پر لگائے تھے۔ جو ایک آڈیو ٹیپ کی صورت میں دنیا کے سامنے آ چکے ہیں جس میں میر صاحب یہ کہتے سُنائی دیتے ہیں کہ یہ لوگ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں ان کو معاف نہیں کرنا۔ خالد خواجہ کا بیٹا اپنے باپ کے قتل کا الزام حامد میر پر لگا رہا ہے اور شاید قتل کا مقدمہ درج کرانے میں بھی کامیاب ہو جائے۔ ایسا ہوا تو کسی کو شکوہ کناں نہیں ہونا چاہیے یہ مکافات عمل ہے۔ تاریخ خود کو دہرارہی ہے اور یہی وہی گڑھا ہے جو ان لوگوں کے کسی اور کے لیے کھودا تھا اور اب اس میں خود ہی گر رہے ہیں۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ ہر فرعون جس نے خدا کی عظمت کو ماننے سے انکار کیا اور ہر نمرود جس نے خدائی کے دعوے کیے اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کے نصیب میں ذلت و رسوائی لکھ دی۔ آج خود کو کنگ میکر کہلوانے والوں کہ خلاف آج گلی گلی، نگر نگر پاکستان کی عوام اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور یہی مکافاتِ عمل ہے۔