پرائم منسٹر ان ٹربل اور حل!

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور
پرائم منسٹر ان ٹربل اور حل!

ملکی استحکام، سالمیت، جمہوری نظام کی بقائ، اچھی حکومتی کارکردگی کا فقدان، عوام کے سلگتے سنگین مسائل کا فوری حل آج کی وفاقی حکومت کا کڑا امتحان بن گئے ہیں حامد میر کے ’’فائرنگ سازش‘‘ سے شروع ہونے والے کرائسس Crisis نے حکمرانوں، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور سینئر وفاقی وزراء کے لئے درد سر کا سلسلہ مزید پھیلا دیا ہے قومی منظر نامے میں میڈیا، حکومت، آئی ایس آئی تنازعہ، حکومت اور وردی والے طاقتوروں میں سرد مہری اور پالیسی اختلافات، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ جماعت اسلامی کا حکومت مخالف مہم اور مظاہروں ریلیوں، دھرنوں کا جمہوری نظام مخالف طبل جنگ؟
11 مئی سے سیاسی جماعتوں اور میاں محمد نواز شریف حکومت کا ممکنہ ٹکرائو اور اس کے جمہوری نظام پر منفی اثرات کا امکان دمادم مست قلندر کا بے وقت آغاز؟ عوامی سنگین مسائل میں مہنگائی کے طوفان کے کم نہ ہونے کے امکانات، گرمی سے مرتے اور بلکتے بچوں، بڑوں کو بجلی نہ آنے، بند ہونے سے احتجاجی مظاہروں کا ملک بھر میں شدت اختیار کرنا اور وفاقی حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے۔
وزیر اعظم پاکستان کو بڑے میڈیا گروپ کے خلاف آئی ایس آئی وزارت دفاع کی مشترکہ درخواست پیمرا Pemra کے ادارے کو کارروائی کے لئے دینا بڑا امتحان ہے۔ یہ ایک بہت حساس اور نازک مسئلہ ہے خفیہ ادارے کے سنگین ردعمل اور تحفظات کو دیکھتے ہوئے یہ درخواست پیمرا کو دی گئی اب وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی حکومت میں اگر بڑے میڈیا گروپ کے خلاف نشریات معطل کرنے، بھاری جرمانے، چند اینکرز پر پابندی پر لائسنس منسوخ کرنے کی کارروائی ہوتی ہے تو تمام ملک کا صحافتی طبقہ اسے کسی کی فتخ اور جمہوریت کی شکست یا پارلیمنٹ یا حکومت کا بالادست نہ ہونے کا صحافتی ردعمل دے گا مشرف دور کی چینل پر پابندیوں کے بعد کی میڈیا تحریک کا ٹریلر پھر چلے گا! دنیا کے بڑے ممالک پاکستان میں میڈیا کریک ڈائون، جمہوری ریلے، صحافتی و انسانی حقوق وغیرہ کے سنگین الزامات اور پروپیگنڈہ کی بڑی مہم چلا سکتے ہیں دبائو پھر میاں نواز شریف پر پڑے گا دوسری طرف آئی ایس آئی اور وردی والے گرمی کھائیں اور دکھائیں گے کہ قانونی و آئینی کارروائی Pemra نے کیوں نہیں کیٖ ہماری وردی، ادارے، ملکی سلامتی پر ملک دشمنوں کے ہاتھوں کھیلنے والوں سے معافی تلافی، نیم دلانہ، معمولی سزا کی کارروائی؟ ’’وردی والے طاقتوروں‘‘ اور ’’خفیہ والوں‘‘ کا شدید دبائو بھی پس منظر میں نظر آیا اور آئندہ بھی امکان ہے! اس لئے عوام اور دانشور یہ کہتے ہیں کہ Prime Minister in Trouble ۔
 وزیر اعظم اور پانچ پیاروں کو آئی ایس آئی کے تحفظات میڈیا گروپ یا تمام چینل مالکان سے نئے اخلاقی و قانونی ضابطوں میں تبدیلی یا خود احتسابی نظام کی تشکیل PBA یا CPNE یا PFUI وغیرہ تمام نمائندہ تنظیموں سے مشاورت سے فوراً کرانا ہو گی اور آئندہ بلاثبوت یا ٹھوس ثبوت کسی فوجی، نیم فوجی ادارے کو یا وردی والے حاضر جرنیل کو ’’نشانہ‘‘ نہ بنانے کا System مع اندرونی احتساب یقینی بنانا ہے تاکہ آئندہ کے لئے ملکی استحکام، جمہوری ادارے، جمہوریت ’’دائو‘‘ پر نہ لگیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ’’سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘‘ کا انتہائی مشکل کام حکمت و بصیرت سے انجام دینا ہے تاکہ ’’اندرونی استحکام‘‘ ملک کو نصیب ہو!
وزیر اعظم میاں نواز شریف ’’ان ٹربل‘‘ کا دوسرا منظر نامہ 11 مئی سے تحریک انصاف ، عوامی تحریک، جماعت اسلامی (محدود) کا حکومت مخالف تحریک، دھرنے، ریلی کا اعلان ہونا ہے یہ انتہائی گرم موسم میں بے وقت لگتا ہے! شاید ’’بے وقت کی راگنی‘‘ اسے ہی کہتے ہیں؟ کیا عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، اور سراج الحق صاحبان ملک میں افراتفری، جمہوریت کا مردہ خراب کرنا قومی خدمت سمجھتے ہیں؟
شاید انہوں نے بجلی کے ستائے عوام کا ’’گرم پارہ‘‘ شہر شہر دیکھا ہے اور موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ کہ عوامی جذبات نواز شریف کے خلاف ہیں یہ اسے درست وقت پر CASH کروا کر ’’سیاست سیاست‘‘ کھیلیں گے؟ میاں محمد نواز شریف کو چاہئیے کہ وہ بجلی سے ستائے عوام کو فوراً ریلیف دینے کا فوری حکم دیں اور یہ کام اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے بغیر ناممکن ہے اگر عوامی غصہ آگے چل کر ماردھاڑ شدید ہنگاموں اور تحریک میں بدل گیا تو پھر ’’کام خراب‘‘ ہوتا نظر آتا ہے۔ملک کو ہنگاموں تحریک سے بچائیں۔ ایندھن کے جہاز فوراً منگوائیں اور بند پڑے بجلی گھر جلوائیں! بجلی بند کرنے کا دورانیہ 6 گھنٹے کم ہو سکتا ہے! بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ ہرگز نہ ہونے دیں یہ سیاسی خودکشی ہو گا! سبسڈی جاری کریں اکتوبر تک ’’رمضان‘‘ کے روزے گزرنے دیں نا اہلی کی بھی کوحد Red Line نہیں ہوتی؟ بے روزگاروں کو نیشنل بینک کے منظور شدہ قرضے فوراً دیں اور جلد از جلد تمام کو دیں اور فوری عمل کریں ورنہ…