آئی ایس آئی پر ہی الزامات کیوں…؟

کالم نگار  |  طاہر جمیل نورانی
آئی ایس آئی پر ہی الزامات کیوں…؟

میڈیا کی آزادی اب کہاں تک قائم رہ سکے گی؟ آزادی صحافت کا لفظ واقعی آئندہ استعمال ہو گا یا رفتہ رفتہ خود ہی داغِ مفارقت دے جائے گا؟ وہ بنیادی سوال ہیں جو حامد میر قاتلانہ حملے کے بعد اٹھائے جا رہے ہیں۔پرڈکشنز اور باتیں بہت سننے کو مل رہی ہیں مگر یہ عقدہ بدستور اپنی جگہ قائم ہے کہ حامد میر کو گولیوں کا آخر کیوں نشانہ بنایا گیا اور اس خونی واقعہ کے پس پردہ آخر کون سے عوامل کار فرما تھے۔
بتایا گیا ہے کہ حامد میر نے ہوش میں آتے ہی جو بیان دیا ہے اس میں ان کا کہنا ہے کہ قاتلانہ حملے سے قبل انہوں نے اسلام آباد پولیس کو دھمکیاں دینے والوں کے فون نمبر دے دیئے تھے مگر اسلام آباد پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی؟ جب کہ دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حامد میر نے دھمکی آمیر کالز کے بارے میں تفصیلات پولیس کو نہیں بتائی تھیں اس لئے حامد میر کا یہ بیان حقائق پر مبنی نہیں بقول پولیس جب یہ بیان ہی حقائق پے مبنی نہیں تو انصاف ملنا یا نہ ملنا تو آگے کا معاملہ ہے۔ حامد میر کے ہوش میں آنے کے بعد ان کی جانب سے جاری کردہ اس باضابطہ بیان کا اگر جائزہ لیا جائے تو صاف عیاں ہے کہ خود کو درپیش خطرات کے بارے میں انہوں نے جیو انتظامیہ، خاندان کے افراد اور قریبی دوستوں کو پہلے آگاہ کر دیا ہوا تھا اپنے بھائی کے علاوہ انہوں نے کچھ قریبی ساتھیوں کو بھی یہ بتا دیا تھا کہ انہیں اگر کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ مگر تمام تر خدشات کے باوجود انہیں گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا اور الزام فوج پاکستان کے مبینہ انٹیلی جنس پر تھوپ دیا گیا حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملہ پر اندرون اور بیرون ملک ہر شخص کو دلی دکھ اور صدمہ پہنچا ہے کسی صحافی سے اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ اسے قتل کر دیا جائے دیگر قومی اداروں کی طرح میڈیا کا احترام بھی ہر حال میں ضروری ہے مگر افسوس اس بات پر کہ حامد میر کی جس ادارہ سے وابستگی ہے اس نے بغیر کسی جامع تحقیق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر السلام اور پبلک ریلشنز کے ڈائریکٹر جنرل پر مبینہ الزام لگا دیا جسے بھارتی میڈیا نے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہوئے پاکستانی فوج کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی کر دی اور یوں آزادی صحافت اب ایک ایسے موڑ پے پہنچ چکی ہے جہاں قومی اداروں کی رسوائی کو ایک سیاسی تماشا تصور کیا جانے لگا ہے؟ جس ادارہ سے حامد میر کی وابستگی ہے اس ادارے نے ایک ایسا کام کر دکھایا جس کے لئے تحقیقات ناگریز ہے۔ ادارے کو الزامات کی نوعیت کو سمجھنا ضروری تھا افواج پاکستان کے حساس ادارے پر فوراً الزام عائد کر کے اسے بدنام کرنے سے قومی سلامتی کی توہین ہوئی جس سے قوم کو شدید دھچکا لگا ہے سوالات اب کئی اٹھ رہے ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے نہیں آ جات کہ حامد میر پر کئے جانے والے قاتلانہ حملے کے بعد وزیر اعظم ڈاکٹر محمد نواز شریف اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ چھاڑ کر ان کی تیمار داری کے لئے فوراً کراچی پہنچ گئے اور ساتھ ہی میڈیا کی آزادی پر کسی بھی قسم کے حرف نہ آنے کے عزم کا اعلان کر دیا وزیر اعظم بھول گئے یا انہیں ان کے مشیروں نے جان بوجھ کر ’’بھلوا ‘‘ دیا کہ وہ صحافی اور اینکرز جنہیں گزشتہ بیوستہ اور اس سے بھی پہلے دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ان کے اہل خانہ کو بھی کسی نے کبھی دلاسہ دیا ہے یا نہیں۔ جن ماوئوں کے بیٹے اپنی پیشہ ورانہ ڈیوٹیوں پر شہید کر دیئے گئے ان کے گھروں میں بھی کس حاکم اعلیٰ نے کبھی ’’وزٹ‘‘ کیا یا نہیں۔ حکومت کی ایسی پالیسیوں سے ہی عوام میں منفی سوچ کا عنصر نمایاں ہوتا ہے جس سے ادارے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی تھی کہ آئی ایس آئی پر بغیر تحقیق الزام لگانے سے قبل Fect Finding کمیٹی بنائی جاتی جو سپیڈی تحقیق کے بعد اس قاتلانہ حملے کی رپورٹ پیش کرتی پیمرا کی ضرورت تو اس وقت محسوس ہونی چاہئیے تھی جب حکومت کا موقف مختلف ہوتا؟ وزیر اعظم نے گو اب 3 فاضل ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا ہے مگر آیا حامد میر کوانصاف ملے گا یا نہیں جس ادارے سے وہ وابست ہیں اس ادارے کی مکمل انکوائری ہو سکے گی یا نہیں وہ سوالات ہیں جن کے جواب کے لئے یقیناً ایک عرصہ درکار ہو گا۔انصاف کا تقاضا تو اب یہ ہے کہ افواج پاکستان کے حساس شعبہ کو بدنام کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے ورنہ محض میڈیا گروپوں کو لڑانے کی پالیسی اپنا کر آزادی صحافت پر کسی بھی قسم کے حرف نہ آنے کے عزم سے اس قومی ادارے کو مطمئن کرنا ممکن نہ ہو سکے گا۔