لاہور پولیس میں کرپشن کی منڈی

لاہور پولیس میں کرپشن کی منڈی

کچھ عرصہ پہلے تک لاہور میں کوئی بھی شخص اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ پولیس مقدمات کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی منڈی لگا کر بیٹھ جائے گی۔۔۔آج سے چند سال پہلے پولیس میں تفتیش کا موجودہ نظام متعارف کراتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ نئے تفتیشی نظام کے ذریعے انگریز دور کے فرسودہ اور ظالمانہ قانون کا خاتمہ کردیا گیا ہے جس کے تحت ایس ایچ او کے اختیارات کی حد متعین نہیں کی جاسکتی،،نئے نظام کی بدولت اگر پولیس نے کسی شہری کی ساتھ ناانصافی کی یا اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر بھی دیا تو مذکورہ شہری کو نئے تفتیشی نظام کی بدولت فوری انصاف مل سکے گا،،ایس ایچ او کی فرعونیت اور اس کے اختیارات میں بھی کم آئے گی۔۔ ایسا ہوسکا ہے یا نہیں اس کے بارے میں تو پولیس افسران ہی بہتر جانتے ہوں گے لیکن لاہور میں تعینات ایماندار افسروں کی ناک کے نیچے رشوت کی منڈی لگنے کے حوالے سے وہ یقینی طور پر مکمل معلومات نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ تفتیشی افسر اور ایس ایچ او برآمدگی کے مال کو بحق سرکاری ملازم کھلے بندوں ضبط کرکے اپنے تصرف میں لارہے ہیں اور انھیں کوئی پوچھنے والا بھی نظر نہیں آرہا۔ گرین ٹاون میں جعلسازی کے ایک مقدمے کے ملزم اور فیصل ٹاون کے ایک مقدمے کے ملزم کی گاڑیاں ایس ایچ او صاحبان کے زیر استعمال ہیں جبکہ گاڑیوں کے مالکان کو ان کی واپسی کے لیے ادائیگی کا مشورہ سمجھ نہیں آرہا۔ سی سی پی او آفس میں تعینات ایک اہلکار ایک سود خور کی سفارشیں کرکے اسپیشل برانچ کے ایک انسپکٹر کے گھر کے برتن تک بکوا چکا ہے لیکن پھر بھی اس کی جان نہیں چھٹ سکی، گلبرگ کے رہائشی صاحب اپنی گاڑی چوری ہونے کے بعد اینٹی کار لفٹنگ اسٹاف میں سالہا سال سے تعینات سب انسپکٹر کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ دیکر اپنی گاڑی اگلے روز ہی واپس لے آئے اور جو شہری ادائیگی نہیں کرسکے انھیں عرصہ دراز سے دعا کا مشورہ دیا جارہا ہے،،کار چوروں کو پکڑنے پر مامور اہلکار ان چوروں کے دلالوں کے ایجنٹس کا کام کررہے ہیں لیکن کسی کو بھی یہ جرم ،جرم نہیں لگتا،،حال ہی میں امریکہ پلٹ ایک شہری جنوبی چھاونی کے علاقے میں ڈاکووں کے ہاتھوں لٹنے کے بعد سی سی کیمروں کی فوٹیج اور ڈاکووں کی نشاندہی ہونے کے بعد پولیس کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں لیکن کوئی بھی پولیس افسر ڈاکووں کو گرفتار کرنے کے لیے وقت نکالنے کے لیے تیار نہیں،،سی آئی اے لاہور میں تعینات ایک ڈی ایس پی ایک بین الاضلاعی گینگ کو گرفتار کرنے کے بعد کریڈٹ کسی دوسرے افسر کو دینے سے انکار کے بعد افسر بکار خاص کے عہدے پر تعینات ہوچکے ہیں۔۔بلامبالغہ لاہور میں کلیدی عہدوں پر ایماندار افسر تعینات ہیں لیکن کیا وہ اپنی ناک کے نیچے موجود کرپٹ اہلکاروں کی تطہیر کرکے عوام کے دکھوں میں کمی نہیں لاسکتے؟؟