پاکستان کس کا ہے؟

پاکستان کس کا ہے؟

احمد حماد
آمریتوں میں پاکستان کے حالات تیزی سے ابتری کی طرف جاتے رہے۔ جمہوریت میں دھیرے دھیرے ہی سہی ، بہتری کی طرف سفر شروع ہوتا رہا۔ بہتری کا یہ سفر نظر کیوں نہیں آتا؟ وجہ یہ ہے کہ مکان گرتا ہے تو بہت دھول آڑتی ہے ۔اس قوم نے جمہوریت کی خاطر اپنے محبوب رہنمائوں کو مقتل کی طرف جاتے دیکھا۔ انہیں ہتھکڑیوں میں دیکھا، جلا وطن ہوتے دیکھا۔ مگر حوصلہ ہارنے کے بجائے ہر بار پہلے کی نسبت زیادہ قوت اور جوش سے جمہوری عمل میں حصہ لیا کیا۔
اسکے بعد دو ہزار تیرہ کے انتخابات کا ٹرن آئوٹ ملاحظہ کیجئے۔ اگر ملک کو اندھیروں میں ڈبوئے رکھنے والی پیپلز پارٹی کی نا اہل حکومت نے پاکستانیوں کو جمہوریت سے بددل کر دیا ہوتا، تو کیا ایسا تاریخی ٹرن آئوٹ ہوتا؟ حالیہ دنوں میں حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد ہمارے ملک کے طاقتور اداروں نے جو روش اختیار کی ہے اس پر تھوڑی ہی دور تک چلنے کے بعد ایک خطرناک موڑ آ سکتا ہے جو میڈیا، فوج، حکومت اور عام پاکستانیوں کو ایسی بند گلی میں لے جائیگا جہاں خدانخواستہ سب باہم دست و گریباں ہوئے ملیں گے اور کسی بڑے نقصان کا سامان کرتے دکھائی دینگے۔ ہمارے خیال میں اس چپقلش کے کم از کم چار فریق ہیں۔ میڈیا، فوج، حکومت اور عوام۔ آئیے فرداً فرداً کا جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا اور آئندہ کیا کرنا چاہئیے۔ میڈیا نے اپنی ریٹنگ بڑھانے اور حاصل شدہ اشتہارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کیلئے فوج اور حکومت کے درمیان معمولی اختلاف رائے کو ملکی تاریخ کے د وسرے بڑے تنائو کی شکل میں پیش کیا۔ یہ پرویز مشرف کے وکلاء کی پہلی، اور یقیناً آخری کامیابی تھی کہ وہ عوام میں میڈیا کے ہیجان انگیز لوگوں کے ذریعے یہ تاثر قائم کرنے میں کسی حد تک کامیاب رہے کہ پرویز مشرف کے پیچھے پوری فوج کھڑی ہے۔ اور یہ کہ پرویز مشرف کہ قانون کا اطلاف گویا فوج کی تذلیل کرنے کی گھنائونی سازش ہے۔ مشرف کے زمانے کا ہیرو، جیوٹی وی آج زیرو بنا اپنی صفائیاں پیش کرنے پر مجبور ہے۔ دوسری طرف ہماری ایجنسیاں ہیں۔ ہم سب اپنی ایجنسیوں کو اپنی لائف لائن مانتے ہیں ہم اپنے گمنام شہیدوں کو اپنی دعائوں کا حصہ بناتے ہیں۔ اور انکے خاندانوں کے احسانوں تلے دبے ہوئے ہیں۔
یہ ایجنسیاں نہ ہوتیں تو آج پاکستان، خاکم بدہن، بکھر چکا ہوتا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں ایجنسیوں نے آئین سے ماوراء کچھ ایسے کام بھی کئے جنہیں عوام میں پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ تیسرا فریق حکمران ہیں۔ روسی شاعر پشکن نے کہا تھا کہ نوجوان اپنے بزرگوں کا ہر گناہ معاف کر سکتے ہیں مگر بزدلی کو معاف نہیں کر سکتے۔ حکمرانوں نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر آئین کشن پرویز مشرف کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے تو آئین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے کہے اور کئے پر اب قائم بھی رہیں۔ انہیں بیرون ملک نہ جانے دیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ نواز شریف نے فوج کا غیر آئینی دبائو کبھی قبول نہیں کیا۔ ایک بار پھر حکومت اور فوج بظاہر آمنے سامنے آ کھڑے ہیں تو میاں صاحب کو تدبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ چوتھا فریق عوام ہیں اور یہی اصل اسٹیک ہولڈر ہیں۔ اس مسئلے میں سب سے زیادہ اہم کردار انہی کا ہے کہ انہی کے ٹیکس سے حکومتیں چلتی ہیں فوج کو تنخواہ ملتی ہے اور انہی کے پیسوں پر میڈیا کا دارومدار ہے۔ پاکستان کے اصل مالک عام پاکستانی ہیں سوا انہیں سب سے زیادہ بیدا رہنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جارج آرویل کی بھیڑیں نہیں بلکہ اس ملک کے اصل مالک ہیں۔